Skip to main content

کچھ پل کی خوشی



کچھ پل کی خوشی 

سارہ عمر 

شائع شدہ سیارہ ڈائجسٹ اگست 2023



کچھ پل کی خوشی

سارہ عمر،

الریاض،سعودی عرب


میری اس سے پہلی ملاقات انسٹا پہ ہوئی تھی۔انسٹا گرام ایک ایسی سوشل ایپ ہے جس پہ ہر وقت تصاویر کے ذریعے باتیں ہوتی رہتی ہیں۔فیس بک کی جگہ اب انسٹا گرام ہی زیادہ استعمال کی جاتی۔اسٹوری،ریلرز،پوسٹ سارا دن یہی تو چلتا رہتا تھا۔میرا ایک چھوٹا سا ہوم بزنس تھا،کیک بیک کرنا اور پھر اسے خوبصورت سا ڈیکوریٹ کر کے کسٹمرز کو بیچنا۔سو سارا دن میرا اسی مصروفیت میں گزر جاتا۔ایک منٹ رکیں،میں ذرا تفصیل سے بتاتی ہوں کیونکہ اب میرے پاس تفصیل لکھنے کی فرصت ہی فرصت ہے۔میرا نام آپ سبرینہ تصور کر لیں کیونکہ اب اصل نام لینے کی مجھ میں ہمت نہیں اور جس نام سے مجھے اب لوگ پکارتے ہیں وہ میں آپ کو آخر میں بتاؤ گی۔ہاں،تو مجھے قطر آئے کافی سال ہو چکے تھے۔میرے میاں صاحب ہر وقت آفس کے کام میں مصروف رہتے،بچے ہوئے اور بڑے ہو کر کب اسکول جانے لگے پتہ ہی نہیں چلا۔بڑا بیٹا چھٹی جماعت میں تھا اور چھوٹی بیٹی چوتھی میں جب میں نے اپنا کام شروع کیا تھا۔

”بھلا کیا کرو گی اس چھوٹے سے بزنس کا،سب کچھ تو ہے تمہارے پاس“

عمیر نے میرا ارادہ سن کر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ٹھیک ہی تو کہتے تھے،پہلے ان کی جاب تھی پھر ساتھ ہی انہوں نے پارٹ ٹائم فری لانسنگ کا کام شروع کر دیا تو آمدنی میں اضافہ ہو گیا مگر مجھے گھر میں بچوں کے جانے کے بعد سناٹا سا محسوس ہونے لگا۔ہر وقت خاموشی ہی خاموشی،سکون ہی سکون،سو جاؤ،صفائی کر لو،ٹی وی دیکھ لو یا کھانا پکا کر فارغ۔۔۔مجھ جیسی بے کل ہڈی کو کیسے چین آتا سو یہ بزنس ایک بہانہ تھا۔دل بہلانے کا مگر مشکل تب بنی تھی جب واقعی میرا دل لگ گیا تھا۔یہاں پہ بڑی بڑی بیکریاں تھیں تبھی میں نے اپنے ریٹ بہت مناسب سے رکھے تھے،قیمت کم ہونے کے باعث کافی لوگ رابطہ کرنے لگے تو میرے بھی دن مصروف گزرنے لگے۔انسٹا پہ بزنس پیج بنا کر میں ہر زاویے سے کیک کی تصویریں کھینچتی اور انہیں انسٹا پہ اپ لوڈ کرتی رہتی۔سارے کسٹمر مجھ سے انسٹا کے ذریعے ہی رابطہ کرتے سو دن رات اس پہ اسٹوری ڈال کر میں پیج پہ لوگوں کو اینگیج کرتی رہتی تھی۔عمیر بھی اس مصروفیت سے خوش تھے کیونکہ میری شکایتیں کم ہو گئیں تھیں کہ وہ مجھے وقت نہیں دیتے یا ہم پورا ہفتہ کہیں باہر نہیں نکلتے۔

ہم دونوں کے پاس بظاہر تو سب کچھ تھا بچے،گھر،اچھا کھانا پینا،پیسہ بھی مگر جس چیز کی کمی تھی وہ تھی عمیر کی جانب سے پزیرائی۔میں جتنا بھی اچھا کھانا بنا لوں وہ کبھی تعریف ہی نہ کرتے تھے،جتنا اچھا تیار ہو جاتی تو تب بھی مسکرا کر ایک نظر دیکھنے کے علاوہ کبھی دل کھول کر میری تعریف نہ کرتے۔میں بھی کبھی بولتی کبھی چپ سادھ لیتی۔گھر تھا،بچے تھے،سکون تھا تعریف نہیں بھی کرتے تو خیر تھی نا۔۔۔مگر یہ درحقیقت خیر نہیں تھی۔

عورت کے لیے تعریف ایک ڈیزل کی طرح ہوتی ہے جو گاڑی میں ڈالو تو وہ چلتی ہے دوڑتی ہے فراٹے بھرتی ہے،مگر ڈیزل کی کمی گاڑی کو رک رک کر چلنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔مرد کو معلوم نہیں ہوتا یہ ڈیزل کتنا ضروری ہے مگر حقیقت تب پتہ چلتی ہے جب کوئی گاڑی پہ پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دے۔آپ سوچیں گے یہ کیسی مثال ہوئی رکیں پہلے کہانی پڑھ لیں پھر آپ کو یہ مثال خودبخود سمجھ آ جائے گی۔

خیر،میں گھر میں رہنے والی ہاوس وائف،مجھے کیا پتہ کہ دنیا میں کیا چل رہا ہوتا ہے۔۔۔سو میں ہر وقت اپنے کام میں مصروف رہتی۔کیک بنانا،آرڈر لینا،ڈیٹ اسائن کرنا،رائڈر کے ہاتھ ڈسپیچ کرنا،بچوں اور گھر کو دیکھنا۔سب کچھ تو ٹھیک چل رہا تھا بھلا کمی کدھر تھی؟بس وہیں جہاں میرے میاں ذرا سا بھی وقت نکال کر میرے لیے دو لفظ بھی نہ کہتے کہ میرے دن بھر کی تھکن ہی اتر جائے۔دن بھر کی تھکن مرد کے دو ہمدردی کے بول دھو دیتے ہیں مگر یہ دو بول بولے کون؟عمیر نجانے کیوں ایسے تھے کہ جتنا مرضی بھی میں اصرار کر لوں وہ کبھی بھی میری تعریف نہ کرتے اور اب یہ چیز مجھے اذیت دینے لگی تھی۔انسٹا پہ لوگوں کی جانب سے خوبصورت کیک کی تعریفیں سمیٹتے یہ غم کچھ ہلکا ہونے لگا تھا جب میری اس سے پہلی ملاقات ہوئی۔نہیں یہ باقاعدہ ملاقات نہیں ،سوشل میڈیا کی آدھی ملاقات تھی۔

اس نے میری کسی اسٹوری پہ کمنٹ کیا تھا اسے رپلائی کرتے میں اس کا اکاؤنٹ بھی چیک کر آئی تھی۔یہ میرے لیے معمول کی بات تھی۔اس کا اکاؤنٹ پبلک تھا،اس پہ اس کی تصویریں بھی تھیں۔وہ ایک قبول صورت نوجوان تھا جو کہ شہر کی مشہور کافی شاپ میں بارٹنڈر تھا۔اس کا تعلق انڈیا سے تھا اور وہ انڈین مسلم تھا۔آذر سجیب سے یہ میرا پہلا تعارف تھا۔اس کا اکاؤنٹ دیکھنے کے بعد دل میں تو یہی آیا کہ انڈیا کے رہائشی سے بات نہ ہی کی جائے کیونکہ بحیثیت پاکستانی انڈیا کا نام سن کر ہی ایک دشمن جیسی فیلنگ آتی ہے لیکن یہ باہر ملکوں میں رہنے والے،مکس نیشنلٹی میں کام کرنے والے جلد ہی اس احساس سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں۔

