Skip to main content

Posts

انٹرویو مصنفہ نازیہ کامران کاشف

 ادب اور ادیب انٹرویو مصنفہ و ناول نگار نازیہ کامران کاشف انٹرویو انچارج سارہ عمر ادب اور ادیب کی بیٹھک میں اب تک آپ بہت سے ناول نگاروں،شعرا،ادبا اور مصنفین سے مل چکے ہیں۔ناول نگاری کی صنف میں زیادہ تر شہرت ڈائجسٹ رائٹرز کے حصے میں ہی آئی ہے۔جن کے ناولوں پہ مشہور و معروف ڈرامے بنائے گئے اور اس کے بعد ان کی کتب ہاتھوں ہاتھ لی گئیں لیکن ہمارے بیچ کچھ ایسے بھی مصنف موجود ہیں جنہیں اپنے نام اور کام کی پہچان بنانے کے لیے کسی ڈائجسٹ کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔  آج بھی ہماری مہمان ایک ایسی ہی مشہور و معروف شخصیت ہیں،جنہوں نے مختصر وقت میں اپنا نام اور کام منوایا ہے کہ واقعی قارئین داد دینے پہ مجبور ہو گئے ہیں جسے کہتے ہیں ”وہ آئی ،اس نے دیکھا اور وہ چھا گئی" ان کی تحریر عام تحریروں سے بالکل مختلف ہے اور ان کا اسلوب انہیں دیگر ہم عصر مصنفین سے ممتاز کرتا ہے۔جہاں ہر جانب صرف موضوع محبت زیر گفتگو ہو وہاں ادب کی دنیا میں سسپنس ،مسٹری،تھرل اور سائنس فکشن لکھ کر اپنا نام بنانا آسان نہیں۔انہوں نے نا صرف پاکستان میں سب سے پہلے ان لائن بک اسٹور ”بک بی“ کی بنیاد رکھی بلکہ انہیں پاکستان کی...

میں اسے لے کر جاؤں گی

میں اس سے لے کر جاؤں گی از قلم سارہ عمر یہ واقعہ آج سے کوئی پچاس پچپن سال پرانا ہے۔ یہ واقعہ میرے تایا تائی کے ساتھ پیش آیا اور ان کی بیٹی نے ہمیں سنایا۔ تایا تائی کی وفات کو بھی کئی سال ہو چکے ہیں اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے آمین۔۔  میرے تایا تائی پنڈی سے کراچی جاب کے لیے گئے تھے۔ پرانے زمانے میں اچھی جاب کے لیے بڑے شہروں کا رخ کیا جاتا۔ اس وقت ان کی شادی ہوئی تھی اور انہوں نے وہاں ایک چھوٹا سا گھر لے کر رہنا شروع کر دیا۔ معذرت کے ساتھ علاقےکا نام میرے علم میں نہیں۔ کچھ عرصے کے بعد ان کا پہلا بیٹا پیدا ہوا۔ اس رات تائی نے دیکھا کہ کمرے کے اوپر ایک روشندان ہے اور اس میں ایک عورت بیٹھی ہے جسے دیکھ کر انہیں بہت خوف محسوس ہوا ۔ وہ کہہ رہی تھی کہ میں اسے لے کر جاؤں گی۔ میں اسے لے کر جاؤں کی۔ تائی نے اس بات کو اپنا وہم سمجھا مگر اگلے دن بچے کا انتقال ہو گیا۔ تایا تائی بے تحا شا روئے اور پھر صبر کر لیا کیونکہ کراچی میں اکیلے ہی مقیم تھے کوئی رشتے دار موجود نہ تھا سو تایا نے بچہ اٹھایا اور اکیلے ہی قبرستان کی جانب روانہ ہو گئے ۔ راستے میں کسی نے ان کا نام دریافت کیا۔ چونکہ ہم لوگ س...

کچھ پل کی خوشی

کچھ پل کی خوشی  سارہ عمر   شائع شدہ سیارہ ڈائجسٹ اگست 2023 کچھ پل کی خوشی سارہ عمر، الریاض،سعودی عرب میری اس سے پہلی ملاقات انسٹا پہ ہوئی تھی۔انسٹا گرام ایک ایسی سوشل ایپ ہے جس پہ ہر وقت تصاویر کے ذریعے باتیں ہوتی رہتی ہیں۔فیس بک کی جگہ اب انسٹا گرام ہی زیادہ استعمال کی جاتی۔اسٹوری،ریلرز،پوسٹ سارا دن یہی تو چلتا رہتا تھا۔میرا ایک چھوٹا سا ہوم بزنس تھا،کیک بیک کرنا اور پھر اسے خوبصورت سا ڈیکوریٹ کر کے کسٹمرز کو بیچنا۔سو سارا دن میرا اسی مصروفیت میں گزر جاتا۔ایک منٹ رکیں،میں ذرا تفصیل سے بتاتی ہوں کیونکہ اب میرے پاس تفصیل لکھنے کی فرصت ہی فرصت ہے۔میرا نام آپ سبرینہ تصور کر لیں کیونکہ اب اصل نام لینے کی مجھ میں ہمت نہیں اور جس نام سے مجھے اب لوگ پکارتے ہیں وہ میں آپ کو آخر میں بتاؤ گی۔ہاں،تو مجھے قطر آئے کافی سال ہو چکے تھے۔میرے میاں صاحب ہر وقت آفس کے کام میں مصروف رہتے،بچے ہوئے اور بڑے ہو کر کب اسکول جانے لگے پتہ ہی نہیں چلا۔بڑا بیٹا چھٹی جماعت میں تھا اور چھوٹی بیٹی چوتھی میں جب میں نے اپنا کام شروع کیا تھا۔ ”بھلا کیا کرو گی اس چھوٹے سے بزنس کا،سب کچھ تو ہے تمہارے پاس“ عمیر نے...