جواب اس نے جلدي جلدي کپڑے دھو کر تار پہ لٹکاے تھے. کھانا بنا ہوا تھا.جھاڑو بھی لگا لی تھی.منے کو نہلا کر ابھی صحن میں بیٹھایا تھا.وہ ابھی چلنا شروع ہوا تھا.ہر وقت دھیان ہی رکھنا پڑتا تھا.بڑا بیٹااسکول سے گھر آیا تو جلدی جلدی کپڑے بدلاے.منہ ہاتھ دھو نے کا کہہ کر وہ کچن میں آئ.وہ روٹی بنا کر فارغ ہوئ تھی کہ میاں صاحب گھر میں گھسے .چھوٹابیٹا کیاری میں گھسا مٹی سے کھیل رہا تھا.ٍسارے کپڑوں اور منہ پہ مٹی مل لی تھی جبکہ بڑا بیٹا منہ ہاتھ دھو کرٹونٹی کھلی چھوڑ آیا تھا.چھوٹے نے مٹی اٹھا اٹھا کر صحن میں بھی پھینکی تھی.تبھی دھلا ہوا صحن بھی گندا لگ رہا تھا.صفدر نے دروازہ دھاڑ سے مارا. ایک تو سکون کے لیے گھر آؤ وہ بھی ادھر میسر نہیں. اس نے جلدی سے سالن روٹی میز پہ رکھی. پھوہڑ عورت کرتی کیا ہو سارا دن؟ روز اس سے ایک ہی سوال پوچھاجاتاجس کا جواب اسے کبھی نہیں آتا تھا. وہ بس آسمان کی طرف دیکھ کر رہ گئ. سارہ عمر
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings