Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2018

جواب

جواب اس نے جلدي جلدي کپڑے دھو کر تار پہ لٹکاے تھے. کھانا بنا ہوا تھا.جھاڑو بھی لگا لی تھی.منے کو نہلا کر ابھی صحن میں بیٹھایا تھا.وہ ابھی چلنا شروع ہوا تھا.ہر وقت دھیان ہی رکھنا پڑتا تھا.بڑا بیٹااسکول سے گھر آیا تو جلدی جلدی کپڑے بدلاے.منہ ہاتھ دھو نے کا کہہ کر وہ کچن میں آئ.وہ روٹی بنا کر فارغ ہوئ تھی کہ میاں صاحب گھر میں گھسے .چھوٹابیٹا کیاری میں گھسا مٹی سے کھیل رہا تھا.ٍسارے کپڑوں اور منہ پہ مٹی مل لی تھی جبکہ بڑا بیٹا منہ ہاتھ دھو کرٹونٹی کھلی چھوڑ آیا تھا.چھوٹے نے مٹی اٹھا اٹھا کر صحن میں بھی پھینکی تھی.تبھی دھلا ہوا صحن بھی گندا لگ رہا تھا.صفدر نے دروازہ دھاڑ سے مارا. ایک تو سکون کے لیے گھر آؤ وہ بھی ادھر میسر نہیں. اس نے جلدی سے سالن روٹی میز پہ رکھی. پھوہڑ عورت کرتی کیا ہو سارا دن؟ روز اس سے ایک ہی سوال پوچھاجاتاجس کا جواب اسے کبھی نہیں آتا تھا. وہ بس آسمان کی طرف دیکھ کر رہ گئ. سارہ عمر

Eid mubarak

Asalmoalikum Eid mubarak to everyone. May Allah accept our prayers in this Holy month and accept our good deeds ameen.

پاکستان بننے کی یادیں

بچپن کی یادیں بہت خوشگوار ہوتی ہیں۔ایسے ہی سردیوں میں رضائی میں گھس کر ہم اپنی دادی کے پاس بیٹھے رہتے۔ہماری دادی کے انتقال کو تین سال ہوئے ہیں اور تقریبا انکی عمر نوے سال ہوگی۔بس ساری زندگی انہوں نے ہمیں خوب قصے سنائے۔ہم ڈھیر سارے کزن اکھٹے ہوتے اور کہتے دادی انڈیا کے قصے سنائیں۔انڈیا کے وقصے سنانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔وہ سناتی اور ہم سنتے رہتے۔ دادی نے اپنے سامنے پاکستان بنتے دیکھا تھا۔دادا نے علی گڑھ یونیورسٹی سے پڑھا تھا اور جب پاکستان بنا تب انکے تین بچے تھے۔دادی کا گھر تاج محل کے پاس تھا اور تاج محل کے اتنے قصے سننے ہیں کہ ایک کتاب ہی لکھ لی جائے۔وہ اس کے باغوں اور خوبصورتی کا بہت ذکر کرتیں۔ دادا چونکہ آرڈیننس فیکٹری میں تھے سو انکا پہلے ٹرانسفر بنگلہ دیش یعنی مشرقی پاکستان ہوا اور پھر مغربی پاکستان میں ہو گیا۔ دادی اکثر بتاتی تھیں کہ جب ہم پاکستان جا رہے تھے تو ٹرینوں کی ٹرینیں لوگوں کی لاشوں سے بھری ہوئی تھیں۔خوب خون بہا۔خون کی ندیاں بہائی گئیں۔انہی بھی جس ٹرین میں بٹھایا بعد میں کسی دوسری ٹرین میں سوار کرایا گیا۔بعد میں پتہ چلا پہلی والی ٹرین منزل پہ نہ پہنچ سکی کیونکہ مس...

بکرا کہانی

بقرہ عید کی آمد ہو تو بس ہر طرف بکرا بکرا ہو جاتا ہے۔جب عید میں دس دن رہتے ہیں تو کسی کے بکرے چوری ہو جاتے۔کسی کا بیل بھاگ جاتا۔قربانی کے وقت تو اکثر ہی بیل رسی توڑوا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔ یہی اس عید کی خوبصورتی ہے۔ایسا ہی واقعہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ پیش آیا۔میں اور ابو گاڑی میں گھر جا رہے تھے۔دوپہر کا وقت تھا اور جی ٹی روڑ پہ عین بیچ میں گاڑی چل رہی تھی جب ایک عدد گائے بیچ سڑک میں بھاگتی ہوئی ہماری طرف آنے لگی۔ہماری گاڑی چونکہ لال تھی تو میں ڈر گئی۔پیلی بھی ہوتی تو گائے سے ٹکرا کر کدھر جاتی۔ہم نے چلانا شروع کر دیاگاڑی سائڈ پہ کریں۔گاڑی سائڈ پہ کریں۔شکر ہے وہ ایک معصوم سی گائے تھی جو دوڑتی دوڑتی ہماری گاڑی کے ساتھ سے گزر گئی۔یقینا اگر بیل ہوتا تو جاتے جاتے بھی ٹکر مار کر جاتا۔تب ہمارا روکا ہوا سانس بحال ہوا۔ دوسرا واقعہ تب کا ہے جب ہمارے کزن حج پہ گئے اور اپنی ڈیڑھ سال کی بیٹی دادی کے پاس چھوڑ گئے۔میں اور ابو اسے گھر لیجانے کے لیے آئے۔راستے میں ابو کو دوائی لینی تھی تو ایک میڈیکل سٹور کے باہر گاڑی روکی بالکل کھمبے کے ساتھ۔انہیں پتہ نہیں تھا کہ کھمبے کے ساتھ بکرا بندھا ہے۔جو نواب نیچے بیٹھ...

تیرے سنگ

100 لفظی تیرے سنگ۔۔ کیپٹن ولید سرور گھر میں داخل ہوئے تو پہلی نظر لاؤئج میں بیٹھی اپنی ماں پہ پڑی تھی۔آج ان کے والد کی برسی تھی تبھی وہ چھٹی پہ آئے تھے۔وہ دھیرے سے ماں کے قدموں میں بیٹھے اور ماں کے ہاتھ کا بوسہ لے کر آنکھوں سے لگایا تھا۔ماں نے بھی ان کی پیشانی چومی تھی۔کیپٹن ولید نے کھڑے ہو کر کرنل سرور کی بڑی سی تصویر کو جاندار سلوٹ مارا تھا۔ماں کی آنکھ سے دو موتی نکل کر ہاتھ میں پکڑی وردی میں جذب ہو گئے تھے۔آج وہ نہ ہو کر بھی وہیں موجود تھے۔ تحریر سارہ عمر

دوسری شادی

دوسری شادی یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پہ بحث لا حاصل ہے۔جو مرضی بحث کر لو مثبت سوچ والے کئی دلیلیں دیں گے اور منفی سوچ والے یا مخالف کسی ایک بات پہ اڑے رہیں گے۔ان دو لفظوں کو اگر سمجھنا ہے یا بحث کرنی ہے تو پہلے اپنے آپ کو غیر جانبدار بنا لیں۔یعنی اب آپ نہ مردوں کی طرف ہیں نہ عورتوں کی طرف اب بس آپ نے دونوں کے موقف سننے ہیں۔ جب آپ نے ایک فیصلہ کرنا ہو ایک رائے قائی کرنی ہو تو ایک قاضی کی طرح دونوں فریقین کا موقف بغیر ان کی طرفداری کیے سننا ہے۔حقیقت جاننے کے لیے دونوں فریقین کو صفائی کا موقع دیا جاتا ہے۔۔ چلیں پہلے موقع دیتے ہیں مرد حضرات کو۔۔۔۔ اگر کسی بھی مرد کے پاس آپ بیٹھیں اور اس موضوع کا ذکر کریں تو ہر مرد ہی نہایت خوش نظر آئے گا۔بالکل ایسے وہ جوش و خروش سے بات کرتے نظر آئیں گے جیسے ان کی بیوی ان کے فرائض سے غافل ہے یا پھر ان کو توجہ نہیں دیتی۔۔۔یہ تو وہ موضوع ہے جس پہ بڑے بڑے کم گو اور خاموش طبع مرد حضرات بھی بحث کرتے اور ہلکا ہلکا تبسم فرماتے دیکھائی دیتے ہیں۔۔ اب ان تمام حضرات سے سوال کیا جائے کہ دوسری شادی کا موقع ملے تو کیا کریں گے تو مختلف نوعیت کے جوابات سنائی  دیت...

