Skip to main content

Posts

جواب

جواب اس نے جلدي جلدي کپڑے دھو کر تار پہ لٹکاے تھے. کھانا بنا ہوا تھا.جھاڑو بھی لگا لی تھی.منے کو نہلا کر ابھی صحن میں بیٹھایا تھا.وہ ابھی چلنا شروع ہوا تھا.ہر وقت دھیان ہی رکھنا پڑتا تھا.بڑا بیٹااسکول سے گھر آیا تو جلدی جلدی کپڑے بدلاے.منہ ہاتھ دھو نے کا کہہ کر وہ کچن میں آئ.وہ روٹی بنا کر فارغ ہوئ تھی کہ میاں صاحب گھر میں گھسے .چھوٹابیٹا کیاری میں گھسا مٹی سے کھیل رہا تھا.ٍسارے کپڑوں اور منہ پہ مٹی مل لی تھی جبکہ بڑا بیٹا منہ ہاتھ دھو کرٹونٹی کھلی چھوڑ آیا تھا.چھوٹے نے مٹی اٹھا اٹھا کر صحن میں بھی پھینکی تھی.تبھی دھلا ہوا صحن بھی گندا لگ رہا تھا.صفدر نے دروازہ دھاڑ سے مارا. ایک تو سکون کے لیے گھر آؤ وہ بھی ادھر میسر نہیں. اس نے جلدی سے سالن روٹی میز پہ رکھی. پھوہڑ عورت کرتی کیا ہو سارا دن؟ روز اس سے ایک ہی سوال پوچھاجاتاجس کا جواب اسے کبھی نہیں آتا تھا. وہ بس آسمان کی طرف دیکھ کر رہ گئ. سارہ عمر

Eid mubarak

Asalmoalikum Eid mubarak to everyone. May Allah accept our prayers in this Holy month and accept our good deeds ameen.

پاکستان بننے کی یادیں

بچپن کی یادیں بہت خوشگوار ہوتی ہیں۔ایسے ہی سردیوں میں رضائی میں گھس کر ہم اپنی دادی کے پاس بیٹھے رہتے۔ہماری دادی کے انتقال کو تین سال ہوئے ہیں اور تقریبا انکی عمر نوے سال ہوگی۔بس ساری زندگی انہوں نے ہمیں خوب قصے سنائے۔ہم ڈھیر سارے کزن اکھٹے ہوتے اور کہتے دادی انڈیا کے قصے سنائیں۔انڈیا کے وقصے سنانا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔وہ سناتی اور ہم سنتے رہتے۔ دادی نے اپنے سامنے پاکستان بنتے دیکھا تھا۔دادا نے علی گڑھ یونیورسٹی سے پڑھا تھا اور جب پاکستان بنا تب انکے تین بچے تھے۔دادی کا گھر تاج محل کے پاس تھا اور تاج محل کے اتنے قصے سننے ہیں کہ ایک کتاب ہی لکھ لی جائے۔وہ اس کے باغوں اور خوبصورتی کا بہت ذکر کرتیں۔ دادا چونکہ آرڈیننس فیکٹری میں تھے سو انکا پہلے ٹرانسفر بنگلہ دیش یعنی مشرقی پاکستان ہوا اور پھر مغربی پاکستان میں ہو گیا۔ دادی اکثر بتاتی تھیں کہ جب ہم پاکستان جا رہے تھے تو ٹرینوں کی ٹرینیں لوگوں کی لاشوں سے بھری ہوئی تھیں۔خوب خون بہا۔خون کی ندیاں بہائی گئیں۔انہی بھی جس ٹرین میں بٹھایا بعد میں کسی دوسری ٹرین میں سوار کرایا گیا۔بعد میں پتہ چلا پہلی والی ٹرین منزل پہ نہ پہنچ سکی کیونکہ مس...

بکرا کہانی

بقرہ عید کی آمد ہو تو بس ہر طرف بکرا بکرا ہو جاتا ہے۔جب عید میں دس دن رہتے ہیں تو کسی کے بکرے چوری ہو جاتے۔کسی کا بیل بھاگ جاتا۔قربانی کے وقت تو اکثر ہی بیل رسی توڑوا کر بھاگ جاتے ہیں۔۔ یہی اس عید کی خوبصورتی ہے۔ایسا ہی واقعہ ایک دفعہ ہمارے ساتھ پیش آیا۔میں اور ابو گاڑی میں گھر جا رہے تھے۔دوپہر کا وقت تھا اور جی ٹی روڑ پہ عین بیچ میں گاڑی چل رہی تھی جب ایک عدد گائے بیچ سڑک میں بھاگتی ہوئی ہماری طرف آنے لگی۔ہماری گاڑی چونکہ لال تھی تو میں ڈر گئی۔پیلی بھی ہوتی تو گائے سے ٹکرا کر کدھر جاتی۔ہم نے چلانا شروع کر دیاگاڑی سائڈ پہ کریں۔گاڑی سائڈ پہ کریں۔شکر ہے وہ ایک معصوم سی گائے تھی جو دوڑتی دوڑتی ہماری گاڑی کے ساتھ سے گزر گئی۔یقینا اگر بیل ہوتا تو جاتے جاتے بھی ٹکر مار کر جاتا۔تب ہمارا روکا ہوا سانس بحال ہوا۔ دوسرا واقعہ تب کا ہے جب ہمارے کزن حج پہ گئے اور اپنی ڈیڑھ سال کی بیٹی دادی کے پاس چھوڑ گئے۔میں اور ابو اسے گھر لیجانے کے لیے آئے۔راستے میں ابو کو دوائی لینی تھی تو ایک میڈیکل سٹور کے باہر گاڑی روکی بالکل کھمبے کے ساتھ۔انہیں پتہ نہیں تھا کہ کھمبے کے ساتھ بکرا بندھا ہے۔جو نواب نیچے بیٹھ...

