Skip to main content

انٹرویو شہزادی ہدی انجم

 انٹرویو 

مصنفہ و مدیرہ شہزادی ہدی انجم 

میزبان: سارہ عمر 






ہمارے اردگرد ایسے گم نام ہیرے موجود ہیں جنہیں تلاشنے کی ضرورت ہے۔ان کی چمک دمک صرف مخصوص حلقے تک ہی محدود ہے۔تبھی آج ہم آپ کو ایک ایسے ہیرے سے ملوانے جا رہے ہیں جنہوں نے بہت کم عرصے میں اپنا نام منوایا۔یہ نا صرف ادب اطفال کے حوالے سے کافی مشہور و معروف لکھاری ہیں بلکہ ادب عالیہ میں بھی اپنا نام بنا چکی ہیں۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئے قارئین کے لیے یہ نام اتنا جانا پہچانا نہ ہو مگر حال ہی میں جگنو کی نائب مدیرہ کا عہدہ سنبھالے والی شہزادی ہدی انجم گزشتہ چار پانچ سالوں سے افسانے اور بچوں کی کہانیاں وغیرہ لکھ رہی ہیں۔یہ تین کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

حال ہی میں میری شہزادی سے باضابطہ ملاقات ہوئی سو سوچا قارئین کو بھی اس ملاقات میں شریک کیا جائے اور ان کی شخصیت کے ان پہلوؤں سے روشناس ہوا جائے جن سے ابھی پردہ اٹھنا باقی ہے۔





السلام علیکم شہزادی !کیسی ہیں آپ؟

ج: الحمدللہ! میں بالکل خیریت سے ہوں۔اللہ پاک کا بہت احسان ہے۔


اپنا مختصر سا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کو جان سکیں۔

ج:میرا مکمل نام تو اوپر لکھا جا چکا ہے۔اردو میں ماسٹرز ڈگری لے رکھی ہے اور کافی عرصہ درس وتدریس کے شعبے سے منسلک رہی ہوں۔نوکری کو خیر باد کہنے کے بعد اپنے بچپن کے شوق کو نکھارنے کے لیے باقاعدہ ادب کی دنیا میں قدم رکھا۔تین کتابوں(ہمزاد۔۔سرکل۔۔ہوا کچھ یوں) کی مصنفہ ہوں اور جگنو کی نائب مدیرہ ہوں۔اس کے علاؤہ پروف ریڈر بھی ہوں۔

س:سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ کا نام کس نے رکھا؟میں اکثر یہی سوچتی ہوں آپ کو شہزادی کہوں،ہدی کہوں یا انجم؟

ج:میرا نام ہدیٰ والد محترم نے ہدیٰ انجم رکھا تھا پھر ننھیال کی طرف سے بطورِ خاص شہزادی کا اضافہ کیا گیا ۔ نتیجتاً سب کچھ ملا کے شہزادی ہدیٰ انجم رکھ دیا گیا ۔آپ کو جو کہنا اچھا لگے آپ اسی سے پکار سکتی ہیں۔


س: اپنے قلمی سفر کے آغاز کے متعلق بتائیے کہ یہ کب اور کہاں سے شروع ہوا؟

ج:لکھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا اپنی کاپیوں کی پچھلی طرف کہانیاں لکھا کرتی تھی لیکن کم عمری میں شائع کروانے کا علم نہ تھا۔پھر 2008 میں اپنے مقامی اخبار میں کالم لکھنا شروع کیا اور ساتھ ہی ایک کہانی ہمت کر کے تعلیم و تربیت کو بھی بھیج دی جو اگلے ہی ماہ شائع ہو گئی ۔یوں میرے قلمی سفر کا آغاز ہوا لیکن کچھ مصروفیات کی بنا پر اس کو جاری نہ رکھ پائی لیکن باقاعدگی سے اس شعبے کی طرف 2019 میں تعلیم و تربیت ہی میں کہانی لکھ کر آگئی اور ابھی تک یہ سفر جاری ہے۔


س: ایسا کونسا محرک تھا جو لکھنے کا باعث بنا؟

ج:میرے خیال میں والدین کا باذوق ہونا سب سے بڑا محرک ہے ۔والد محترم اپنے وقت کے رسائل میں لکھا کرتے تھے پھر گھر میں کافی رسائل آتے تھے والدین کو ادب سے لگاؤ تھا ۔وہ بہت شوق سے کتب بینی کرتے تھے۔ان کو دیکھتے ہوئے یہ شوق اندر ہی اندر پروان چڑھتا رہا ۔


س: اب تک کن کن رسائل اور اخبارات میں آپ کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں؟

ج:بچوں کے رسائل میں (تعلیم و تربیت ۔پھول ۔ ساتھی ۔ نونہال ۔ بچوں کی دنیا ۔ بچوں کا باغ ۔ جگنو ۔ذوق و شوق ۔ جگ مگ تارے ۔ انوکھی کہانیاں ۔ مسلمان بچے ۔ کرن کرن روشنی )اور ادب عالیہ میں (دوشیزہ ۔ سچی کہانیاں ۔ سیارہ ڈائجسٹ ۔ نئے افق)



س: آپ کی کتاب سرکل کس موضوع کے متعلق ہے اور قارئین کو یہ کتاب کیوں پڑھنی چاہیے؟

ج: سرکل ٹائم ٹریول پہ مبنی سائنس فکشن اور سسپنس ناول ہے۔ یہ ٹین ایجرز بچوں کے لیے ہے۔اس میں سارے واقعات ڈاٹ کی صورت میں ہیں جو ایک مقام پہ آ کے ایک دوسرے سے ملتے ہیں ۔اس میں جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں بھی بات کی گئی ہے۔انگلش ناول پڑھنے والوں کو اردو میں وہی مزا ملے گا جو انگریزی فکشن میں ہوتا ہے۔


س: آپ کی اب تک تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں،اس کے متعلق بتائیے کہ اشاعت کا تجربہ کیسا رہا اور ایسی کونسی نئی چیز سیکھنے کو ملی جو پہلے معلوم نہیں تھی؟

ج: اشاعت کا تجربہ بہترین رہا ۔میں ابھی کتابیں شائع نہیں کروانا چاہتی تھی کیونکہ یہ سفر اتنا چھوٹا نہیں ہے مجھے ابھی بہت کام کرنا بشرطِ زندگی! لیکن کتب شائع ہونے سے میں نے یہ جانا کہ تحریریں یکجا ہو کر محفوظ ہو جاتی ہیں ۔میرا ناول قسط وار شائع ہوا شاید ایسے محفوظ نہ رہتا ۔اسی طرح 'ہوا کچھ یوں' بچوں کے لیے متفرق کہانیوں کی کتاب ہے ۔اس میں مختلف رسائل کی انعام یافتہ کہانیاں شامل ہیں جو کبھی کتابی شکل میں نہ آتیں تو محفوظ نہ ہوتیں۔ہمزاد سسپنس ۔خوف اور تجسس سے بھرپور ناول ہے اور یہی میراسب سے پہلا کتابی شکل میں شائع ہونے والا ناول ہے۔




س: آپ کی کتب کی اشاعت کے بعد قارئین کا کیسا ردعمل سامنے آیا؟کیا آپ اپنی اگلی کتاب پہ بھی کام کر رہی ہیں؟

ج:قاری کا اپنا مزاج ہوتا ہے چونکہ میری یہ کتابیں ٹین ایجرز بچوں کے لیے ہیں اس لیے ان کے ساتھ کبھی بلواسطہ یا بلا واسطہ رابطہ نہیں ہوتا۔اگلی کتاب بچوں ہی کے لیے ہو گی ان شاءاللہ اور اس کو میں منفرد انداز میں شائع کرواؤں گی ۔


س: جو لکھاری صاحب کتاب بننا چاہتے ہیں ان کن امور کا خیال رکھنا چاہیے؟

ج:ویسے تو بہت سے امور کا خیال رکھنا ضروری ہےلیکن میری رائے یہ ہے کہ اگر کتاب شائع کروانی ہی ہے تو پھر اس کی پروف خوانی سے لے کر چھپائی تک کے تمام مراحل میں کمپرومائز نہ کریں تا کہ جب کتاب چھپ کر ہاتھ میں آئے تو پتا چلے کہ واقعی کتاب ہے۔


س: کیا لکھنے کے لیے پڑھنا ضروری ہے؟

ج: لکھنے کے لیے پڑھنا بے حد ضروری ہے۔لکھنا، پڑھنے کے ساتھ متصل ہے ۔اس کے بغیر اگر کوئی یہ سوچے کہ بہترین لکھ لے گا تو یہ ناممکن ہے۔




س:آج کل کے بچے کتابوں سے دور ہیں،اس کی کیا وجہ ہے اور اس کے حل کے لیے آپ کے مطابق کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟

ج: بچے کتابوں سے دور ہیں کیونکہ بڑے بھی کتابوں سے دور ہیں ۔گیجٹس نے نوے کی دہائی کے بچوں کو اپنے قابو میں کر لیاہے تو آج کا بچہ ان کو استعمال کرنا اپنا حق سمجھتا ہے ۔بچے رسالوں سے تو دور ہوئے ہی ہیں لیکن اپنی درسی کتب سے بھی دور ہو گئے ہیں۔یہ بہت بڑا المیہ ہے۔اس کے حل کے لیے میں جو پاکستان میں رہ کر کرتی تھی وہی بتاؤں گی کہ اپنے گھر میں بچوں کے رسائل اور اخبار لگوائے تھے۔ گھر میں رسائل اور اخبار آنے سے میں پڑھوں گی تو بچوں کو یہ دیکھ کر شوق پیدا ہو گا۔یہ انفرادی طور پر ایک طریقہ ہے جو ہر کوئی اپنے وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے کر سکتا ہے۔


س:آپ کے لیے لکھنا کیا ہے کوئی تھیرپی یا جذبات کا اظہار؟

ج: میرے لیے لکھنا تھیرپی ہے۔لکھتے ہوئے مجھے سکون ملتا ہے ۔تکمیل کا احساس ہوتا ہے۔


س: آپ کیا سوچتی ہیں کہ کیا لکھاری کی مثبت سوچ قاری پہ اثر انداز ہوتی ہے؟

ج: لکھاری اپنے تجربات سے حصول شدہ معلومات لکھتا ہے۔الفاظ تو بارش کے قطروں کی طرح ہوتے ہیں ہر طرح کی زمین پہ برستے ہیں زرخیز میدان پہ برسیں گے تو پھول بوٹے اگیں گے اور سیم زدہ زمین پہ اس کا الگ اثر ہو گا ۔لہذا ہر قاری کا مزاج الگ ہوتا ہے ۔ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ دل سے جو بات نکلے گی وہ ہر بندے پہ اثر بھی کرے گی۔جو جس انداز میں پڑھے گا اس کا وہی اثر لے گا۔


س: آپ کے نزدیک آج کل کے مصنفین کو کن کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

ج: پاکستان میں تو مصنفین کو زندگی کے ہر پہلو میں چیلنج مل رہا ہے۔چھپائی سے فروخت تک ہر مرحلہ چیلنجز سے بھرپور ہے۔


س: آپ کی بچوں کے لیے لکھی گئی تحاریر باقاعدگی سے بچوں کے رسائل کی زینت بنتی رہتی ہیں۔آپ عموماً کن موضوعات پر زیادہ لکھنا پسند کرتی ہیں؟

ج:مجھے بچوں کے لیے ہر طرح کے موضوع پہ لکھنا پسند ہے۔آج کل مصروفیت کی وجہ سے میں ہر رسالے کے لیے نہیں لکھ پا رہی ہوں لیکن۔ مستقبل قریب میں ان شاءاللہ، یہ سلسلہ باقی رسائل کے لیے بڑھاؤں گی۔


س:آپ کا ناولٹ ہمزاد دیگر تحاریر سے کس طرح مختلف ہے؟

ج: یہ ناولٹ بچوں کو ہمزاد کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے ۔قرآن مجید میں بھی اس کے بارے میں بتایا گیا ہے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے ہمزاد کے بارے میں لکھا کہ کیسے وہ انسان کے ساتھ مل کے کیا کرتا اور کرواتا ہے۔


س:مستقبل میں کن موضوعات پر لکھنے کا ارادہ ہے؟

ج: ان شاءاللہ ادب عالیہ کے لیے روٹین سے ہٹ کر لکھوں گی اور بچوں کے لیے سائنس فکشن اور مزاح لکھنے کا سوچ رہی ہوں۔ 

س:آپ جگنو کی نائب مدیرہ بھی ہیں اور رسائل کو پروف ریڈ بھی کرتی ہیں۔اس کام کے دوران لکھاری کی کیا چیز اچھی لگتی ہے اور کیا چیز شدید بری؟

ج: شدید بری تو کوئی چیز بھی نہیں لگتی سبھی سیکھنے کے عمل سے گزرتے ہیں لیکن کہانی پڑھتے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ کہانی کا پلاٹ پہلے سے بنایا گیا تھا یا بس قلم پکڑ کے لکھنا شروع کیا اور کہانی بناتے گئے ۔ایک بات پہ حیرت ہوتی ہے جب لوک کہانی کو لکھاری طبع زاد بناکے بھیج دیتے ہیں کچھ لکھاری تحریر لکھنے کے بعد اس پہ نظر ثانی نہیں کرتے۔

س:لکھنے کے لیے زیادہ تر انسپریشن کہاں سے لیتی ہیں؟

ج:میں ہر چیز سے انسپریشن لیتی ہوں۔میرے آس پاس موجود ہر چیز ایک کہانی ہے چاہے وہ ٹوٹا ہوا کھلونا ہے یا کوئی فرنیچر ،گھاس پھوس سے لے کر خالی کمرے تک ۔کمبل ہو یا کوئی بوسیدہ سویٹر۔ جانور،پرندے،درخت ۔۔مجھے لگتا ہے ہر چیز اپنی کہانی سنا رہی ہے۔

س:آپ کیا سمجھتی ہیں کہ اس نئے دور کے حساب سے کس طرح کی کہانیاں بچوں کے رسائل میں شامل ہونی چاہئیں؟

ج: مزاحیہ اور جاسوسی


س:اپنی ذاتی زندگی میں بہت زیادہ لوگوں سے گھلنے ملنے والی ہیں یا خاموش طبیعت ہیں؟

ج: میں گھلنے ملنے سے گھبراتی تو نہیں ہوں لیکن زیادہ سوشل بھی نہیں ہوں۔۔خاموش طبع بھی نہیں ہوں اور باتونی بھی نہیں ۔دونوں معاملات میں توازن رکھتی ہوں۔

س:آپ نے پاکستان کے مختلف شہروں میں قیام کیا۔کون سا شہر دل کے زیادہ قریب ہے؟

ج: پاکستان کا ہر شہر بہت پیارا اور دل کے قریب ہے کیونکہ وہاں میں نے وقت گزارا ہے۔ تقریباً ہر شہر سے کئی یادیں وابستہ ہیں۔

س:گھر اور بچوں کے ساتھ لکھنے کو وقت دینا مشکل ہے۔اس حوالے سے خواتین کو کیا ٹپ دیں گی کہ وہ اپنے خوابوں سے دستبردار نہ ہوں۔

ج:آج کل خواتین گھراور بچوں کی مصروفیات کے ساتھ لکھ رہی ہیں پہلے تو میں ان کو داد دوں گی کہ وہ بہت بڑا کام کر رہی ہیں اور جو نہیں لکھ پا رہیں تو اللہ پاک نے ان کے لیے بھی کوئی خاص وقت رکھا ہو گا، جب وہ ٹائم مینجمنٹ کرنا سیکھ لیں گی ۔ویسے جن خواتین کو دن میں ٹائم نہیں مل پاتا وہ رات کا کچھ حصہ لکھنے کے نام کرتی ہیں۔کچھ خواتین بچوں کو سکول بھیجنے کے بعد لکھتی ہیں کچھ شام کی چائے کے وقت،جب بچے اپنے کھیل کود میں مصروف ہوں تب لکھتی ہیں۔شوق اور مشغلہ اپنا وقت نکال ہی لیتا ہے۔