”ہمیں سب کسٹمرز کو ان کے مذہب،ان کی ذات،ان کی نسل،ان کے ملک سے بالاتر ہو کر ملنا ہے“

میں نے زیر لب اپنے کام کا موٹو۔۔دھرایا تھا۔اس دن ہماری پہلی بار چیٹ ہوئی۔اسے بولنے کا ہنر آتا تھا۔وہ لفظوں کا کھلاڑی تھا۔لفظوں کا بادشاہ یا لفظوں کا جادوگر

بات سے بات کس طرح نکالنی ہے یہ شاید آذر سے بہتر کوئی نہ جانتا تھا۔

میں نے اس وقت تو ذرا سی ہی بات کی مگر رات کو جب سونے کو لیتی تو اس کا مسیج جگمگایا تھا۔

وہ بس ہیلو ہائے کر رہا تھا۔میں نے اس کو رپلائی دیا تو وہ لفظوں کا کھلاڑی جی اٹھا تھا۔

اس رات پہلی بار میں اس سے دو گھنٹے بات کرتی رہی اور مجھے وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا۔

وہ مجھ سے میرے متعلق پوچھتا رہا۔کون ہوں،کیا کرتی ہوں،کتنے عرصے سے ادھر مقیم ہوں،شادی،گھر،بچے،میری عمر اور پھر کیک کے بزنس کے متعلق باتیں۔کچھ وہ اپنی سناتا رہا۔وہ شادی شدہ ایک بیٹی کا باپ تھا۔بس یہی وہ چیز تھی جو ہم دونوں میں مماثلت رکھتی تھی۔مجھے لگتا تھا شادی شدہ ہونا اس بات کی گارنٹی ہے کہ آپ کسی دوسرے شخص میں دلچسپی نہیں رکھ سکتے حالانکہ میں غلط تھی دلچسپی تو اپنا راستہ خود ہی ڈھونڈ لیتی ہے نا۔اس کو شادی شدہ یا کنوارے ہونے سے مطلب نہیں ہوتا۔

اس کی بیوی اور بیٹی انڈیا میں رہائش پذیر تھیں اور خود وہ یہاں اکیلا۔سو رات کو کام کے بعد وہ سوشل میڈیا پہ ایکٹیو ہوتا۔میں رات کو سو جاتی تھی مگر کبھی کبھی کسٹمر سے مسیج کرتے دیر بھی ہو جاتی لیکن جب سے آذر سے بات ہوئی تھی۔میں اس کے طرزِ تخاطب پہ حیران تھی۔چھوٹی سی عمر میں وہ علم کا سمندر تھا۔ہم کھانے پینے کے موضوغ پہ گھنٹوں بات کر لیتے کیونکہ وہ کافی شاپ میں بارٹنڈر تھا سو کافی اور دیگر کھانوں کے حوالے سے اس کی معلومات بہت زیادہ تھیں۔مشہور اور معروف فوڈ چین والے اپنے ملازمین کی باقاعدہ ٹریننگ کرتے ہیں تاکہ وہ کھانے کے رنگ،ذائقے،لذت کے متعلق باقاعدہ جان سکیں۔اس نے کئی کورسز کے ساتھ ساتھ نیوٹریشن میں ڈپلومہ بھی حاصل کیا ہوا تھا۔تبھی میں اس علم کے سمندر کی جانب کھنچتی چلی گئی تھی،اس کے پاس ہر طرح کی معلومات تھیں اور میرا بزنس نیا تھا مجھے کسی کی رہنمائی کی ضرورت تھی۔

کبھی وہ مجھے اسپیشیلٹی کافی کے متعلق بتاتا کہ وہ کس طرح اونچے پہاڑوں پہ،ایک مناسب موسم میں اگائی جاتی ہے اور اسے مخصوص وقت میں چنا جاتا ہے۔ 1970 میں پہلی بار ٹی اینڈ کافی ٹریڈ جنرل میں اس لفظ کو بیان کیا گیا۔وہ ذائقے میں بے حد منفرد ہوتی ہے۔

”آپ کبھی ہماری کافی شاپ پہ آئی ہیں؟“

میں نے نفی میں جواب ٹائپ کیا تھا۔

”تو سبرینہ کبھی آئیں نا ہماری کافی شاپ پہ،میں آپ کو اسپیشیلٹی کافی کے ساتھ سفون کافی اور وی60 بھی پلاؤں گا“

اس کا اصرار مسیج میں نظر آ رہا تھا

”یا اللہ اب یہ کیا بلا ہے؟“

میں تو ان کافی کے نام سن کر ہی حیران تھی۔میں اور عمیر تو بس بلیک کافی،کولڈ کافی،آئس لیٹی،موکا اور کیپیچینو ہی پی چکے تھے۔اس کے آگے تو ہماری کافی کا ذخیرہ الفاظ ہی ختم تھا۔۔جبکہ وہ کافی شاپ میں بارٹنڈر تھا۔نئے نئے ذائقے بنانا اور اپنے ہاتھوں کا جادو جگانا اسے خوب آتا تھا۔

”سفون کافی چائنیز کافی ہوتی ہے،اس کو بنانے کا طریقہ ہی الگ ہوتا ہے۔اس کا ذائقہ اس کی خوشبو،اس کی مٹھاس آپ الگ ہی دنیا میں پہنچ جائیں گی۔آئی بیٹ۔۔۔(میں شرط لگاتا ہوں)“

”ارے بابا نہیں جانا میں نے دوسری دنیا میں مجھے اسی دنیا میں رہنے دو“

مجھے اس کی باتیں سن کر ہنستی آتی،وہ بولتا ہی اتنا اچھا تھا۔

”اچھا نا سبی،بتائیں نا آئیں گی میری شاپ پہ؟“

”یہ سبی کسے کہہ رہے ہو؟کوئی چھ سال بڑی ہوں گی تم سے بندہ کچھ تو تمیز سے نام لے اور ویسے بھی سبی پاکستان میں ایک شہر ہے جہاں بہت گرمی پڑتی ہے۔“

میں نے مسکراتے ہوئے مسیج لکھا تھا،اس سے بات کرتے میرے لبوں سے ہنسی جدا نہیں ہوتی تھی۔

”مجھے تو لگتا ہے ساری گرمی میری سبی کے دماغ میں ہی پڑتی ہے۔“

”میری سبی؟“

ایک لمحے کو میں ٹھہر سی گئی تھی۔کتنے مان سے اس نے مجھے میری سبی لکھا تھا۔ایسے کبھی عمیر کیوں نہیں پکارتے تھے مجھے۔انجانے میں میں ان کا موازنہ کر بیٹھی تھی۔

”میری سبی کا مطلب؟“

میں نے کریدا تھا۔

”اچھا سبو۔۔۔۔اب ٹھیک ہے؟میں نہیں اتنا ٹرین جتنا لمبا نام لے سکتا ۔۔۔سب۔۔۔۔۔۔ری۔۔۔۔۔نا۔۔۔۔۔۔“

اس نے دور دور کر کے ٹائپ کیا اور میری ہنسی چھوٹ گئی۔

”پٹ جاؤ گے میرے ہاتھوں“

میں کھلھلا کر ہنستے لکھنے لگی

”ایک شرط پہ۔۔۔ پیٹنے کے لیے میری کافی شاپ پہ آئیں گی اور ماریں گی بھی منہ پہ،تاکہ میں آپ کے ہاتھ کے تھپڑ کا مزہ لے سکوں۔“

وہ ہنسنے والی ایموجی بھیجنے لگا۔

”میں مار تمہیں میاں سے پڑواوں گی۔“

”نہ کریں سبی جی،کیوں جوانی میں میری ہڈیاں تڑوا رہی ہیں،ننھی سی تو بیٹی ہے میری۔“

وہ مسیج کرتا اور میں ہنستی جاتی۔کتنے عرصے بعد میں ہنسی تھی اور آج شکل دیکھی تو مجھے یاد آیا ہنستے ہوئے میرے ایک گال میں ڈمپل بھی پڑتا تھا۔

میں تیار تو اکثر ہوتی رہتی تھی مگر آج میں نے تیار ہو کر فرصت سے خود کو دیکھا تھا۔متناسب جسم،سفید رنگت،مومی ہاتھ پاؤں،نازک گلابی ہونٹ،اور ہلکی بھوری آنکھیں جس پہ دراز پلکوں کی چلمن گری ہوئی تھی۔میں عمیر کے سامنے پھرتی رہی مگر انہوں نے ایک نظر کے بعد دوسری نظر دیکھا ہی نہیں وہی موبائل ،وہی کام،وہی لیپ ٹاپ،وہی حساب کا گورکھ دھندہ۔میں کہاں تھی؟کہیں نہیں۔

شام کو میرا میک اپ دھلا دھلا سا تھا جب اداسی سے کچھ تصویریں لے کر میں نے موبائل ایک جانب رکھ دیا۔رات ان لائن ہوئی تو وہ موجود تھا جو روز ہی مجھے مسیج کرتا اور اپنی موجودگی کا احساس دلاتا تھا۔

”اداس ہیں؟“

میں اس کے سوال پہ چونکی تھی

”تمہیں کیسے پتہ؟“

”آج کوئی اسٹوری ہی نہیں لگائی“

”ہاں بس وقت نہیں ملا“

میں نے بجھے دل سے اسے ٹالا تھا مگر اس کی بات نے مجھے چونکا دیا

”اچھا آپ کو مزے کی بات بتاؤں؟میں نے آپ کو خواب میں دیکھا تھا“

”خواب میں؟“

میں بے یقینی سے بولی

”میں کیسی لگ رہی تھی؟“

نجانے کیوں میں پوچھ بیٹھی

”بتا دوں گا تو کیا اپنی تصویر دیکھائیں گی؟“اس کے ارمان زبان پہ مچلے تھے۔

”نہیں۔تصویر تو میں بالکل نہیں دیکھاؤ گی“

”اچھا پھر میں بھی نہیں بتا رہا۔“

اس کا روٹھنے کا انداز اتنا معصوم تھا کہ میرا دل نہ چاہا کہ اسے اداس کروں۔

”نہیں نہیں۔۔۔ایسا کرو بتاؤ اگر تمہاری خواب والی باجی میرے جیسی ہوئی تو میں پک بھیجوں گی اور ڈیلیٹ کر دوں گی۔۔۔۔خوش“

”ڈن۔۔۔“وہ خوش ہوا تھا

”آپ بہت خوبصورت تھیں،بہت خوبصورت،یعنی گورا رنگ،بالکل صاف لمبے بال،گلابی ہونٹ بالکل باریک اور آپ نے بے حد نفیس جھمکے پہنے ہوئے تھے اور میں ان جھمکوں کو اہنی انگلیوں سے ہلا رہا تھا جبکہ آپ مجھے منع کر رہی تھیں کہ آذر مت ہلاؤ میں اس کے ہلانے سے تنگ ہو رہی ہوں“

بے اختیار ہی مجھ سے تصویر والے آئکن پہ ہاتھ لگا تھا اور تصویر اس تک پہنچ گئی تھی۔میں نے ہونٹ دانتوں تلے دبایا تھا یہ کیا ہو گیا تھا میں فوراً ان سینڈ کو دبانے لگی تھی مگر اس کی ٹرین اسٹارٹ ہو گئی۔

”اف۔۔۔۔سبی۔۔۔۔یو ار پٹیسٹ۔۔۔آپ کس قدر خوبصورت ہیں۔“

میں نے فوراً تصویر ان سینڈ کی تھی۔عمیر سو رہے تھے،مجھے یہ نہیں کرنا چاہیے تھا ان کی جانب دیکھتے میرے ٹھنڈے پسینے بہہ نکلے تھے۔

”سبی! میرے پاس لفظ نہیں،اپ تو کسی ایکٹریس کی طرح خوبصورت ہو،مجھے یقین نہیں آ رہا آپ تو مجھ سے بھی چھوٹی لگتی ہو،میں ابھی اٹھائیس کا ہوں آپ کہیں سے چھ سال بڑی نہیں لگتی،آپ نے کیسے خود کو اتنا حسین بنا کر رکھا ہوا ہے۔“

وہ بولے جا رہا تھا۔

”کچھ ٹپ بتا دیں اپنی بیوی کو بھی بتا دوں جو ایک بیٹی کے بعد،بس گول گپا بن گئی ہے۔

آپ کمال ہیں جناب۔۔۔آپ کے میاں تو بہت لکی ہیں،گھر میں ہیروئن رکھی ہوئی ہے چھپا کر“

وہ اتنے کھلے عام اظہار کر رہا تھا اور میں نے اسے روکا نہیں۔۔۔

کیوں؟کیونکہ اس کے لفظ پھوار بن کر میرے دل پہ پڑ رہے تھے ٹھنڈی میٹھی پھوار جس میں میں بھیگنا چاہتی تھی

صنف مخالف کی جانب سے تعریف،کھلے عام تعریف،میری خوبصورتی پہ تعریف۔میرے چہرے پہ تعریف۔جو میرے شوہر کو عام سا لگتا تھا لیکن کسی کے لیے اتنا خاص تھا کہ اس کا ریڈیو بند نہیں ہو رہا تھا۔اس تعریف کو سنے تو مجھے سالوں گزر گئے تھے۔

”آپ میری سوچ سے زیادہ حسین ہو سبی۔۔۔آئی رئیلی لائک یو۔۔۔

آپ کے ہونٹ کتنے خوبصورت اور گلابی ہیں۔آپ کی آنکھیں اتنی نشیلی ہیں کہ نجانے کتنوں کو قتل کر دیں۔آپ تو کہیں سے بچوں کی ماں نہیں لگتیں۔“

وہ بولتا رہا اور میرا دل چاہا وہ کبھی چپ نہ ہو۔

تعریف کا نشہ کتنا گہرا اور جان لیوا ہوتا ہے مجھے اندازہ نہیں تھا زندگی میں ایک کمی تھی۔تعریف کی اور وہ کمی اب کوئی اور پوری کر رہا تھا۔

اگلے دن وہ بس ذرا سا بولا مسیج ہی نہیں کر رہا تھا تب میں حیران ہوئی تھی

”تمہیں کیا ہوا ہے ریڈیو کیوں بند ہے“

”جب سے آپ کو دیکھا ہے نیند اڑ گئی ہے یہی سوچ رہا ہوں سارا حسن پاکستان میں کیوں ہے؟اللہ نے چن چن کر ساری پریاں ہمارے رقیبوں میں اتار دی ہیں۔“

”توبہ۔۔۔کیا چیز ہو تم؟“

میں ہنسی تھی کھلکھلا کر

”ایک بات مانیں گی پلیز؟“

”ہاں کیا؟ایک بار پھر مجھے تصویر دیکھا دیں ایسا لگتا ہے کہ نشہ سا ہو گیا ہے،ملے گا تو اپنا کام چلے گا۔“

”نو۔۔“

میں نے ٹائپ کیا

”دیکھا دیں نا آخری بار“

“نو۔۔۔“

میں نے پھر لکھا

”میرا دل چاہ رہا ہے پلیز“

”نو۔۔۔“

”مان جائیں نا ۔۔“

”نو۔۔۔“

”پھر میں جا رہا ہوں“

تبھی میں نے تصویر بھیج دی تھی۔آج نہا کر لپ اسٹک لگاتے یہ تصویر اتاری تھی،نجانے کیوں دل چاہا کہ اب تصویر کھینچ لینی چاہیے ہو سکتا ہے وہ دوبارہ مانگ لے۔

”سبی۔۔۔۔اف۔۔۔۔حسن کی انتہا ہے،مجھے سمجھ نہیں آتی آپ کے میاں کیسے خود پہ قابو پاتے ہیں اتنی خوبصورت بیوی کے ہوتے ہوئے۔اگر میں ان کی جگہ ہوتا تو شاید ایک مہینے تک آپ کے چہرے کی تعریف ہی کرتا رہتا لیکن آپ کے پاس سے نہ اٹھ کر نہ جاتا“

”اف۔۔۔۔آذر۔۔۔۔اتنا کیسے بول لیتے ہو؟اب اتنی بھی خوبصورت نہیں جتنی تم قصیدے پڑھ رہے ہو۔“

میرے سامنے عمیر کا چہرہ لہرایا تھا جو مجھے ایک بار کے بعد دوبارہ دیکھتے بھی نہیں تھے،تعریف تو دور کی بات۔۔۔بہت زیادہ ہوتا تو کہہ دیتے ہاں ٹھیک ہے۔اچھی لگ رہی ہو۔بس۔۔

”جتنی تعریف کی ہے نا یہ تو کچھ بھی نہیں،آپ کے حسن کی تعریف کے لیے میرے پاس الفاظ ہوتے تو قصیدہ لکھ دیتا۔ابھی تو میں نے بس چہرہ دیکھا ہے تو دیوانہ ہو گیا ہوں۔نجانے آپ پوری کی پوری کیسی دکھتی ہوں گی۔اب میں یہی سوچتا رہوں گا۔آپ کا قد اور وزن کتنا ہے؟“

وہ اب نئی کہانی لے کر بیٹھ گیا تھا

”کیوں تم نے میرا (بی ایم آئی)باڈی میس انڈیکس نکالنا ہے نا؟“

میں مصنوعی غصے سے بولی

”اچھا بابا نہ بتائیں۔پتہ ہے مجھے شادی کے بعد اکثر عورتیں بہت زیادہ موٹی ہی ہو جاتی ہیں میری بیوی کی طرح“

”لیکن میں تو بہت زیادہ نہیں ہوں“

ایک دم میں نے ٹائپ کیا تھا۔

”دیکھا،میرا تکہ صحیح نکلا۔آپ پتلی ہوں گی۔“

”نہیں پتلی بھی نہیں ہوں۔بس بیچ میں ہوں نہ موٹی نہ پتلی“

”اب مجھے کیا پتہ تصویر دکھائیں گی تو ہی پتہ چلے گا۔“

”تم کیا مجھ سے ہر وقت تصویریں مانگتے رہتے ہو کوئی کام نہیں ہے کیا؟“میں نے کیک پہ نظر ڈالتے ٹائپ کیا تھا۔

”کام ہے نا کیوں نہیں ہے۔۔“اس نے لکھتے ساتھ ہی کافی کی تصویر بھیجی تھی۔خوبصورت کافی کا کپ جس میں مزیدار کافی کے اوپر سفید دودھ کے جھاگ سے تین دل بنے ہوئے تھے۔

”بس میرے پاس آرڈرز ہی آ رہے ہیں آپ کا کیک کدھر تک پہنچا؟“

اسے بھی پتہ تھا کہ میں اس وقت بیکنگ کر رہی ہوں گی۔۔۔بلکہ ہم دونوں کو ایک دوسرے کا وقت پتہ تھا کہ ہم کیا کر رہے ہوں گے۔

”ہاں اوون میں ہے۔۔۔بس بننے والا ہے۔“

”تو پک ہی بھیج دیں۔۔۔“

”کس کی کیک کی؟“

میں نے چونک کر کہا

”نہیں اپنی۔۔۔۔ہاں جی کیک کی۔۔۔کیونکہ اپنی تو آپ بھیجیں گی نہیں۔“

اس کے انداز نے مجھے ہنسنے پہ مجبور کر دیا اور نجانے کیا سوچ کر میں نے اپنی ایک کچھ دن پرانی تصویر اسے بھیج دی تھی۔یہ سیلفی میں نے خود ہی لی تھی سو اس میں میرا چہرہ نہیں تھا۔بس میکسی پہنی ہوئی تھی تو اتنا پتہ چل رہا تھا کہ میں متناسب جسم کی مالک تھی۔

کتنی دیر تو اس کا جواب ہی نہ آیا تھا کیونکہ میں تصویر بھیج کر ڈیلیٹ کر چکی تھی۔

مجھے لگا شاید وہ کافی کے آرڈرز بنانے میں مشغول ہے مگر اس کے مسیج نے مجھے چونکا دیا۔

وہ چھوٹا سا لڑکا اپنے قد سے بھی بڑی باتیں کرتا تھا۔

”سبی مجھے سانس نہیں آ رہی“

”کیوں کیا ہوا سب خیریت ہے؟“

میں نے پریشانی سے ٹائپ کیا

”آپ کو دیکھ کر اچھے اچھوں کی سانسیں رک سکتی ہیں میں تو پھر بڑی چھوٹی چیز ہوں“

”توبہ۔۔۔۔“

مجھے سمجھ نہیں آتا تھا کہ وہ اتنا مکھن لگا کیسے لیتا تھا

”تمہارے پاس اتنا مکھن آتا کہاں سے ہے؟“

میں اس کی باتیں سن سن کر حیران ہوتی تھی۔

”کون سا مکھن؟میرے پاس تو بس کافی ہی ہے۔۔۔سوندھی سوندھی کافی کی خوشبو۔۔۔لیکن بس اب مجھے اس کی خوشبو دماغ پہ چڑھتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ میں نے آج ایسی چیز دیکھ لی ہے کہ ہوش حواس کھو بیٹھا ہوں۔“

وہ لکھتا گیا

”سبی یو ہیو پرفیکٹ فگر

میں نے میریڈ عورتوں کا اتنا زبردست فگر نہیں دیکھا۔اپ ڈائٹنگ کرتی ہیں کیا؟“

”نہیں ڈائٹ تو نہیں کرتی بس کھانا ہی کم کھاتی ہوں۔“میں نے معمول کے مطابق بات کی تھی

”کہیں جوان مردوں کا خون تو نہیں پیتیں جو اب تک اتنی جوان ہیں؟“

اس کی بات پڑھ کر مجھے ہنسی بھی آئی تھی اور غصہ بھی

”ڈائن سمجھ رکھا ہے کیا؟“

میں نے غصے والی ایموجی بھیجی تھی۔

”ڈائن اتنی خوبصورت ہوتی ہے،پھر تو کیا بات ہے جی۔۔۔“

”بچ کر رہو مجھ سے کہیں تمہارا بھی خون نہ پی جاؤں“

میں نے ہنستے ہوئے لکھا تھا

”چلو اس بہانے ہی سہی،ہمارے پاس تو آئیں گی“

اور اس بات پہ میرے دل کی دھڑکن لمحے بھر کو رکی تھی۔

یا تو وہ جان کر ایسی باتیں کرتا تھا یا پھر وہ ان باتوں کو کہہ کر انجان بن جاتا۔اس نے اگلی تصویر کا تقاضا دو دن بعد کیا تھا