یمامہ کی سیر۔

ویسے تو ہمیں سفر کرنا اور گھومنا پھرنا بہت ہی پسند ہے لیکن پانی سے ہمیں کچھ خاص ہی عشق ہے۔بس دل کرتا ہے جہاں پانی دیکھو وہاں ڈوبکی لگا لو اور ہمارے شوہر نامدار بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔جہاں پانی دیکھتے ہیں اپنے کپڑے بچا کر سائڈ پہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ جاو اور کر لو اپنے شوق پورے میرے اوپر چھینٹا بھی نہ آئے۔۔ تو ایسے ہی ایک دن پلان بنایا یمامہ ریزوٹ جانے کا۔یہ ایک واٹر پارک ہے اور ریاض سے 51 کلو میٹر پہ واقع ہے۔یہ چونکہ الخرج کی چیک پوائنٹ کے پاس ہے جو کہ ایک دوسرا شہر ہے سو اقامے کے بغیر سفر نہیں کیا جا سکتا۔ (سعودیہ میں شہر سے باہر جانے کے لیے اقامہ ضروری ہے کیونکہ جگہ جگہ پولیس والے راستہ روکے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔سو اقامہ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ہر جمعے کو یہاں چھٹی ہوتی ہے سو ہم صبح صبح اٹھ کر ہی تیاریوں میں لگ گئے۔کھانا بنایا،بچوں کے کپڑے رکھے،نہانے والی ٹیوب رکھی،بڑے بیٹے نے کھیلنے کے لیے فٹ بال رکھی۔ پہلے جمعے کی تیاری کی یعنی بچوں کو نہلا کر ثوب(عربی لباس) پہنائی۔بڑا بیٹا چھ سال کا ہے جو الحمد اللہ مسجد جاتا ہے لیکن چھوٹا ابھی ڈیڑھ سال کا ہوا ہے اسے صرف بھائی کے پی...

میرا پہلا عمرہ

یہ آج سے کوئی ساڑھے چار سال پہلے کی بات ہے جب میں وزٹ پہ سعودیہ آئی اور اپنا پہلا عمرہ کیا۔۔سفر کو قلمبند کرنے کا سوچا تو پہلا خیال یہی آیا کہ وہ سفر لکھوں گی۔۔۔ جس دن سے آئی تھی اس دن سے عمرے کا بیگ تیار تھا کہ کب جانا ہو۔اس وقت میرا بڑا بیٹا نو دس ماہ کا تھا۔ساس سسر کے ساتھ ہم سفر پہ روانہ ہوئے۔۔سارے راستے پیٹرول بھروانے اور کھانے پینے روکتے رہے۔۔بس سعودیہ میں سفر میں بس ریت ہی ریت صحرا ہی صحرا پہاڑ ہی پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔۔بہرحال رات طائف پہنچ کر ہوٹل لیا اور سو گئے۔صبح وہیں سے احرام پہنا اور نیت کر کے سفر پہ روانہ ہوئے۔ طائف میں مختلف ہوٹل بنے ہوئے ہیں اور دکانیں بھی ہیں لوگ آرام کی غرض سے ادھر رکتے ہیں۔اکثر لوگ ادھر سے احرام باندھتے باقی میقات پہ پہنچ کر پہنتے۔۔طائف کی میقات کو سیل الکبیر کہا جاتا ہے۔یہ مکہ سے 75 کلو میٹر دور ہے۔ حالت احرام میں مکہ کی جانب روانہ ہوئے گاڑی میں لبیک اللہ کی صدائیں گونج رہی تھیں اور دل اللہ کے گھر کو دیکھنے کو بے قرار تھا۔۔ مکہ میں داخل ہوتے ہی کلاک ٹاور دور سے نظر آتا ہے۔۔۔سڑک پہ بڑی سی اسکرین پہ کعبہ کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔۔گاڑی پارکنگ میں ک...

انصاف my winning story

Winner For Short Story Competition by YWWF Karachi Chapter Category Urdu: Sara Omer's          انصاف A thought provoking piece on social justice, this story is extremely well-written and will definitely make your heart bleed. سکینہ ادھر آؤ.بیگم صاحبہ نے اسے آواز دی تو وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر  ہو گئی۔حالانکہ ابھی اس نے کچن میں برتن دھونے شروع ہی کئے تھے۔اس نے جلدی جلدی اپنے دوپٹے سے اپنے ہاتھ صاف کئے۔ جی بیگم صاحب!                                       ہاں سکینہ آج ذرا موٹر چلا کے اس کے پانی سے پورچ دھونا دیکھو کل آندھی آئی ہے کتنی مٹی پڑی ہے۔کل نھی تم نے صحیح طرح صاف نہیں کیا تھا گاڑی کے ٹائر کے نشان نہیں گئے تھے۔آج ان کے کوئی مہمان آ رہے تھے تبھی ان کی ہدایتیں ختم نہیں ہو رہی تھیں۔عام دنوں میں بھی وہ خوب دھلائی صفائی کرواتی تھیں مگر آج تو ہدایت تھی ٹائلوں میں اپنا منہ نظر آنا چائیے۔ جی بہتر۔وہ اتنا کہہ کر واپس جانے لگی تو انہیں کوئی اور ہدایت یاد آ گئی۔...

