Skip to main content

Posts

امرتسر سے لاہور

 امرتسر سے لاہور  سارہ عمر اس داستان کا آغاز امرتسر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سلطان پور سے ہوا تھا۔سہیل احمد نے جب سے آنکھ کھولی تھی برصغیر پاک و ہند میں ہندؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر دیکھا تھا۔کچھ علاقے تھے جہاں کچھ نہ کچھ فساد چلتے رہتے۔انگریزوں نے تو ہندؤں اور مسلمانوں کو اپنی طاقت سے زیر کر رکھا تھا۔جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا اسے اس ریاست کے حالات سمجھ آنے لگے تھے۔وہ مسلمان تھے، سو وہ دوہرے غلام تھے۔انگریزوں کے بھی اور ہندؤں کے بھی۔زمین، اناج پہ سارا قبصہ انگریزوں کا تھا۔حکومت ان کی تھی۔سو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کے تحت جو سرکشی کی کوشش کرتا،وہ بری طرح آمریت کے قدموں تلے کچلا جاتا۔ہندو تو اپنی چالاکی، چاپلوسی اور اچھی تعلیم کے توسط سے کچھ بہتر عہدے حاصل کر پائے تھے تبھی مسلمان دھیرے دھیرے اس سیاست اور تحریک کو سمجھنے لگے۔ الگ مملکت اور ریاست کا قیام وہ خواب تھا جو اقبال نے دیکھا تھا لیکن اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا جان جوکھوں کا کام تھا۔وہ چھوٹا سا تھا جب اپنے والد اور دادا کو مسلم لیگ کے جلسوں میں شرکت کرتے دیکھتا۔وہ گھنٹوں مستقبل کے متعلق باتیں کرتے ...

انٹرویو شہزادی ہدی انجم

 انٹرویو  مصنفہ و مدیرہ شہزادی ہدی انجم  میزبان: سارہ عمر  ہمارے اردگرد ایسے گم نام ہیرے موجود ہیں جنہیں تلاشنے کی ضرورت ہے۔ان کی چمک دمک صرف مخصوص حلقے تک ہی محدود ہے۔تبھی آج ہم آپ کو ایک ایسے ہیرے سے ملوانے جا رہے ہیں جنہوں نے بہت کم عرصے میں اپنا نام منوایا۔یہ نا صرف ادب اطفال کے حوالے سے کافی مشہور و معروف لکھاری ہیں بلکہ ادب عالیہ میں بھی اپنا نام بنا چکی ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئے قارئین کے لیے یہ نام اتنا جانا پہچانا نہ ہو مگر حال ہی میں جگنو کی نائب مدیرہ کا عہدہ سنبھالے والی شہزادی ہدی انجم گزشتہ چار پانچ سالوں سے افسانے اور بچوں کی کہانیاں وغیرہ لکھ رہی ہیں۔یہ تین کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ حال ہی میں میری شہزادی سے باضابطہ ملاقات ہوئی سو سوچا قارئین کو بھی اس ملاقات میں شریک کیا جائے اور ان کی شخصیت کے ان پہلوؤں سے روشناس ہوا جائے جن سے ابھی پردہ اٹھنا باقی ہے۔ السلام علیکم شہزادی !کیسی ہیں آپ؟ ج: الحمدللہ! میں بالکل خیریت سے ہوں۔اللہ پاک کا بہت احسان ہے۔ اپنا مختصر سا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کو جان سکیں۔ ج:میرا مکمل نام تو اوپر لکھا جا چکا ہ...

انٹرویو ڈرامہ رائٹر مدیحہ شاہد

  انٹرویو   ڈرامہ رائٹر اور ناول نگار  مدیحہ شاہد   میزبان  سارہ عمر  ڈرامہ انڈسٹری ایک وسیع انڈسٹری ہے۔خصوصا پاکستانی ڈرامے دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستانی ڈرامے ہمارے معاشرے کی کہانیوں کے عکاس ہیں۔ناظرین کی زندگی کی کہانیاں کہیں نہ کہیں ڈراموں کی کہانیوں سے مطابقت ضرور رکھتی ہیں۔ جہاں ڈرامہ انڈسٹری میں بہت بڑے بڑے نام شامل ہیں ان میں لکھاری،کانٹنٹ رائٹر اور اسکرپٹ رائٹر کا نام بے حد نمایاں ہوتا ہے۔اچھے لکھاری، اچھے ڈرامے کی ظمانت ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ڈرامے میں سب سے اہم کردار لکھاری کا ہے۔ڈرامہ اگر اچھا لکھا گیا ہو گا تو یقیناً شائقین کو پسند بھی آئے گا۔ آج ہمارے ساتھ پاکستان کی مشہور ڈرامہ رائٹر موجود ہیں۔ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔مدیحہ شاہد ڈرامہ رائٹر ہیں اور ان کے لکھے گئے مشہور ڈراموں میں ڈائجسٹ رائٹر سمیت کئی ڈرامے جن میں ایک تھی رانیہ،زویا صالحہ، دلآویز وغیرہ شامل ہیں۔چلیے اب مزید انتظار کروائے بغیر آپ کو ان سے ملوانے لیے چلتے ہیں۔ السلام علیکم مدیحہ!کیسی ہیں آپ؟ جواب: وعلیکم السلام ! میں خیریت سے ہوں الحم...