س:لکھنے کے علاوہ کن مشاغل کو وقت دیتی ہیں؟

ج: گھر سجانا۔کتابیں پڑھنا۔مختلف پکوان بنانے کا مجھے بہت شوق ہے۔

کچھ اپنی پسند ناپسند کے متعلق بتائیے:

پسندیدہ کتاب: قرآن مجید 

پسندیدہ مصنف:اشفاق احمد

پسندیدہ شاعر:علامہ اقبال 

پسندیدہ شعر:

قہاّری و غفاّری و قدّوسی و جبروت

یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

پسندیدہ شہر:بہاولپور 

پسندیدہ ملک: پاکستان 

پسندیدہ لباس:شلوار قمیض 

پسندیدہ خوشبو: عود 

پسندیدہ کھانا:روٹی اور شوربہ

پسندیدہ رنگ:سنہری رنگ


س:اپنے بچپن کے متعلق بتائیے کہ کیسا گزرا اور آپ کیا سمجھتی ہیں کہ لکھنے کا رجحان بچوں میں بچپن سے ہی ہوتا ہے؟

ج:بچپن بہت اچھا گزرا ۔رسائل پڑھتی تھی۔والد صاحب اخبار جہاں۔فیملی میگزین میں سے بچوں کا صفحہ نکال کر دیا کرتے تھے اسی طرح روزنامچے سے بھی بچوں کے پڑھنے کا مواد دیا کرتے ۔خوش خطی کا بہت شوق تھا۔بچوں میں لکھنے کا رجحان گھریلو ماحول پہ منحصر ہے۔ ویسے تو لکھنا خداداد صلاحیت ہے کچھ بچوں میں تخلیقی صلاحیتیں کم ہوتی ہیں کچھ میں بہت زیادہ ۔  


س:اپنے بچپن کا ایسا یادگار واقعہ بتائیں جو ہمیشہ چہرے پہ مسکراہٹ بکھیر دیتا ہو۔

ج:میں شرارتی نہیں تھی اس لیے کوئی ایک واقعہ بھی ایسا نہیں جو دلچسپ ہو۔


س:ایسا کونسا سوال ہے جو، جب بھی پوچھا جائے بے حد چڑ ہوتی ہے؟

ج:ایسا کوئی سوال نہیں کہ پوچھنے پہ چڑ جاؤں۔


س: مقصد حیات کیا ہے ؟

ج:اللہ پاک کے بتائے گئے اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا اور بچوں کی تربیت بھی اسی کے مطابق کرنا ۔یہ خاص مقصد ہے باقی عمومی مقاصد تو زندگی کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے ہیں۔


س:کن ادباءکے کام سے بے حد متاثر ہیں؟

ج:جو ادیب منفرد لکھے۔منفرد اور تحقیق شدہ کام مجھے بہت پسند ہے ۔


س:اگر کوئی آٹوگراف مانگے تو عموماً کیا لکھتی ہیں؟

ج:کوئی قول شعر یا دعا



س:نئے لکھنے والے ایسی کونسی غلطی کرتے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہیے؟

ج:نئے لکھنے والوں کا مطالعہ وسیع نہیں ہوتا۔جو لکھتے ہیں اس پر تحقیق نہیں کی ہوتی۔اپنی لکھی تحریر کا اتنا ہی خیال رکھنا چاہیے جتنا ہم اپنے آپ سے پیار کرتے ہیں۔تبھی جا کے تحریر نکھرتی ہے ۔کم لکھیں، زیادہ پڑھیں۔


س:آخر میں اپنے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟

ج: کامیابی ہمیشہ کتاب دوست کی ہوتی ہے اس لیے اچھی اچھی کتابیں پڑھیں اور بس پڑھتے رہیں۔


شہزادی آپ سے مل کر بہت اچھا لگا اور یقیناً ہمارے قارئین بھی اس انٹرویو کو پڑھ کر محفوظ ہوئے ہوں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار کامیابیوں سے نوازے۔آمین۔

اگلے ماہ پھر کسی نئی شخصیت کے ساتھ حاضر ہوں گے تب تک کے لیے اللہ حافظ۔

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...