”کیا کر رہی تھیں؟“

اس کا معمول کے مطابق مسیج موبائل کی اسکرین پر چمکا تو میرے کنگی کرتے ہاتھ رکے تھے۔

”نہا کر آئی ہوں ابھی“

میں لکھ کر دوبارہ سے کنگی کرنے لگی جب مسیج کی دوبارہ آیا تھا۔اسکرین جل کر بجھ گئی تھی۔

”ایک تصویر تو بھیج دیں تاکہ میرا اس ویرانے میں دل لگا رہے“

”ویرانا؟شہر کی مشہور کافی شاپ جس پہ سارے شہر کی خوبصورت ترین لڑکیاں موجود ہوتی ہیں اسے ویرانا بول رہے ہو؟“

میں نے اس کی کلاس لی تھی۔

”مجھے تو کوئی ایک بھی آپ کی ٹکر کی نہیں لگی سب کی سب میک اپ کی دکانیں بیٹھی ہوتی ہیں۔“

اس کی ایسی باتیں میرا دل پگھلا دیتی تھیں۔

”سن لیں نا میک اپ کک دکانیں،تمہارے ارشادات تو جوتے سے پیٹیں گی“

میں نے ہنستے ہوئے لکھا تھا۔

”جوتے کھانے کے لیے تو ہم ہر وقت تیار بیٹھے ہوتے ہیں بس جوتے لگانے والی اپنی پسند کی ہو۔“

اس کی بات کا میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

”اچھا پھر بھیج رہی ہیں نا؟“

”کیا؟“

میں نے کھوئے کھوئے انداز میں پوچھا

”تصویر اور کیا۔۔۔مجھے لگتا ہے میں تصویر کا نشہ کرنے لگا ہوں۔تصویر ملتی ہے تو اتنی اچھی کافی بناتا ہوں کہ لوگ دوسرے کپ کی فرمائش کرتے ہیں اور تصویر نہیں ملتی تو ایسی بناتا ہوں کہ لوگ پہلا کپ بھی چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔۔۔“

”یعنی میری تصویر پہ تمہارا کیفے چل رہا ہے؟“

میں نے ٹائپ کیا تھا

”ہاں نا۔۔۔پلیز آج کا کوٹا تو پورا کریں۔۔۔“اس نے ساتھ دل والی ایموجی بھیجی تھی۔

”مجھ سے ملنے سے پہلے بھی تو زندہ تھے نا؟“

”ہاں پتہ نہیں کیسے زندہ تھا،اب تو میں یہی سوچتا رہتا ہوں کہ میں آپ سے پہلے کیوں نہیں ملا چند سال پہلے۔۔۔“

وہ کھویا کھویا سا تھا۔اس کے انداز سے محسوس ہوا تھا۔

”چند سال پہلے بھی میں شادی شدہ ہی تھی۔“

مجھے اس کی بات پہ ہنسی آئی

”لیکن میں تو کنوارا تھا نا“

میں ابھی مسکرا ہی رہی تھی کہ اس نے اپنی پک سینڈ کر دی۔۔۔وہ کافی مشین سے کافی بناتے کیمرے کی جانب دیکھ رہا تھا۔

ایک لمحے کو دل تھما تھا،وہ کون ہے؟وہ کس رشتے سے اس سے بات کر رہی ہے یہ تصویروں کا تبادلہ کیوں اور کس لیے؟وہ کیوں نامحرم کی تصویر دیکھ رہی ہے

اس نے فوراً سے تصویر ریمو کی تھی دل اب بھی دھڑک رہا تھا۔جیسے سینہ توڑ کر باہر نکل آئے گا۔

”سبی بتائیں نا کیسی ہے میں آپ کی اتنی تعریف کرتا ہوں اور آپ نے یہ تک نہیں کہا کہ اچھی ہے۔“

”ہاں اچھی ہے“

میں نے جان چھڑائی

”کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟“

اس نے فکرمندی سے پوچھا

”ہاں بس میں کچھ غیر آرام دہ محسوس کر رہی تھی،مجھے محسوس ہو رہا کہ ہمیں اتنی بات نہیں کرنی چاہیے۔۔“

اندر کا ڈر زبان پہ آیا تھا

”کیا ہو گیا ہے سبی میں موبائل میں سے نکل کر کاٹ تو نہیں رہا نا۔اتنا بے ضرر سا انسان ہوں“

”اچھا اب میں نے پک بھیجی ہے تو بدلے میں اپنی بھی بھیجیں۔“

”میں کیوں بھیجوں؟“

میں نے فوراً کہا تھا

”کیونکہ نہیں بھیجیں گی تو میں اپ کو بلاک کر دوں گا“

”اچھا سچی پھر کرو بلاک مجھے تو پڑھ کر مزہ آیا تھا“

”کروں گا تو یاد کریں گی۔۔۔“

”میں بھی کر دوں گی۔“

میں ہنسی تھی

”اوکے بلاک کر کے بھی دیکھ لیتے ہیں۔“

کچھ ہی دیر میں میں نے مسیج بھیجا تو وہ ڈیلیور نہیں ہوا تھا اس نے واقعی مجھے بلاک کر دیا تھا۔

وہ دن تو جیسے تیسے گزر گیا اور رات آ گئی۔اگلی رات شاید میں نے دو گھنٹے میں دو سو بار موبائل اٹھایا تھا کہ شاید اس کا مسیج ہو مگر موبائل کی اسکرین شفاف تھی۔

”کوئی پریشانی ہے۔۔۔؟“

عمیر نے بار بار موبائل دیکھتے پوچھا تو میں نے موبائل سائلنٹ کر کے ایک جانب رکھ دیا تھا۔ہر روز تو وہ سوئے ہوتے انہیں پتہ ہی نہیں تھا کہ بیوی کی رات کسی اور سے بات کرتے گزر جاتی تھی اور آج میرا نشہ ٹوٹ رہا تھا۔بری طرح۔۔۔صرف بات کرنے کا نشہ،اس کی باتیں سننے کا نشہ۔

صبح میرے سر میں شدید درد تھا جب میں نے ایسے ہی ہائے کا مسیج کیا اور اسے مل گیا۔

”کر دیا ان بلاک؟“

میں نے غصے سے ٹائپ کیا۔

ہاں کر دیا ساری رات سو نہیں سکا اور اب میں اپنے ہی ہاتھ کی کافی بنا کر پی رہا ہوں سر درد کی گولی کے ساتھ۔

میں نے بھی اسے کافی کی پک بھیجی تھی جس کے ساتھ پیناڈول کا پتا تھا۔

”ادھر بھی یہی حال ہے۔“

یعنی دونوں طرف ایک دوسرے کی طلب ایک جیسی تھی۔

”اوہ۔۔۔۔“

اس نے لمبی اوہ بھیجی تھی۔

”سو نہیں سکی نا؟“

”ہاں۔۔۔“

میں نے مختصر جواب دیا۔

”سبی آئی لو یو“

اور بس میں جہاں تھی وہیں تھم گئی۔کچھ دن کی بات چیت یہاں پہنچے گی مجھے معلوم نہیں تھا۔

”جس دن سے آپ کو دیکھا ہے مجھے اپنی بیوی بھول گئی ہے۔میں نے اسے تصویر دیکھ کر پسند کیا تھا وہ اچھی ہے مگر آپ جتنی حسین نہیں۔

