Skip to main content

Posts

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

امرتسر سے لاہور

 امرتسر سے لاہور  سارہ عمر اس داستان کا آغاز امرتسر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سلطان پور سے ہوا تھا۔سہیل احمد نے جب سے آنکھ کھولی تھی برصغیر پاک و ہند میں ہندؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر دیکھا تھا۔کچھ علاقے تھے جہاں کچھ نہ کچھ فساد چلتے رہتے۔انگریزوں نے تو ہندؤں اور مسلمانوں کو اپنی طاقت سے زیر کر رکھا تھا۔جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا اسے اس ریاست کے حالات سمجھ آنے لگے تھے۔وہ مسلمان تھے، سو وہ دوہرے غلام تھے۔انگریزوں کے بھی اور ہندؤں کے بھی۔زمین، اناج پہ سارا قبصہ انگریزوں کا تھا۔حکومت ان کی تھی۔سو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کے تحت جو سرکشی کی کوشش کرتا،وہ بری طرح آمریت کے قدموں تلے کچلا جاتا۔ہندو تو اپنی چالاکی، چاپلوسی اور اچھی تعلیم کے توسط سے کچھ بہتر عہدے حاصل کر پائے تھے تبھی مسلمان دھیرے دھیرے اس سیاست اور تحریک کو سمجھنے لگے۔ الگ مملکت اور ریاست کا قیام وہ خواب تھا جو اقبال نے دیکھا تھا لیکن اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا جان جوکھوں کا کام تھا۔وہ چھوٹا سا تھا جب اپنے والد اور دادا کو مسلم لیگ کے جلسوں میں شرکت کرتے دیکھتا۔وہ گھنٹوں مستقبل کے متعلق باتیں کرتے ...

انٹرویو شہزادی ہدی انجم

 انٹرویو  مصنفہ و مدیرہ شہزادی ہدی انجم  میزبان: سارہ عمر  ہمارے اردگرد ایسے گم نام ہیرے موجود ہیں جنہیں تلاشنے کی ضرورت ہے۔ان کی چمک دمک صرف مخصوص حلقے تک ہی محدود ہے۔تبھی آج ہم آپ کو ایک ایسے ہیرے سے ملوانے جا رہے ہیں جنہوں نے بہت کم عرصے میں اپنا نام منوایا۔یہ نا صرف ادب اطفال کے حوالے سے کافی مشہور و معروف لکھاری ہیں بلکہ ادب عالیہ میں بھی اپنا نام بنا چکی ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نئے قارئین کے لیے یہ نام اتنا جانا پہچانا نہ ہو مگر حال ہی میں جگنو کی نائب مدیرہ کا عہدہ سنبھالے والی شہزادی ہدی انجم گزشتہ چار پانچ سالوں سے افسانے اور بچوں کی کہانیاں وغیرہ لکھ رہی ہیں۔یہ تین کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔ حال ہی میں میری شہزادی سے باضابطہ ملاقات ہوئی سو سوچا قارئین کو بھی اس ملاقات میں شریک کیا جائے اور ان کی شخصیت کے ان پہلوؤں سے روشناس ہوا جائے جن سے ابھی پردہ اٹھنا باقی ہے۔ السلام علیکم شہزادی !کیسی ہیں آپ؟ ج: الحمدللہ! میں بالکل خیریت سے ہوں۔اللہ پاک کا بہت احسان ہے۔ اپنا مختصر سا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کو جان سکیں۔ ج:میرا مکمل نام تو اوپر لکھا جا چکا ہ...

انٹرویو ڈرامہ رائٹر مدیحہ شاہد

  انٹرویو   ڈرامہ رائٹر اور ناول نگار  مدیحہ شاہد   میزبان  سارہ عمر  ڈرامہ انڈسٹری ایک وسیع انڈسٹری ہے۔خصوصا پاکستانی ڈرامے دنیا بھر میں مشہور و مقبول ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستانی ڈرامے ہمارے معاشرے کی کہانیوں کے عکاس ہیں۔ناظرین کی زندگی کی کہانیاں کہیں نہ کہیں ڈراموں کی کہانیوں سے مطابقت ضرور رکھتی ہیں۔ جہاں ڈرامہ انڈسٹری میں بہت بڑے بڑے نام شامل ہیں ان میں لکھاری،کانٹنٹ رائٹر اور اسکرپٹ رائٹر کا نام بے حد نمایاں ہوتا ہے۔اچھے لکھاری، اچھے ڈرامے کی ظمانت ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ڈرامے میں سب سے اہم کردار لکھاری کا ہے۔ڈرامہ اگر اچھا لکھا گیا ہو گا تو یقیناً شائقین کو پسند بھی آئے گا۔ آج ہمارے ساتھ پاکستان کی مشہور ڈرامہ رائٹر موجود ہیں۔ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔مدیحہ شاہد ڈرامہ رائٹر ہیں اور ان کے لکھے گئے مشہور ڈراموں میں ڈائجسٹ رائٹر سمیت کئی ڈرامے جن میں ایک تھی رانیہ،زویا صالحہ، دلآویز وغیرہ شامل ہیں۔چلیے اب مزید انتظار کروائے بغیر آپ کو ان سے ملوانے لیے چلتے ہیں۔ السلام علیکم مدیحہ!کیسی ہیں آپ؟ جواب: وعلیکم السلام ! میں خیریت سے ہوں الحم...