ادب اور ادیب
انٹرویو مصنفہ و ناول نگار
نازیہ کامران کاشف
انٹرویو انچارج
سارہ عمر
ادب اور ادیب کی بیٹھک میں اب تک آپ بہت سے ناول نگاروں،شعرا،ادبا اور مصنفین سے مل چکے ہیں۔ناول نگاری کی صنف میں زیادہ تر شہرت ڈائجسٹ رائٹرز کے حصے میں ہی آئی ہے۔جن کے ناولوں پہ مشہور و معروف ڈرامے بنائے گئے اور اس کے بعد ان کی کتب ہاتھوں ہاتھ لی گئیں لیکن ہمارے بیچ کچھ ایسے بھی مصنف موجود ہیں جنہیں اپنے نام اور کام کی پہچان بنانے کے لیے کسی ڈائجسٹ کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔
آج بھی ہماری مہمان ایک ایسی ہی مشہور و معروف شخصیت ہیں،جنہوں نے مختصر وقت میں اپنا نام اور کام منوایا ہے کہ واقعی قارئین داد دینے پہ مجبور ہو گئے ہیں جسے کہتے ہیں
”وہ آئی ،اس نے دیکھا اور وہ چھا گئی"
ان کی تحریر عام تحریروں سے بالکل مختلف ہے اور ان کا اسلوب انہیں دیگر ہم عصر مصنفین سے ممتاز کرتا ہے۔جہاں ہر جانب صرف موضوع محبت زیر گفتگو ہو وہاں ادب کی دنیا میں سسپنس ،مسٹری،تھرل اور سائنس فکشن لکھ کر اپنا نام بنانا آسان نہیں۔انہوں نے نا صرف پاکستان میں سب سے پہلے ان لائن بک اسٹور ”بک بی“ کی بنیاد رکھی بلکہ انہیں پاکستان کی پہلی خاتون سائنس فکشن لکھاری ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
چلیں اب مزید انتظار کروائے بغیر ہم آپ کو ملواتے ہیں
”عشق زار“، ”مکلی“، ”دل لگی“، ”برمودا ٹرائی اینگل“، "من گنجل" اور "شاکا" کی مصنفہ نازیہ کامران کاشف سے.
س: السلام علیکم! نازیہ صاحبہ کیسی ہیں آپ؟
ج: وعلیکم السلام ۔ الحمدللہ اللہ کا بہت کرم ہے۔
س:کچھ اپنا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کے متعلق جان سکیں مزید یہ بھی بتائیے کس شہر سے تعلق ہے،کہاں پیدا ہوئیں؟
ج: میں کراچی میں پیدا ہوئی اور وہیں پلی بڑھی ۔ تین سال پہلے ہی لاہور شفٹ ہوئی ہوں۔ مجھے لوگ سب سے پہلے بک بی Book Bee کے نام سے جانتے ہیں کیونکہ میں نے پاکستان میں سب سے پہلے آن لائن بک اسٹور کی بنیاد رکھی اور میرے بک اسٹور کو پاکستان ای کامرس کی طرف سے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔ اس کے بعد میں نے پاکستان کے پہلے ادبی پلیٹ فارم PABWRP کی بنیاد رکھی جو نئے لکھنے اور سیکھنے والوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر تقریبات منعقد کیں۔ اس کے بعد میرا لکھنے کا سفر شروع ہوا اور الحمدللہ اب تک میری پانچ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ میں پاکستان کی پہلی خاتون سائنس فکشن لکھنے والی مصنفہ ہوں اور میری کتاب برمودا ٹرائینگل کو ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے ۔
