Skip to main content

میں اسے لے کر جاؤں گی

میں اس سے لے کر جاؤں گی

از قلم سارہ عمر


یہ واقعہ آج سے کوئی پچاس پچپن سال پرانا ہے۔ یہ واقعہ میرے تایا تائی کے ساتھ پیش آیا اور ان کی بیٹی نے ہمیں سنایا۔ تایا تائی کی وفات کو بھی کئی سال ہو چکے ہیں اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے آمین۔۔ 

میرے تایا تائی پنڈی سے کراچی جاب کے لیے گئے تھے۔ پرانے زمانے میں اچھی جاب کے لیے بڑے شہروں کا رخ کیا جاتا۔ اس وقت ان کی شادی ہوئی تھی اور انہوں نے وہاں ایک چھوٹا سا گھر لے کر رہنا شروع کر دیا۔ معذرت کے ساتھ علاقےکا نام میرے علم میں نہیں۔ کچھ عرصے کے بعد ان کا پہلا بیٹا پیدا ہوا۔ اس رات تائی نے دیکھا کہ کمرے کے اوپر ایک روشندان ہے اور اس میں ایک عورت بیٹھی ہے جسے دیکھ کر انہیں بہت خوف محسوس ہوا ۔ وہ کہہ رہی تھی کہ میں اسے لے کر جاؤں گی۔ میں اسے لے کر جاؤں کی۔ تائی نے اس بات کو اپنا وہم سمجھا مگر اگلے دن بچے کا انتقال ہو گیا۔ تایا تائی بے تحا شا روئے اور پھر صبر کر لیا کیونکہ کراچی میں اکیلے ہی مقیم تھے کوئی رشتے دار موجود نہ تھا سو تایا نے بچہ اٹھایا اور اکیلے ہی قبرستان کی جانب روانہ ہو گئے ۔ راستے میں کسی نے ان کا نام دریافت کیا۔ چونکہ ہم لوگ سید ہیں اور خاندان کے تمام مردوں کے ناموں کے ساتھ سیدفر لگا ہوا ہے۔ سیدوں کو لوگ ہمیشہ ہی عزت دیتے ہیں مگر اس زمانے میں ہر کوئی نام کے ساتھ سید لگانا بھی نہیں تھا۔ اس لیے اس نا معلوم شخص نے وہاں موجود سب لوگوں کو آگاہ کیا کہ یہ سید ہے اور اسکے بچے کا انتقال ہو گیا ہے۔ ایک جم غفیر اس بچے کے جنازے میں شامل ہو گیا اور اس کی تدفین کی گئی ۔ ایک سال بعد ان کے گھر پھر بیٹے کی پیدائش ہوئی۔ اس بار تائی پہلے ہی خوفزدہ تھیں مگر اس رات پھر وہی عورت پھر روشن دان میں آگئی کہ میں اسے لے کر جاؤں گی۔؛ اب تائی کو بے حد ڈر محسوس ہوا مگر یہ سچ ثابت ہوا اور بچے نے آخری ہچکی لی اور اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔ تایا کا عقیدہ بہت پختہ تھا کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے کسی مخلوق کی طرف سے نہیں۔ لہذا وہ اسی گھر میں رہائش پذ پر رہے تائی نے بہت ضد کی کہ گھر چھوڑ دیں مگر وہ نہیں مانے۔ سال ڈیڑھ بعد پھر ان کا تیسرا بیٹا پیدا ہوا۔ اس بار پھر تائی بہت پریشان تھیں کہ پھر وہی عورت روشندان میں آکر بیٹھ گئی کہ میں اسے لے کر جاؤں گی۔ تائی بہت روئیں مگر اس بار بھی انہیں تیسرے بچے سے بھی ہاتھ دھونے پڑے لیکن اس کے بعد بالآخر انہوں نے گھر

تبدیل کر لیا۔ اس کے بعد ان کے تین بیٹے اور چار بیٹیاں مزید ہو ئیں ماشاء اللہ اور سب حیات ہیں۔ ان کی بیٹی نے یہ واقعہ سنایا تو ہم حیران ہوئے کہ کتنا مشکل وقت دیکھا انہوں نے ۔ یہاں یہ بات ذکر کر دوں کہ آج کل کے لوگوں کے لیے اتنے بچے حیران کن ہوں گے مگر اس وقت پاکستان کی آبادی کم تھی تو گورنمنٹ کا آڈر تھا کہ ملک کی آبادی میں اضافے کے لیے بچے زیادہ پیدا کیے جائیں ۔ بعد میں آبادی بڑھ بھی گئی تب بھی لوگ اس آرڈر کو تسلیم کرتے 

رہے۔





Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...