انٹرویو
ڈرامہ رائٹر اور ناول نگار
مدیحہ شاہد
میزبان
سارہ عمر
ڈرامہ انڈسٹری ایک وسیع انڈسٹری ہے۔خصوصا پاکستانی ڈرامے دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستانی ڈرامے ہمارے معاشرے کی کہانیوں کے عکاس ہیں۔ناظرین کی زندگی کی کہانیاں کہیں نہ کہیں ڈراموں کی کہانیوں سے مطابقت ضرور رکھتی ہیں۔
جہاں ڈرامہ انڈسٹری میں بہت بڑے بڑے نام شامل ہیں ان میں لکھاری،کانٹنٹ رائٹر اور اسکرپٹ رائٹر کا نام بے حد نمایاں ہوتا ہے۔اچھے لکھاری، اچھے ڈرامے کی ظمانت ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ڈرامے میں سب سے اہم کردار لکھاری کا ہے۔ڈرامہ اگر اچھا لکھا گیا ہو گا تو یقیناً شائقین کو پسند بھی آئے گا۔
آج ہمارے ساتھ پاکستان کی مشہور ڈرامہ رائٹر موجود ہیں۔ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔مدیحہ شاہد ڈرامہ رائٹر ہیں اور ان کے لکھے گئے مشہور ڈراموں میں ڈائجسٹ رائٹر سمیت کئی ڈرامے جن میں ایک تھی رانیہ،زویا صالحہ، دلآویز وغیرہ شامل ہیں۔چلیے اب مزید انتظار کروائے بغیر آپ کو ان سے ملوانے لیے چلتے ہیں۔
السلام علیکم مدیحہ!کیسی ہیں آپ؟
جواب:
وعلیکم السلام ! میں خیریت سے ہوں الحمد الله۔آپ کا سوال نامہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ قلم ایک رابطہ بھی ہے اور رشتہ بھی۔ قلم اپنے ساتھ لوگوں کو بھی جوڑے رکھتا ہے۔
سوال:
اپنا مختصر سا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کو جان سکیں۔
جواب:
میرا نام مدیحہ شاہد ہے اور آپ لوگوں نے میرے بہت سے ڈرامے ٹی وی پر دیکھے ہوں گے جن میں ڈائجسٹ رائٹر ،ایک تھی رانیہ ، ضویا صالحہ، میری امی ، دل آویز اگر اور نفرت شامل ہیں۔ کچھ ڈرامے ابھی لکھ رہی ہوں الحمد اللہ اس کےعلاوہ بے شمار ناول میں نے لکھے ہیں جن میں شہر خواب، نیلا پانی اور گلابی پھول، جھیل کنارے ،پتھر کا دیں ، سائے پر اعتبار ، چنبیلی کا پھول اور بے شمار ایسی کہانیاں شامل ہیں جن کےنام بھی مجھے یاد نہیں ہیں۔ بچوں کے ادب کے لیےبے شمار کہانیاں لکھیں جن میں رنگین پیالے، نیک نائی اور بادشاہی مسجد، مہر نساء، سبز پری، خوشیوں کا ڈبہ ، طوطے کے گیت ، امرود کا درخت شامل ہیں۔ اب تک میری دو کتابیں مارکیٹ میں آچکی ہیں جن میں ڈائجسٹ رائٹر اور چترال کا سفر نامہ شامل ہیں ۔ میرا ترکی کا سفر نامہ استنبول سے انقراہ تک بھی لوگوں میں بہت مقبول ہوا۔ نیوزی لینڈ میں ایک شارٹ فلم بھی لکھی جو انگریزی زبان میں ہے ۔
لکھنے کا یہ سفر برسوں پر محیط ہے اس لیے میں صرف ڈرامہ رائٹر نہیں ہوں بلکہ میں نے ناول، افسانے، سفر نامے اور بچوں کی کہانیاں بھی لکھی ہیں. میں نےقلم سے جڑے اس رشتے کو نبھایا ہے۔ کاغذ قلم میرے سرہانے پڑا ہوتا ہے۔ جب بھی فراغت ملتی ہے کچھ نہ کچھ لکھ لیتی ہوں۔ لفظوں کےجنگل میں چلی جاتی ہوں کردار مجھے چلتے پھرتےدکھائی دیتے ہیں، میں ان کی آوازوں کی بازگشت سنتی ہوں درودیوار پر کہانیوں کے عکس لہراتے ہیں۔ میں ان کے مختلف رنگوں کو دیکھتی ہوں۔میرے ہاتھ میں قلم چلتا ہے اکثر مجھے خود نہیں پتا چلتا کہ میں کیا لکھ دیتی ہوں۔ لفظ جملے بنتے ہیں اور جملے کہانیوں میں ڈھل جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ میں کپڑوں کے کاروبار سے بھی منسلک ہوں سیاحت کا بھی شوق ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی تعلیم حاصل کی اور پھر بحیثیت رائٹر اپنا کیریئر شروع کیا۔ اللہ پاک نے عزت اور شہرت عطا فرمائی۔ والد صاحب کا تعلق پاک فوج تھا جس وجہ سے ہم محتلف شہروں میں مقیم رہے اور مختلف تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔
سوال:
اپنے قلمی سفر کے آغاز کے متعلق بتائیے کہ یہ کب اور کہاں سے شروع ہوا؟
جواب:-
لکھنے اور پڑھنے کا بچپن سے ہی شوق تھا۔مگر کبھی رائٹنگ کو پروفیشن بنانے کا سوچا نہیں۔مگر یہی پروفیشن میری قسمت میں لکھا تھا۔ چند کہانیاں لکھ کے ڈائجسٹ میں بھیجی تھیں جو شائع ہو گئیں ،پھر ٹی وی کی طرف سے آفر آ گئی تو ٹی وی ڈرامہ کی طرف مصروف ہو گئی۔
سوال:
ایسا کونسا محرک تھا جو لکھنے کا باعث بنا؟
جواب :-
شوق کی وجہ سے لکھتی ہوں اور شوق پورے کر لینے چاہئیں۔
سوال:
اب تک کن ڈائجسٹ میں آپ کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں؟
جواب:-
میں نے زیادہ تر پاکیزہ ، دوشیزہ اور الف کتاب کے رسائل میں لکھا ہے۔
سوال:
پہلی بار ڈرامے کی آفر ہوئی تو کیا احساسات تھے؟
جواب:-
بہت خوشی ہوئی تھی یقین ہی نہیں آتا تھا کہ میں ڈرامہ لکھوں گی اور وہ ٹی وی پر چلے گا۔ لوگ دیکھیں گے اور میرے پہلے ڈرامے ڈائجسٹ رائٹر کو اتنی زیادہ پذیرائی ملی کہ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی ہوں۔ گھر کے قریب پارک میں جاتی تو وہاں لوگوں کا رش لگ جاتا، بیٹی کے سکول جاتی تو دیگر کلاسز کی ٹیچرز آٹو گراف لینے آجائیں ، دن رات لوگ سوشل میڈیا پر میسجز بھیجتے، فون کرتے ، جس کو پتا چلتا وہ گھر آجاتا، گھر پر ہر وقت رونق لگی رہتی۔ بہت ساری آفرز آئیں اور کچھ مجھ جیسی خاتون خانہ کے لیے بہت دلچسپ تھا کہ میں بہت زیادہ سوشل نہیں تھی اور نا ہی گھر سے زیادہ باہر نکلتی تھی۔ ڈائجسٹ رائٹر میں نے بہت محنت اور دل سے لکھا تھا۔ اب بھی لوگ اسے یاد کرتے ہیں اس کی باتیں کرتے ہیں۔ اتنی محبتوں کا میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
سوال:
آپ کا پہلا ڈرامہ ڈائجسٹ رائٹر تھا جو خاصا مقبول ہوا،اس کے بعد کن مزید ڈاموں کی آفر ہوئی؟
جواب:-
ڈائجسٹ رائٹر کے بعد مجھے بہت ساری آفرز ہوئیں مگر میرے بچے بہت چھوٹے تھے، بیٹی ایک سال کی تھی بیٹا چار سال کا تھا تو لکھنا بہت مشکل تھا اس لیے میں نے تھوڑا بریک لیا اس کے بعد میں نے ایک تھی رانیہ اور زویا اور صالحہ لکھا، اس کے بعد دلآویز تحریر کیا ، پھر اگر اور نفرت لکھا ساتھ ساتھ ناول کتابیں ، افسانے ،سفرنامے اوربچوں کی کہانیاں بھی لکھتی رہی۔
سوال:
انسان کو اپنی پہلی کمائی کبھی نہیں بھولتی۔آپ نے اپنی پہلی کمائی کہاں خرچ کی؟
جواب:-
جی … پہلے ڈرامے کی کمائی بہت اچھی تھی اور دس سال پہلے اتنی مہنگائی نہیں تھی تو پہلی کمائی سے بہت ساری چیزیں خریدیں خوب شاپنگ کی۔
سوال:
آپ اب تک کئی ڈرامے لکھ چکی ہیں آپ کو اپنا کونسا ڈرامہ خود بے حد پسند ہے؟
جواب:-
مجھے اپنے سارےڈرامے ہی پسند ہیں مگر ڈائجسٹ رائٹر پہلی محبت کی طرح بہت خاص ہے۔
سوال:
ایک ڈرامہ لکھنے میں آپ کو کتنا عرصہ لگتا ہے؟
جواب:-
تقریباً ایک سال میں ایک ڈرامہ لکھ لیتی ہوں ۔
سوال:
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ڈرامہ لکھنا بہت آسان ہے حالانکہ اس میں بے حد وقت اور محنت درکار ہے۔آپ کو ڈرامہ لکھتے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب:-