(واہ ماشاءاللہ۔۔یہ سب جان کر بہت اچھا لگا)
س: آپ نے اپنی تعلیم کہاں سے حاصل کی اور کیا کسی جاب وغیرہ سے بھی منسلک ہیں؟
ج: میں نے کراچی سے ہی تعلیم مکمل کی ۔ شادی سے پہلے مختلف کمپنیز میں بطور ایڈمنسٹریٹر اور ایچ آر منیجر کام کیا۔ مگر اب اپنا بک اسٹور چلا رہی ہوں۔
س: سب سے پہلے ہمیں کچھ اپنے ادبی سفر کے متعلق بتائیے کہ لکھنے کا آغاز کیسے ہوا؟
ج:
میں نے 2019 میں لکھنا شروع کیا ۔ پہلے تجربے کے طور پر ایک رومانوی ناول لکھا۔ پذیرائی ملنے پر حوصلہ بڑھا اور میں نے نئی اصناف پر قلم اٹھایا ۔
س:آپ نے نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک ان لائن گروپ می بنیاد رکھی،اسے بنانے کا خیال کس طرح آیا؟
ج: مجھے میرے بک اسٹور پر نئے لکھنے والوں کے کئی پیغامات موصول ہوتے تھے کہ انہیں موقع دیا جاۓ۔ یہی سوچ پیبورپ کی بنیاد رکھنے کا سبق بنی۔
س: نئے لکھاریوں کو تو آپ نے پلیٹ فارم مہیا کیا ہی،مگر خود آپ کی سب سے پہلی تحریر کون سی تھی اور اس تحریر پہ سب سے زیادہ حوصلہ افزائی کس نے کی؟
ج:میری پہلی تحریر میری کتاب دل لگی تھی اور میری حوصلہ افزائی میرے پلیٹ فارم کے ممبران نے ہی کی۔
س:آپ ایک ان لائن بک اسٹور ”بک بی“ کی بانی بھی ہیں۔اس اسٹور کو بنانے کا خیال کیسے آیا اور کیا اس کا رسپانس آپ کی توقعات کے مطابق ملا؟
ج: میں گھر سے کچھ کام کرنا چاہتی تھی۔ پڑھنے کا بے حد شوق تھا تو گھر میں کتابوں اور ناولز کا ڈھیر تھا۔ ایک بار گھر کی شفٹنگ کے دوران کچھ کتابیں بیچنے کا خیال آیا اور پھر یہی خیال بک بی کی بنیاد رکھنے کا سبب بنا۔ میں نے اپنے شوق کو ہی ذریعہ معاش بنانے کا فیصلہ کیا۔
س:ہمارے نئے قارئین جاننا چاہیں گے کہ آپ کی اب تک کتنی کتب مارکیٹ میں آ چکی ہیں اور یہ کس پبلشر سے شائع کی گئیں؟
الحمدللہ اب تک میری پانچ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں سے تین ، دل لگی ، مکلی اور عشق زاد علی میاں پبلیکیشنز نے شائع کی ہیں اور برمودا ٹرائینگل ، من گنجل اور شاکا علم و عرفان پبلشرز کے پلیٹ فارم سے شائع ہو رہی ہیں۔
س:کچھ اپنی کتب کے متعلق بتائیے کہ یہ کیسے دیگر فکشن ناول کی نسبت مختلف ہیں؟
میں پڑھتی بہت ہوں اور یکسانیت سے جلدی اکتا جاتی ہوں۔ ہمیشہ نئے اور اچھوتے موضوعات پڑھنا میرا شوق ہے تو جب اس حیرت سراۓ کائنات کے بارے میں کچھ بھی نیا معلوم ہوتا ہے تو قلم ان معلومات کے خزانے کو دنیا تک پہنچانے کے لیے بے تاب ہوجاتا ہے ۔ اس لئیے میرے ناول مختلف ہوتے ہیں ۔
س:آپ کی ہر تحریر میں بہت گہرائی سے ہر بات بیان کی جاتی ہے اور آپ کے تمام ناولوں میں مخصوص موضوعات پر عمدہ ریسرچ شدہ مواد موجود ہوتا ہے۔یہ تحقیق آپ خود کرتی ہیں یا اس کے لیے کسی کی مدد بھی لیتی ہیں؟نیز اس ریسرچ کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں؟