وہ آپ جیسی سمجھ دار بھی نہیں۔میں اسے رات کو مسیج کروں تو کہتی ہے سو جاؤ۔جاگ کیوں رہے ہو۔ویڈیو پہ بات کروں تو بس بیٹی کی طرف کیمرہ کر دیتی ہے۔اسے نہیں پتہ اس کا شوہر کس حال میں ہے اسے کیا چاہیے۔وہ یہاں دیار غیر میں کما رہا ہے تو پیار کے دو میٹھے بول اس کی تھکن اتار دیں گے۔“

وہ لکھتا رہا اور اپنے دل کا حال کہتا رہا

”میں نے جو جذبہ آپ کے لیے محسوس کیا ہے کبھی اس کے لیے بھی نہیں کیا۔شاید آپ کی خوبصورتی نے مجھے ہوش سے بے گانہ کر دیا ہے۔ایسا حسن میں نے یہاں کی کسی لڑکی میں نہیں دیکھا۔یہاں ہمارے کیفے میں شہر کی امیر کبیر لڑکیاں آتی ہیں مگر کسی ایک کی بھی مسکراہٹ آپ کی مسکراہٹ کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔نجانے آپ کی آواز کیسی ہو گی؟میں تو یہی سوچتا رہتا ہوں کہ کاش مجھے یہ آواز سننے کو مل جائے جس کی شکل نے مجھ پہ جادو کر دیا ہے۔

رات ہوتے ہی مجھے آپ کی یاد ستانے لگتی ہے۔بات نہیں ہوتی تو کیفے میں سارا دن منہ لٹکا رہتا ہے،کسی چیز میں دل نہیں لگتا۔

اگر میں آپ سے کہوں کہ میری خاطر ایک پک بھیج دیں تو پلیز بھیج دیجیئے گا اور ایک بار مجھے اپنی آواز سنا دیں۔۔بس صرف ایک بار۔۔بس ایک بار۔۔“

اور اس کی باتیں سن کر میرا دل پگھل گیا تھا۔میں نے اپنی دو تصویریں اسے سینڈ کر دی تھیں اور ایک چھوٹا سا مسیج

کہ ”میں نہیں چاہتی کہ تم اداس ہو سو یہ تمہارے لیے ایک ننھا سا تحفہ۔“

کافی دیر بعد اس کا رپلائی آیا تو میرا دل جیسے کسی نے جکڑ لیا تھا۔

”سبی۔۔۔۔اپ کی آواز۔۔۔اتنی خوب صورت ہے،اتنی پیاری ہے،مجھے تو لگا یہ کسی ڈی جے کی آواز ہے،آپ کی آواز کا اتار چڑھاؤ ایسا ہے کہ ایک ایک لفظ جا کر دل پہ پڑتا ہے۔“

”یہ ہر وقت کی باتیں کہانیاں مجھے بالکل پسند نہیں اور یہ جو تم نان اسٹاپ بولتی ہو نا سر میں درد ہو جاتا ہے میرے۔“

مجھے عمیر کے الفاظ یاد آئے تھے۔عمیر نے کبھی میری آواز کی تعریف نہیں کی تھی انہیں بے وجہ اور بے تکا بولنے سے چڑ تھی۔تبھی تو میں خاموش ہو گئی تھی اپنی ذات کے خول میں قید۔چپ اور خاموش۔ہنسنا ہی بھول گئی تھی۔

”آپ کی آواز ایسی ہے کہ بولتی رہیں اور بندہ سنتا رہے اور یہ تصویریں۔۔۔

ماشاءاللہ اللہ نے فرصت سے بنایا ہے۔ایک ایک نقش۔۔۔ایسی آنکھیں میں نے کبھی نہیں دیکھیں اور آپ رنگ ایسا ہے جیسے ہاتھ لگاؤ تو میلی ہو جائیں۔اپ کے ہونٹ۔۔۔۔آج تک ایسے ہونٹ میں نے نہیں دیکھے میرا دل چاہ رہا ہے کہ انہیں چوم لوں۔۔“

میرے دل کی دھڑکن رکی تھی اور ایک بار نہیں یہ بار بار ہونے لگا،روٹھنا منانا،لڑنا اور بلاک کر کے دوبارہ سے ان بلاک کر دینا۔مگر اب اس کی ڈیمانڈ بڑھنے لگی تھی۔روز بروز۔۔۔۔پہلے تصویر پھر بار بار تصویر،پھر پوری تصویر،پھر آڈیو مسیج،پھر کال اور پھر ویڈیو کال۔۔۔۔ویڈیو پہ بات کر کے تو وہ حیران رہ گیا تھا۔

”آپ تصویر سے بھی زیادہ حسین ہیں۔“

اس کا اعتراف مجھے شرمندہ کر دیتا اور میں جو شرم سے سر جھکائے بیٹھی تھی میرے چہرے پہ اترتے رنگ دیکھ کر وہ پریشان تھا۔

”آپ بچوں کی ماں ہو کر بھی شرماتی ہیں۔اف یو ار پریٹی۔۔۔بہت حسین ہیں۔آپ کے شوہر بہت لکی ہیں جن کے پاس یہ خزانہ ہے ہم جیسے تو بس دیکھ کر ہی دل کو تسلی دے سکتے ہیں۔“

”کبھی کبھی مجھے تم پاگل واگل لگتے ہو اور پاگلوں کا علاج نہیں ہوتا انہیں پاگل خانے میں رکھتے ہیں بس۔۔۔“میں نے خفت مٹائی تھی

”پھر مجھے پاگل خانے چھوڑ آئیں۔۔۔“وہ کھلکھلا کر ہنسا اور پہلی بار میں نے اس کے دائیں گال کا ڈمپل اتنی غور سے دیکھا تھا،تصویر میں تو وہ زیادہ تر سنجیدہ ہوتا یا مسکرا رہا ہوتا۔

”کیا دیکھ رہی ہیں نظر لگائیں گی۔۔۔“

اس نے میری آنکھوں میں جھانکا۔

”ارے نہیں نہیں۔۔۔۔میں تو بس۔۔۔ایسے ہی۔۔۔“

میں جی بھر کر شرمندہ ہوئی اور پھر یہ سلسلہ رکا نہیں تھا۔عمیر اپنے پراجیکٹ میں مصروف تھے۔دن رات لیپ ٹاپ موبائل پہ لگے رہتے۔بچوں کی اپنی سرگرمیاں تھیں،اسکول پھر ٹیوشن،پھر قرآن کلاسز۔۔۔اس سب میں صرف ہم تھے جو ایک دوسرے کی تنہائی کے ساتھی تھے۔میں اور آزر۔۔۔دن بدن بات چیت کا نشہ بڑھنے لگے تو اس کا سرور بھی بڑھنے لگا تھا۔اب بات ویڈیو کال سے بڑھ کر تنہائی کے لمحات تک آ پہنچی تھی۔پہلے پہل میں اسی خوف کا شکار رہتی کہ عمیر کو پتہ چل گیا تو کیا سوچیں گے مگر آزر نے مجھے تسلی دی تھی کہ اگر آپ مجھ سے مل کر بھی چلی جائیں تب بھی آپ کے شوہر کو خبر نہیں ہونی۔۔موبائیل پہ تو ہم کافی حد تک ایک دوسرے کے قریب آ چکے تھے۔حتکہ وہ مجھے خلوت کے لمحات میں بے لباس دیکھ بھی چکا تھا ایسے میں بس صرف ایک گناہ تھا جس سے میں بچی ہوئی تھی اور وہ تھی اس سے ملاقات جس کے لیے وہ شدید بصد تھا۔وہ یہاں اکیلا تھا اور ایسے میں تنہائی دور کرنے کے لیے کسی کے ساتھ بھی ٹائم پاس کرنا آسان تھا۔میں کئی بار اسے کہتی کہ مجھے چھوڑ کر کسی بھی لڑکی سے دوستی کر لے تاکہ وہ اس کی جسمانی ضرورت بھی پوری کر سکے مگر وہ اس چیز کے حق میں نہیں تھا۔بے شک کہ اس کا مقصد یہی تھا مگر وہ کہتا کہ جب تک محبت نہ ہو کوئی تعلق بھی قائم نہیں ہو سکتا اور محبت آپ سے ہوئی ہے تو تعلق بھی آپ سے ہی بنے گا۔میں جتنی بھی بری تھی مگر میں اس حد کو پار نہیں کرنا چاہتی تھی بے شک کہ اس نے مجھے دیکھا تھا مگر درحقیقت اس کا میرے ساتھ ابھی تک کوئی جسمانی تعلق نہ تھا۔