میری ذات زرہ بے نشاں

آج بالاخر اسے میری ضرورت پڑ ہی گئی۔۔کتنی عجیب بات ہے جب اسے میری ضرورت ہوتی ہے تبھی مجھے یاد کرتا ہے ورنہ اسے زحمت نہیں ہوتی کے مجھے یاد کر لے اور تو اور سب لوگوں سے بھی میری برائی کرتا ہے کہ مجھ سے واسطہ نہ ہی پڑے تو اچھا ہے کیوں بھئی مجھے کیڑے لگے ہوئے ہیں کیا؟ بس انسان ہے ہی نا شکرا جو مصیبت میں اس کے کام آتا ہے راحت میں اسے ہی بھول جاتا ہے۔ تکلیف میں اسے سب سے پہلے میری ہی یاد آتی ہے میں ہی اسے سکون پہنچاتی ہوں مگر وہ مجھ سے ہی بھاگتا رہتا ہے آخر کتنا بھاگے گا آئے گا تو آخر میرے ہی پاس ناں۔۔ ارے ارے وہ آ رہا ہے۔۔۔مجھے بہت خوشی ہو رہی ہے اس کے کام آ کر مجھے خوشی ہی ملتی مگر وہ کھا کر کبھی خوش نہیں ہوتا۔۔دوائی ہوتی ہی اتنی کڑوی چیز ہے۔۔۔

میں اور سمیر

میرا اور اسکا ساتھ تب کا ہے جب وہ پیدا ہوا۔میں پہلے دن سے اس کے ساتھ تھی وہ اور اس کی امی مجھے بہت غزیز رکھتے ہر وقت ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے۔کبھی مجھے گھر بھول جاتے تو واپس لینے کے لیے آتے۔۔سمیر تو میرے بغیر ایک لمحہ نہیں رہ سکتا تھا میں اس کی پکی ساتھی جو تھی۔۔ جب وہ میرے ساتھ باہر جاتا تو لوگ کہتے کے اسے پھینک دو یہ تمہیں نقصان ہی پہنچائے گی تو میرا دل ٹوٹ جاتا۔۔ کبھی جو میں گم ہو جاتی تو سمیر رو رو کے سارے گھر میں مجھے تلاش کرتا۔۔اس وقت مجھے اپنی اہمیت کا احساس شدت سے ہوتا۔۔۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب سمیر دانت نکالنے لگا تب وہ مجھے کاٹتا رہتا مگر یہ ظلم بھی میں چپ چاپ سہتی رہی۔وقت گزرتا رہا اور سمیر کی امی کو میں کھٹکنے لگی۔۔ وہ اب مجھے سمیر سے دور کرنا چاہتی تھی مگر وہ راضی نہ ہوا۔۔۔تنگ آ کر سمیر کی امی نے مجھے چولہے پہ رکھ کر میرا منہ جلا دیا۔۔۔میں بہت روئی چیخی چلائی۔۔۔کسی نے ایک نہ سنی۔۔ سمیر نے بھی میرا بھیانک چہرہ دیکھا تو دوبارہ چوسنی نہ لینے کی قسم کھا لی۔۔۔اب میرا جلا ہوا وجود ایک کچرے کے ڈھیر پہ پڑا ہے اور میں سمیر کے گھر میں گزارے خوبصورت لمحے یاد کرتی رہتی ہوں۔

غم

انسان کی زندگی میں غم بھی ہیں اور خوشیاں بھی۔ہر کوئی ہمیشہ خوش رہنا چاہتا ہے لیکن ایسا ممکن نہیں۔میں سمجھتی ہوں اگر زندگی میں غم نہ آئیں تو ہم کبھی خوشی کی قدر نہ کر سکیں۔غم یا دکھ استاد ہے جو ہمیں سکھاتا ہے وہ غلطیاں جو ایک دفعہ کیں ہیں اگلی بار نہ کریں۔۔کہیں شکست کھائیں تو بار بار محنت سے کیسے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔۔ کبھی کسی کے دور جانے کا آپ کو گھائل کر دیتا ہے مگر اس وقت میں اپنے پرائے کا چہرہ واضح ہو جاتا ہے۔۔۔کبھی کسی اپنے سے لڑائی ہو جائے تو ہم دکھ میں گھر جاتے ہیں مگر اس کے بعد ہمیں خود سے چلنا آ جاتا ہے بغیر کسی کی انگلی پکڑے۔۔ دنیا میں ترقی کرنے والے کئی افراد نے زندگی میں سوائے مشکلات کے کچھ نہیں دیکھا۔ اس لیے ان غموں پہ صبر کریں اور خوشی آنے پہ اپنے رب کا شکر تاکہ وہ ہمیں صابریں اور شاکرین میں لکھ دے آمین۔

وہ لڑکی

دکھوں میں آنکھ جو کھولی تھی وہ لب سے کچھ نہ بولی تھی خود چپکے چپکے رو لی تھی وہ لڑکی کتنی بھولی تھی تارے جس کے ہم جولی تھی آتش جس کی بولی تھی وہ لڑکی کتنی بھولی تھی وہ لڑکی کتنی بھولی تھی