ج: میں خود ریسرچ کرتی ہوں۔ اس کے لیے انٹرنیشنل لائیبریریز کی سبسکرپشن ، نئے ریسرچ پیپرز کی اشاعت اور سائنس کی بڑھتی ہوئی پہنچ پر نظر رکھتی ہوں۔ کچھ اہم ریسرچرز کی ریسرچ کو پڑھنے میں کئی مہینے لگا دیتی ہوں اور پھر اسے اپنے ناولز کے ذریعے سہل انداز میں لوگوں تک پہنچاتی ہوں۔
س:آپ نے ہارر،سسپنس،مسٹری،تھرل، ایڈونچر اور ٹائم ٹریول بیس ناول لکھے ہیں۔ایسی فکشن لکھنے کے لیے انسپریشن کہاں سے لیتی ہیں؟
ج:اپنی انسپیرشن میں خود ہوں۔ ہر بار پہلے سے بہتر لکھنے کی لگن مجھ سے یہ سب کچھ کرواتی ہے ۔
س:آپ کے نزدیک سسپنس،مسڑی اور تھرل کیا ہے؟
پڑھنے والا آخر وقت تک جان ہی نا سکے کہ ناول میں کیا چل رہا ہے. آخری صفحے تک کتاب سے جڑا رہے۔ اسے پڑھنے پر مجبور ہو جائے ۔ یہی میرے نزدیک بہترین سسپنس اور تھرل ہے۔
س:آپ کی تحریر بے تحاشا سحر انگیز ہیں مگر اس کے باوجود آپ نے کبھی ڈائجسٹ میں نہیں لکھا اس کی کیا وجہ ہے؟
ڈائجسٹ میں زیادہ تر رومانوی کہانیوں کو ترجیح دی جاتی ہے مگر حال ہی میں ، سسپنس ڈائجسٹ کے لئیے شاکا لکھا ہے جسے قارئین میں بے حد سراہا جارہا ہے ۔
س: ڈائجسٹ میں ناول یا افسانے کی اشاعت کے باوجود آپ کا نام صف اول کے مصنفین میں ہوتا ہے،اس متعلق کیا کہنا چاہیں گی؟
اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہوں گی اور یہی کہنا چاہوں گی کہ تنقید کرنے والے بس تنقید ہی کرتے رہ جاتے ہیں ۔ جب اللہ تعالٰی نے آپ کو عزت دینی ہو تو وہ خود راستے تلاش کر لیتی ہے ۔
س:آپ کا نیا ناول ''شاکا " سسپینس ڈائجسٹ میں شائع ہو رہا ہے۔کچھ اس کے متعلق بتائیے کہ اس کی کہانی باقی تحاریر سے کیسے مختلف ہے۔
ج: شاکا کا موضوع دنیا میں پائے جانے والے عفریت ، پیرلل یونیورس اور نباتی ہتھیاروں کی تباہ کاریوں پر مبنی ہے ۔ شاکا سے پہلے ایسا کوئی مواد اردو ادب میں موجود نہیں ہے ۔
س:آپ کے نئے ناول”من گنجل“ کو بہت پزیرائی ملی اور اسے ادبی حلقوں میں خاصی مقبولیت حاصل ہے۔کچھ اس ناول کے متعلق بتائیے کہ یہ قارئین کو کیوں پڑھنا چاہیے؟
ج:من گنجل ایک ہلکا پھلکا مزاح سے بھرپور رومانوی ناول ہے مگر اس میں کچھ اہم معاشرتی پہلوؤں پر قلم اٹھایا ہے۔ جیسے بڑی عمر کی عورت سے شادی ، طلاق یافتہ عورت سے شادی ، روایتوں کے نام پر دین سے دوری اور "لوگ کیا کہیں گے" جیسے خوف کی وجہ سے خود کو اذیت دینا بیان کیا گیا ہے ۔
س:آپ کی تمام تحاریر ایک سے بڑھ کر ایک ہیں لیکن آپ کو اپنی کونسی تحریر بہت پسند ہے جس کے متعلق آپ کہہ سکتی ہیں کہ یہ تمام تحاریر میں سب سے منفرد ہے؟