دن گزرتے گئے اور عمیر کا کام بڑھتا گیا۔راتوں کو دیر سے گھر آنے کے باعث ہمیں بات کرنے کا موقع مل جاتا۔

میری زندگی نے پلٹا اس وقت کھایا تھا جب عمیر کو ایک پراجیکٹ کے سلسلے میں تین دن کے لیے دوبئی جانا تھا۔میں نے آزر کو بتایا تو اس نے بالا ہی بالا مجھ سے ملنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔

عمیر کی رات کی فلائٹ تھی اور صبح بچے اسکول کے لیے نکل گئے تو اس نے مجھے لوکیشن بھیج دی تھی کہ میں اس سے ملنے اس جگہ پہنچ جاؤں۔وہ بس ایک بار مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔میں جانتی تھی کہ وہ اور کیا کیا چاہتا ہے پھر بھی اس تنہائی کی وحشت نے مجھے اس عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا کہ میں جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کھائی کی جانب بڑھ گئی تھی جس کے آگے بس ڈھلوان تھی۔

میں جب اس کی بھیجی گئی لوکیشن پر پہنچی وہاں کچھ فلیٹ بنے ہوئے تھے۔میں اندر داخل ہوئی تو آزر پہلے سے وہاں موجود تھا۔اس روز میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو سچ میں بہت گھبرائی تھی میرے ماتھے پہ پسینے کے قطرے نمودار ہوئے اور ہاتھ برف ہو رہے تھے۔جب اس نے تسلی سے میرا ہاتھ پکڑا جو برف کی طرح سرد تھا۔

”ڈر لگ رہا ہے؟کچھ بھی نہیں ہو گا میں ہوں نا۔۔۔“

ہمیں کوئی بھی دیکھتا تو یہی لگتا کہ میاں بیوی اپنے فلیٹ کی طرف جا رہے ہیں۔

اندر داخل ہوتے ہی اس نے دروازہ بند کیا تو میرا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔دل کیا شور مچا دوں یا بھاگ جاؤں مگر میں خود اپنی مرضی سے آئی تھی اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے۔

”ریلیکس۔۔۔۔“

اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر بہت دھیرے سے اس کی پشت ملی اور پانی کا گلاس مجھے تھمایا جسے میں نے ایک ہی گھونٹ میں خالی کر دیا تھا۔

”آزر میں۔۔۔۔میں۔۔۔میں کچھ نہیں کروں گی۔میرے ساتھ زبردستی مت کرنا“

پتہ نہیں میں نے اسے کیا سمجھانا چاہا تھا

”پاگل ہو کیا؟میں کچھ نہیں کرنے والا۔۔۔آپ ریلیکس ہو کے بیٹھو۔یہ میرے دوست کا فلیٹ ہے بس آپ سے ملنے کو لیا ہے۔وہ کسی کام سے دوسرے ملک گیا ہے۔آ جائے گا کچھ دن میں۔۔۔

دیکھیں میں نے آپ کے لیے کیا بنایا ہے“

وہ میرے لیے کیریمل پڈنگ،پین کیک اور کافی لے آیا تھا۔توبہ اتنا بے ضرر تو تھا میں ایسے ہی ڈر رہی تھی۔

اب میں سکون سے اس سے بات چیت کرنے لگی۔ہم نے ساتھ کافی پی،باتیں کیں۔وقت گزارا۔۔۔بلکہ ساتھ پیزا بھی بیک کیا۔اس کے ساتھ بیکنگ کر کے میں واقعی لطف اندوز ہوئی تھی۔وہ باتیں کرتا جاتا اور ساتھ ساتھ اس کے ہاتھ اور منہ چلتا جاتا۔

میں واپس جانے کے لیے دروازے تک پہنچی تو اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور ایک دم مجھے گلے لگایا تو میں سن ہو گئی۔میں کتنی بار عمیر کے گلے لگ چکی تھی مگر اس لمس نے مجھے مدہوش کر دیا تھا۔وہ کب میرے گال،ہونٹ اور گردن تک چوم گیا میں سن کھڑی تھی۔

”سبی جائیں کل ملاقات ہو گی“

وہ مجھے دروازے سے رخصت کر رہا تھا اور کل آنے کی یاددہانی کروا رہا تھا۔

”جائیں سبی۔۔۔بچے انتظار کر رہے ہوں گے۔“

میرے بچوں نے اسکول سے آنا تھا یہ تو مجھے بھول ہی گیا تھا۔میں اس کے چہرے پہ کچھ تلاشتی فلیٹ سے نکل گئی تھی۔کب گھر پہنچی،کب بچے آئے کب ٹیوشن گئے۔۔۔۔سب کچھ زندگی میں دوڑ رہا تھا بس میں وہیں تھیں اسی لمس میں قید۔جس لمحے اس نے مجھے چھوا تھا۔

”کیا کل مجھے جانا چاہیے؟

نہیں میں اسے منع کر دوں گی تاکہ وہ کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرے“

میں نے خود کو تسلی دی مگر رات یہ تسلی جھاگ بن کر بیٹھ گئی تھی جب آزر نے کل آنے کی ہاد دہائی کروائی۔

”لازمی آئیے گا۔میں بیکنگ کا سب سامان لے آیا ہوں ہم مل کر بیکنگ کریں گے دیکھتے ہیں کس کی بیکنگ زیادہ اچھی ہے۔“

بس جا کر کیک ہی تو بنانا ہے مل بیٹھ جائیں گے،بس پھر میں جلدی واپس آ جاؤں گی۔میں نے دل کو تسلی دے کر تھپک کر سلا دیا تھا۔

”ہاں ہم نے بہت مزہ کرنا ہے اکھٹے بیکنگ کا مزہ ہی کچھ ہے۔کیک اچھا ہوا تو کیفے سے آرڈرز دلوا دوں گا آپ کو۔۔۔“وہ بولے جا رہا تھا۔

اگلا دن بھی اسی طرح شروع ہوا بچے اسکول گئے اور میں فلیٹ کے دروازے پر جہاں آزر میرا منتظر تھا۔مگر آج کچھ نیا تھا۔۔۔۔یا مجھے لگا تھا۔

سامنے میز پہ کیک رکھا تھا ساتھ ہی چھوٹی چھوٹی کینڈلز۔۔۔وہ میرا ہاتھ تھامے صوفے تک لایا تو میں ہکا بکا کھڑی تھی۔