تیرے سنگ

100 لفظی تیرے سنگ۔۔ کیپٹن ولید سرور گھر میں داخل ہوئے تو پہلی نظر لاؤئج میں بیٹھی اپنی ماں پہ پڑی تھی۔آج ان کے والد کی برسی تھی تبھی وہ چھٹی پہ آئے تھے۔وہ دھیرے سے ماں کے قدموں میں بیٹھے اور ماں کے ہاتھ کا بوسہ لے کر آنکھوں سے لگایا تھا۔ماں نے بھی ان کی پیشانی چومی تھی۔کیپٹن ولید نے کھڑے ہو کر کرنل سرور کی بڑی سی تصویر کو جاندار سلوٹ مارا تھا۔ماں کی آنکھ سے دو موتی نکل کر ہاتھ میں پکڑی وردی میں جذب ہو گئے تھے۔آج وہ نہ ہو کر بھی وہیں موجود تھے۔ تحریر سارہ عمر

دوسری شادی

دوسری شادی یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ جس پہ بحث لا حاصل ہے۔جو مرضی بحث کر لو مثبت سوچ والے کئی دلیلیں دیں گے اور منفی سوچ والے یا مخالف کسی ایک بات پہ اڑے رہیں گے۔ان دو لفظوں کو اگر سمجھنا ہے یا بحث کرنی ہے تو پہلے اپنے آپ کو غیر جانبدار بنا لیں۔یعنی اب آپ نہ مردوں کی طرف ہیں نہ عورتوں کی طرف اب بس آپ نے دونوں کے موقف سننے ہیں۔ جب آپ نے ایک فیصلہ کرنا ہو ایک رائے قائی کرنی ہو تو ایک قاضی کی طرح دونوں فریقین کا موقف بغیر ان کی طرفداری کیے سننا ہے۔حقیقت جاننے کے لیے دونوں فریقین کو صفائی کا موقع دیا جاتا ہے۔۔ چلیں پہلے موقع دیتے ہیں مرد حضرات کو۔۔۔۔ اگر کسی بھی مرد کے پاس آپ بیٹھیں اور اس موضوع کا ذکر کریں تو ہر مرد ہی نہایت خوش نظر آئے گا۔بالکل ایسے وہ جوش و خروش سے بات کرتے نظر آئیں گے جیسے ان کی بیوی ان کے فرائض سے غافل ہے یا پھر ان کو توجہ نہیں دیتی۔۔۔یہ تو وہ موضوع ہے جس پہ بڑے بڑے کم گو اور خاموش طبع مرد حضرات بھی بحث کرتے اور ہلکا ہلکا تبسم فرماتے دیکھائی دیتے ہیں۔۔ اب ان تمام حضرات سے سوال کیا جائے کہ دوسری شادی کا موقع ملے تو کیا کریں گے تو مختلف نوعیت کے جوابات سنائی  دیت...

یمامہ کی سیر۔

ویسے تو ہمیں سفر کرنا اور گھومنا پھرنا بہت ہی پسند ہے لیکن پانی سے ہمیں کچھ خاص ہی عشق ہے۔بس دل کرتا ہے جہاں پانی دیکھو وہاں ڈوبکی لگا لو اور ہمارے شوہر نامدار بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔جہاں پانی دیکھتے ہیں اپنے کپڑے بچا کر سائڈ پہ ہو کر بیٹھ جاتے ہیں کہ جاو اور کر لو اپنے شوق پورے میرے اوپر چھینٹا بھی نہ آئے۔۔ تو ایسے ہی ایک دن پلان بنایا یمامہ ریزوٹ جانے کا۔یہ ایک واٹر پارک ہے اور ریاض سے 51 کلو میٹر پہ واقع ہے۔یہ چونکہ الخرج کی چیک پوائنٹ کے پاس ہے جو کہ ایک دوسرا شہر ہے سو اقامے کے بغیر سفر نہیں کیا جا سکتا۔ (سعودیہ میں شہر سے باہر جانے کے لیے اقامہ ضروری ہے کیونکہ جگہ جگہ پولیس والے راستہ روکے استقبال کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔سو اقامہ رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ہر جمعے کو یہاں چھٹی ہوتی ہے سو ہم صبح صبح اٹھ کر ہی تیاریوں میں لگ گئے۔کھانا بنایا،بچوں کے کپڑے رکھے،نہانے والی ٹیوب رکھی،بڑے بیٹے نے کھیلنے کے لیے فٹ بال رکھی۔ پہلے جمعے کی تیاری کی یعنی بچوں کو نہلا کر ثوب(عربی لباس) پہنائی۔بڑا بیٹا چھ سال کا ہے جو الحمد اللہ مسجد جاتا ہے لیکن چھوٹا ابھی ڈیڑھ سال کا ہوا ہے اسے صرف بھائی کے پی...