ج: مجھے برمودا ٹرائینگل اور عشق زاد بہت پسند ہیں۔ مگر آنے والے سالوں میں یہ پسند مزید تصنیفات کی وجہ سے بدل بھی سکتی ہے۔
س:کچھ عرصہ پہلے تک آپ سوشل میڈیا پہ کافی فعال تھیں اور آپ کی کتب کی تقریب رونمائی میں کافی ادبا اور قارئین نے شرکت کی۔کیا عنقریب پھر کسی تقریب رونمائی کے منعقد ہونے کا امکان ہے؟
ج: جی انشاء اللہ ۔ بہت جلد مزید تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
س:آپ کا اگلا ناول عنکبوت کب تک شائع ہو جائے گا؟
ج: انشاء اللہ وہ بھی جلد ہی منظر عام پر آ رہا ہے مگر فی الحال میں اس کے بارے میں کوئی اعلان نہیں کرسکتی ۔
س:کسی نئے پراجیکٹ پہ کام چل رہا ہے تو کچھ اس کے متعلق بھی بتائیے۔
ج: جی ایک اور اہم موضوع پر لکھ رہی ہوں۔ یہ میرے پڑھنے والوں کے لیے سرپرائز ہوگا یقیناً ۔
س:ناول لکھتے ہوئے اکثر پچھلے کردار یا ڈائلاگ یا سین بھول جاتے ہیں ان سب کو یاد کرنے کے لیے کیا کرتی ہیں؟نوٹس لکھ کر رکھتی ہیں یا دوبارہ سے مطالعہ کرتی ہیں؟
ج: میں نہیں بھولتی ۔ کیونکہ میں ہر کردار پر خود کو طاری کرکے لکھتی ہوں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پڑھنے والا بھی اسے محسوس کرتا ہے ۔
س:ناول لکھتے کوئی بہت مزے کا واقعہ پیش آیا ہو تو ضرور شئیر کریں۔
ج: عشق زاد لکھتے ہوئے ایک دو دفعہ کافی ڈر گئی تھی۔ کیونکہ موضوع جنات تھا لہذا مجھے کافی ڈرایا گیا مگر الحمدللہ میں نے جو لکھا ریسرچ کرکے لکھا اور ان کا مثبت رخ لوگوں کے سامنے لے کر آئی اور الحمدللہ اسے سوچ سے بڑھ کر پذیرائی حاصل ہوئی ۔
س:کیا آپ کے ناولوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے؟کیونکہ ہر تحریر ہر قاری کے مطابق نہیں ہوتی۔
جب تعریف کے ساتھ تنقید بھی موصول ہو تو کیسا لگتا ہے اور تنقید کس بات پہ زیادہ کی جاتی ہے؟
ج: جن کو کوئی بات نہیں ملتی وہ اکثر میری پہلی تحریر دل لگی کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں مگر مجھے برا نہیں لگتا۔ کیونکہ میں بارہا کہہ چکی ہوں کہ دل لگی میری پہلی تحریر تھی اور میرا قلم اور تخیل اتنا رواں نہیں تھا۔ کچھ جھجک بھی تھی۔ اس کے علاوہ قارئین کی مثبت تنقید اور مشورے کھلے دل سے سنتی ہوں اور ان پر عمل بھی کرتی ہوں۔
س:نئے لکھاری جو لکھنا چاہتے ہیں انہیں کیا کہنا چاہیں گی کہ لکھنے کا آغاز کیسے کریں؟
ج: پہلے وہ پڑھیں، مطالعہ وسیع کریں۔ اس کے بعد لکھیں۔
س: کیا آپ کی زندگی میں کبھی ایسا وقت آیا کہ دل چاہا کہ لکھنا چھوڑ دیا جائے؟ اگر ایسا وقت آیا تو اس وقت کونسی چیز نے دوبارہ لکھنے کی جانب مائل کیا؟