ڈرامہ لکھنا بےحد دلچسپ کام ہے۔ آپ کو اپنےکرداروں سے انسیت ہو جاتی ہے ۔ اس کے لیے آپ کو صرف محنت ہی نہیں کرنی پڑتی بلکہ سیکھنا بھی پڑتا ہے۔ یہ ایک طویل سفر ہے ۔ یہ ایک ٹیم ورک ہے مجھے اللہ رب العزت نے بہت اچھے لوگوں سے ملوایا جنہوں نے میرے ساتھ بھرپور تعاون کیا۔ میں نے اپنے سینئرز اور اسکرپٹ ڈیپارٹمنٹ کے لوگوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
سوال:
آپ کے ڈرامے زیادہ کن موضوعات پر مبنی ہوتے ہیں؟
جواب:-
ہر ڈرامے کا موضوع مختلف ہوتا ہے۔
سوال:
ڈرامہ لکھنے کے لیے انسپریشن کہاں سے لیتی ہیں؟
جواب:-
معاشرے سے ،اردگرد کے لوگوں سے ،زندگی کے تجربات سے
سوال:
ڈرامہ انڈسٹری کی فیلڈ میں کس نے آپ کی قدم قدم پہ رہنمائی کی جسے آپ استاد مانتی ہیں؟
جواب:-
بہت سے لوگ جو میرے استاد بھی ہیں اور راہنما بھی ..ان میں عمیرہ احمد ، فیصل منظور خان، مہر النساء اور مستقیم خان شامل ہیں۔
سوال:
ہمارے ڈرامے دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں، آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اس مقبولیت کی کیا وجہ ہے؟
جواب:-
جی ہاں ہمارا ڈرامہ دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ہمارے پاس بہت ٹیلنٹ ہے۔ اچھے رائٹرز ہیں، ڈائریکٹرز ہیں ، اچھے فنکار ہیں، اچھی سوچ ہے۔کہانیاں اور کردار ہیں۔ اچھی پروڈکشنز ہیں۔لوگ بہت محنت سے اپنا کام کرتے ہیں۔
سوال:
آپ کے نزدیک آج کل ڈرامہ انڈسٹری کو کن کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے؟
جواب:-
ڈرامہ انڈسٹری stable ہے اور بہت اچھا کام کر رہی ہے۔
مختلف شعبوں میں نئے لوگ آ رہے ہیں۔اب بے شمار ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں۔ لوگوں کے لیے مواقع زیادہ ہیں۔
سوال:
آپ کیا سوچتی ہیں کہ کیا لکھاری کی مثبت سوچ ڈرامہ ناظرین پہ اثر انداز ہوتی ہے؟
جواب:-
جی ہاں…! لکھاری کی سوچ اس کے کام میں جھلکتی ہے۔
سوال:
آج کل وہی ڈرامہ ہٹ ہے جس کی ریٹنگ زیادہ ہے،آپ سمجھتی ہیں کہ اس طرح کی رینکنگ سے کئی معیاری ڈرامے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
جواب:-
آج کل اسی ڈرامے کو معیاری سمجھا جاتا ہے۔جسے زیادہ لوگ دیکھتے ہیں ، پسند کرتے ہیں .اس لیے ہمیں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ ان کی دلچسپی کن موضوعات میں ہے۔ جس ڈرامے کو لوگ دیکھتے نہیں ہیں۔اس کو پذیرائی بھی نہیں ملتی ہے۔
سوال:
آپ ڈرامہ رائٹر ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب کتاب بھی ہیں۔سفرنامہ لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
جواب:-
سفر بے شمار کیے ہیں۔ اس لیے سفرنامہ لکھنے کاخیال آیا۔
سوال:
آپ نے پاکستان کے مختلف شہروں میں قیام کیا۔کون سا شہر دل کے زیادہ قریب ہے؟
جواب:-
لاہور
سوال:
حال ہی میں آپ نے اسکرپٹ رائٹنگ سیشن کا آغاز کیا۔یہ خیال کس طرح آیا اور اس کا رسپانس کیسا ملا؟
جواب:-
کافی لوگ کہتے تھے تو لوگوں کے اصرار پر اسکرپٹ رائٹنگ ورکشاپس کا خیال آیا اور بہت اچھا رسپانس ملا۔ پاکستان کے مختلف شہروں سے اور جرمنی، انگلینڈ، جاپان، سعودی عرب کینڈا سے لوگوں نے ہماری آن لائن اسکرپٹ رائٹنگ ورکشاپ کو جوائن کیا۔
سوال:
آپ کیا سمجھتی ہیں کہ نئے دور کے حساب سے پاکستان میں کس طرح کے ڈرامے بننے چاہئیں جس سے نئی نسل مستفید ہو۔
جواب:-
ڈرامہ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور فن سے وابستہ ہے۔مگر ایسے ڈرامے ضرور بنے چاہئیں جن سے نئی نسل کو مختلف موضوعات سے آگاہی حاصل ہو۔ میں سمجھتی ہوں کہ سپورٹس کے حوالے سے بھی ڈرامے بننے چاہئے۔ نئی نسل کو اپنے پروفیشن اور کیرئیر کا انتخاب کرے اس موضوع بھی کام ہونا چاہئے۔ ہیومن رائٹس کے حوالے سے بھی ڈرامے بننے چاہئے۔
سوال:
گھر اور بچوں کے ساتھ لکھنے کو وقت دینا مشکل ہے۔اس حوالے سے خواتین کو کیا ٹپ دیں گی کہ وہ اپنے خوابوں سے دستبردار نہ ہوں۔
جواب:-
جی گھر اور بچوں کے ساتھ لکھنا مشکل ہے اس کی کوئی خاص ٹپ تو نہیں ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ چیزیں مینج ہو جاتی ہیں۔
سوال:
مستقبل میں کن موضوعات پر لکھنے کا ارادہ ہے؟
جواب:-
بےشمار موضوعات ہیں. اگر اللہ کا حکم ہوا تو ضرور لکھوں گی ۔
سوال:
لکھنے کے علاوہ کن مشاغل کو وقت دیتی ہیں؟
جواب:-
لکھنا، پڑھنا ، سیاحت ہوٹلنگ، ورک، شاپنگ سب کچھ ہی ساتھ چلتا رہتا ہے۔
سوال:
اپنی ذاتی زندگی میں بہت زیادہ لوگوں سے گھلنے ملنے والی ہیں یا خاموش طبیعت ہیں؟
جواب:-
زیادہ لوگوں میں گھلنے ملنے والی نہیں ہوں. نہ ہی زیادہ سوشل ہوں۔
سوال:
اپنے بچپن کے متعلق بتائیے کہ کیسا گزرا اور کوئی ایسا یادگار واقعہ بتائیں جو ہمیشہ چہرے پہ مسکراہٹ بکھیر دیتا ہو۔
جواب:-
بچپن بہت اچھا گزرا۔ ہم فوجی چھاونی میں رہتے تھے جہاں کشادہ اور سرسبز لان والے وسیع وعریض گھر ہوا کرتے تھے گھر کے لیے ملازم تھے ، ساری سہولیات تھیں۔ بچپن میں ہم نے بہت انجوائے کیا دیگر بچوں کے ساتھ پٹھو گرم کھیل کھیلتی تھی جو اب بھی یاد آتا ہے۔ ہمارے بچے ایسے کھیل نہیں کھیلتے ہیں۔ انہیں پٹھو گرم ، سٹاپو، کش ، آنکھ مچولی ، کھو کھو جیسے کھیل کھیلنے نہیں آتے ہیں اب اسپورٹس کی جگہ موبائل نے لے لی ہے۔
سوال:
ایسا کونسا سوال ہے جو، جب بھی پوچھا جائے بے حد چڑ ہوتی ہے؟
جواب:-
ایسا کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا ملنے جلنے والے سب تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ ہیں۔
سوال:
اگر کوئی آٹوگراف مانگے تو عموماً کیا لکھتی ہیں؟
جواب:-
سائن کرتی ہوں۔
سوال:
نئے ڈرامہ لکھنے والے لکھاری ایسی کونسی غلطی کرتے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے؟
جواب:-
غلطیاں تو انسانوں سے ہو ہی جاتی ہیں ، مگر غلطیوں سے سیکھنا چاہیے.
سوال:
آخر میں اپنے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟
جواب:
بحث مباحثے سے گریز کرنا چاہیے۔بات اور رائے کا احترام کرنا چاہے۔محنت کے ساتھ ساتھ سیکھنا بھی چاہیے
اللہ پر بھروسہ کریں۔ اللہ سے ہی مدد مانگتے رہیں اور اللہ ہی کار ساز ہےسب اسی کی ہی عطا ہے۔ محنت کرنے کے ساتھ ساتھ صدقہ بھی ضرور دیں لوگوں کی بھلائی اور خیر کے لیے کام کریں۔ جئیں اور جینے دیں۔
شکریہ۔
مدیحہ آپ سے مل کر بہت اچھا لگا اور یقیناً ہمارے قارئین بھی اس انٹرویو کو پڑھ کر محظوظ ہوئے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار کامیابیوں سے نوازے۔آمین۔
اگلے ماہ پھر کسی نئی شخصیت کے ساتھ حاضر ہوں گے تب تک کے لیے اللہ حافظ۔











Comments
Post a Comment