ہائے گرمی۔(طنز و مزاح)

 ہائے۔۔گرمی سارہ عمر  الریاض، سعودی عرب۔ اگر ملک میں اس وقت چاہت فتح علی خان کے گانے ”آئے ہائے،اوئے ہوئے بدو بدی“ کے علاوہ کوئی بات موضوع گفتگو ہے تو وہ ہے بلا کی گرمی اور ہیٹ ویو۔جس کے باعث ہر کوئی گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہی گانا گنگناتے پہ مجبور ہے۔”آئے ہائے،اوئے ہوئے۔۔گرما گرمی۔۔گرما گرمی۔“ پہلے ہی ہمارے ملک میں ہر شخص جلا،بھنا اور تپا رہتا ہے جیسے سب کے سب جلتے توے پہ بیٹھے ہوئے ہیں باقی کسر ہیٹ ویو نے پوری کر دی ہے۔ذرا سا گھر سے باہر نکل کر دیکھو تو لگتا ہے کہ سورج سر پہ کھڑا آپ کے دروازے پر ہی دستک دے رہا ہے۔بلکہ سورج کا بس چلے تو وہ بھی گھر کے اندر آ کر کچھ دیر اے سی کی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے لے۔ نوکری پیشہ افراد اور مزدور طبقہ تو خاص طور سے گرمی میں جلی کٹی سنانے پہ مجبور ہوتے ہیں۔سبزی والے سے بات کرو تو وہ کڑوے کریلے جیسی باتیں کرتا دکھائی دے گا۔گاہک اگر پوچھ بیٹھے: ”بھائی یہ آلو کتنے روپے کلو ہیں؟شکل سے تو مریل سے لگ رہے ہیں۔“ آگے سے وہ صافے سے پسینہ پوچھتے جواب دے گا: ”نہیں آپ نے ان کو اے سی لگوا کر دیا ہوا ہے کہ ان کا منہ سیدھا ہو؟اتنی گرمی میں تو بندوں کا منہ ڈینگ...

انٹرویو ہمایوں ایوب

      انٹرویو  ناول نگار، تجزیہ نگار و پبلشر ہمایوں ایوب   میزبان: سارہ عمر    دنیا میں بے شمار گم نام ہیرے موجود ہیں۔بالکل اسی طرح ہمارے اردگردبھی ایسے کئی گم نام ہیرے موجود ہوتے ہیں جنہیں کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کی چمک دمک صرف مخصوص حلقے تک ہی محدود ہوتی ہےتبھی ان ہیروں کی چکا چوند سے اکثریت محروم رہ جاتی ہے۔ آج ہم آپ کو ایک ایسے ہیرے سے ملوانے جا رہے ہیں جنہوں نے بحیثیت تجزیہ نگار اپنے نام کا لوہا منوایا مگر وہ دیگر سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ان کا نام انسٹاگرام کی دنیا میں بے حد مشہور و مقبول ہے ۔جہاں کتب تبصرے کا نام لیا جائے وہاں ہمایوں ایوب کا نام لازم و ملزوم ہے۔یہ نئے دور کے مصنف ہیں جن کی یکے بعد دیگرے کئی کتب نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کے ناول منفرد اسلوب کے باعث خاصے مقبول ہوئے۔اب تک پانچ ناول اور کئی افسانے لکھ چکے ہیں۔ چلیں اب مزید انتظار کروائے بغیر آپ کو ان سے ملواتے ہیں تاکہ ان کو مزید جاننے کا موقع مل سکے۔ س: السلام علیکم ہمایوں بھائی!کیسے ہیں آپ؟ جواب: وسلام ! الحمد اللہ ٹھیک ٹھاک۔ آپ لوگوں کی دعائیں ہیں۔ س:اپنا مختصر...

بڑھاپا ،سیاپا

 بڑھاپا،سیاپا از سارہ عمر  سیانے کہتے ہیں  ”بڑھاپا اور سیاپا کبھی بتا کر نہیں آتا۔“ درحقیقت تو بڑھاپا خود ایک بہت بڑا سیاپا ہے اور مرد حضرات کے لیے تو شاید اسے سیاپا سمجھا بھی نہ جاتا ہو مگر خواتین کے لیے تو اس سے بڑا کوئی سیاپا پیدا ہی نہیں ہوا۔بڑھاپا اتنا خطرناک اور ہیبت ناک نہیں ہوتا جتنا یہ انکشاف ہولناک ہوتا ہے کہ بڑھاپے نے اب ہماری دہلیز پر دستک دے دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عورتوں کی عمر اور مرد کی تنخواہ کبھی نہیں پوچھنی چاہیے۔نہ عورت نے کبھی اپنی عمر صحیح بتانی ہے اور نہ کبھی مرد نے اپنی تنخواہ۔ بلکہ یوں کہیے کہ عورت کی عمر تو چلو پھر بھی چہرے مہرے،چال ڈھال یا بچوں کی عمر سے اندازہ لگائی جا سکتی ہے مگر مرد کی تنخواہ تو آپ مرتے دم تک نہیں اگلوا سکتے کیوں کہ وہ جتنا کماتے ہیں اس سے زیادہ اڑاتے ہیں۔پھر بھی مرد کی تنخواہ اتنا سنگین موضوع اب بھی نہیں جتنا رنگین و سنگین موضوع عورتوں کی عمر ہے۔ ڈاکٹر یونس بٹ صاحب کیا خوب منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ”عورتوں کی آدھی عمر تو اپنی عمر کم کرنے میں گزر جاتی ہے۔ ایک ملازمت کے انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ”محترمہ!...