ج: رائٹر بلاک سب پر آتا ہے ۔ مجھ پر برمودا ٹرائینگل لکھنے کے بعد ایک سال تک یہ بلاک رہا۔ مگر الحمدللہ شاکا لکھنے سے یہ بلاک ٹوٹ گیا۔ میں نے خود کو وقت دیا۔ اس ایک سال میں بہت کچھ پڑھا، اچھا کانٹینٹ دیکھا ، فلمیں اور سیریز دیکھیں۔ ناردرن ایریاز گھومنے گئی۔ بس خود کو مصروف اور تازہ دم کیا۔
س:آپ نے اپنے گھر،بچوں،بک بی،فیس بک گروپ،کتابوں کی اشاعت سب کو بہت عمدہ طور سے مینج کیا ہے اس کا کیا راز ہے کہ یہ سب احسن طور سے مینج کر لیتی ہیں؟
ج: بچے اور میرے شوہر کا تعاون سب سے اہم ہے۔ بچوں کے اسکول جانے کے وقت لکھ لیتی ہوں۔ باقی وقت ان کا اور گھر کا۔
چلیے اب کچھ اپنی پسند نا پسند کے متعلق بتائیے۔
پسندیدہ کتاب: پیر کامل
پسندیدہ مصنف: مستنصر حسین تارڑ ، عمیرہ احمد ، نمرہ احمد ، نگہت عبداللہ ۔
پسندیدہ شاعر: امجد اسلام امجد ، جون ایلیاء ، نوشی گیلانی ، پروین شاکر ۔
پسندیدہ کھانا: بریانی ، بھنڈی
پسندیدہ خوشبو: بہت ساری ہیں
پسندیدہ رنگ: نیلا، کالا
لکھنے کے علاؤہ دیگر کن مشاغل کو باقاعدگی سے وقت دیتی ہیں
سیریز دیکھنا، پڑھنا، کھانا پکانا
س: اپنی کون سی خوبی بہت پسند ہے جس سے نقصان بھی اٹھانا پڑا ہو؟
ج: بہت جلدی اعتبار کرلینا، ہر کسی کو دوست سمجھ لینا ،لوگوں کے راز کو راز رکھ لینا۔
س: اپنی کوئی ایسی خامی بتائیں جسے بدلنے کی بہت خواہش ہو؟
ج: پہلے غصہ آتا تھا بہت۔ اب نہیں آتا الحمدللہ ۔ لہذا بدل لیا ہے خود کو۔
س: فرصت کے اوقات میں کن مصنفین کو پڑھنا زیادہ پسند کرتی ہیں؟
عمیرہ احمد ، مستنصر حسین تارڑ
س: زندگی کا وہ یادگار لمحہ جو ناقابل یقین لگتا ہو؟
ج: والد صاحب کی وفات
س:کوئی ایک خواہش بتائیے جس کے پورا ہونے کی حسرت ہے مگر ابھی تک پوری نہیں ہوئی۔
ج: دنیا گھومنا، اپنے ناولز کو بڑے پردے پر دیکھنا۔
س:زندگی کا کوئی ایک لمحہ جو دوبارہ سے جینے کی خواہش ہو؟
نہیں ایسا کوئی لمحہ نہیں ۔
س: آخر میں اپنے پڑھنے والوں کو اور خاص طور سے شاکا کے فینز کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟
ج: آپ سب کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان میں ہر صنف کو پڑھنے اور سراہنے والے موجود ہیں ۔ میں آپ کو آگے بھی مایوس نہیں کروں گی انشاء اللہ ۔
آپ سے مل کر ہمیں بھی بہت اچھا لگا ہے اور امید ہے ہمارے قارئین بھی انٹرویو سے بہت لطف اندوز ہوئے ہوں گے۔اب اگلے ماہ تک کے لیے اجازت چاہتے ہیں تاکہ پھر دلچسپ اور کھٹی میٹھی باتوں کے ساتھ حاضر ہو سکیں۔تب تک
#naziakamrankashif
#interview
#ashabeqalam
#novelwriter
#naziakamran
#makli
#dillagi
#author
#inyerviewbysarahomer
#sarahomerblog
#sarahomerکے لیے اللہ حافظ۔











Comments
Post a Comment