”ہم تو ساتھ بیکنگ کرنے والے تھے۔“

”کیا سبی اتنی قیمتی لمحوں کو چولہے کے آگے ضائع کر دیں“

وہ مدہم لہجے میں بولا پھر سنبھلا۔۔۔

”سکون سے کیک کھائیں میں کافی لے کر آ رہا ہوں۔“

وہ کچن کی جانے مڑ گیا اور کچھ دیر بعد دو کپ کافی لے کر آیا تھا۔اس نے جیب سے کچھ نکالا تو میں ٹھٹھک گئی۔۔۔وہ چھوٹے سے ڈبے میں ایک انگوٹھی تھی۔

”یہ کیا مذاق ہے؟“

میں بدک گئی تھی۔

”ارے سبی مذاق ہے سچ میں مذاق ہے۔۔۔بس آج میں ایسے فیل کرنا چاہ رہا کہ جیسے میں نے آپ کو پروپوز کیا ہے اور آپ نے آگے سے یس کہہ دیا ہے۔۔۔“

”یہ کیا بچگانہ حرکت ہے؟“

مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی

”ارے بھئی نہ میں آپ سے شادی کر رہا ہوں نہ آپ کر سکتی ہیں تو انگوٹھی پہنانے سے بھلا شادی تھوری ہو جائے گی بس مجھے لگے گا ایک دن کے لیے کہ میرا پروپوزل قبول ہو گیا ہے اور آج میں بس آج آپ کو اپنی منگیتر کی طرح ٹریٹ کروں گا۔۔۔“

میں خاموشی سے اسے دیکھے گئی۔

”یہ کوئی چال تو نہیں،کیا میں ایک دن کی منگیتر بن جاؤ،کیا وہ مجھے انگوٹھی پہنا دے؟“

بس سوال ذہن میں آئے جا رہے تھے۔

”اتنا نہیں سوچیں سبی،بس ہاں کہہ دیں ایک دن کی تو بات ہے بلکہ چند گھنٹے کی میرا دل تو مت توڑیں“

اور تبھی میں نے ہاتھ آگے کر دیا

اور اس نے میرا ہاتھ چومتے میری مخروطی انگلی میں انگوٹھی پہنا دی۔

میں چپ چاپ اس کی کاروائی دیکھ رہی تھی۔

وہ میرے پہلو میں بیٹھا کافی پی رہا تھا اور میں خاموشی سے کافی کا کپ تھامے اسے دیکھے گئی۔اس کے پرفیوم کی خوشبو میرے حواس پہ چھا رہی تھی

”ریلکس سبی کھا نہیں جاؤں گا آپ کو کیک کھائیں۔“

اس نے نفاست سے کیک کاٹ کر مجھے پیش کیا،پھر ایک پیس اٹھا کر خود مجھے کھلایا۔۔

”فار مائی وائف ٹو بی۔۔۔“اور اتنا کہہ کر ہنس پڑا۔۔

کافی ختم ہوئی تو وہ مجھے دھیرے دھیرے چھونے کی کوشش کرنے لگا۔میں نے اسے منع کرنے کے لیے منہ کھولا تھا تو مجھے لگا مجھے شدید چکر آیا ہے۔سر میں ایک دم درد اٹھا تھا۔

”کیا ہوا سبی؟“

”آزر مجھے سر میں درد ہو رہا پلیز مجھے گھر چھوڑ آؤ۔“

”ہاں ہاں رکیں میں آپ کو چھوڑ کر آتا ہوں۔“

وہ میرے پاس سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔

میرا سر اتنا بھاری ہو رہا تھا کہ آنکھیں کھل نہیں رہی تھیں۔بس مجھے احساس ہوا کہ کسی نے مجھے اٹھایا ہے۔کوئی میرا سر دبا رہا ہے پھر کوئی سرگوشی کی آواز۔کوئی مدہم آواز،بس آوازیں تھیں جو محسوس ہو رہی تھیں مگر میں ہل نہیں پا رہی تھی۔آنکھیں اتنی بوجھل تھیں کہ کھل نہ پا رہی تھیں۔یہ کیفیت کب تک رہی مجھے بس اتنا یاد تھا۔آزر نے مجھے کسی ٹیکسی میں بیٹھا کر گھر اتروا دیا تھا۔گھر بھی میں بامشکل پہنچی تھی اور آ کر بھی میں بس نیم غنودگی میں تھی۔بچے اسکول سے آ کر مجھے اٹھا رہے تھے اور میں انہیں کل کا کھانا گرم کرنے کا کہہ کر سو گئی تھی۔

رات کافی دیر سے مجھے ہوش آیا عجیب سی طبیعت تھی۔کیسے کچھ سمجھ نہ آ رہا ہو۔

موبائل دیکھا تو اس کے مسیج تھے مگر وہ مسیج نہیں تھے بم تھے جو میرے سر پہ گرے تھے۔

”سبی مجھے پتہ تھا آپ بہت پیاری ہیں مگر اتنی پیاری ہوں گی مجھے پتہ نہیں تھا۔۔۔“

ساتھ ہی ہماری ناقابل اعتراض تصاویر کا ڈھیر تھا۔کہیں میرا چہرہ واضح تھا کہیں پہ نہیں مگر اس کا چہرہ کسی تصویر میں نہیں تھا۔

”میرا یہ سب تصویریں لینے کا ارادہ نہیں تھا مگر یہ سب اس لیے لی ہیں کہ بس اب تو جب بلاؤں گا تو تب آئیں گی اور ضرور آئیں گی“

”آزر میں تمہیں ایسا نہیں سمجھتی تھی۔“

میں پھٹ پڑی تھی

”پھر ایک مرد کو کیسا سمجھتی تھیں؟میں نے بتایا تھا کہ اکیلا ہوں،شادی شدہ مگر بیوی کے بغیر،ایسے میں یہ سب نہیں ہو گا تو کیا ہو گا؟کون سا مرد ہو گا جو خلوت میں اتنی حسین عورت کا ساتھ نہ چاہے گا؟“

”تمہیں کوئی بھی لڑکی مل جاتی پھر تم نے مجھے ہی کیوں زلیل کیا،تمہیں پتہ تھا کہ میں شادی شدہ ہوں۔“

میں آنسوؤں سے رو پڑی تھی۔

”ہاں،مل جاتی کوئی بھی لڑکی مگر وہ تو دس دس لڑکوں کی دوست ہوتی ہیں،مجھے تو ایسی چاہیے تھی جو بس ایک شخص کے ساتھ ہو۔۔گاڑی کی مثال سمجھتی ہیں ایک ہاتھ کی چلی ہوئی اور دس لوگوں میں استعمال ہوئی گاڑی کی قیمت میں بہت فرق ہوتا ہے“

”منہ بند کرو اپنا بے ہودہ انسان“

میں اس کی مثال پر کھول کر رہ گئی تھی۔

”چلیں ابھی تو کر رہا ہو۔۔۔اب بار بار کھولتا ہی رہوں گا۔اب تو ہمارا بہت قریبی تعلق بن گیا ہے“

مجھے میرے احساس ندامت نے مار ڈالا تھا۔عمیر واپس آئے تو میں ان کا استقبال کرتے مسکرا تک نہ سکی۔

کب تک چھپاؤں گی اور کیسے چھپاؤں گی؟

وہ یہ سب سن کر کیا کریں گے؟

کیا مجھے چھوڑ دیں گے؟

پاکستان میں تو بس میری امی ہی تھیں ابو کا انتقال ہو چکا تھا،کیا میں ان کے اوپر بوجھ بن جاؤں؟

کیا یہ سب کچھ چھپ جائے گا یا اس نے ویڈیو کسی کو دیکھا دی؟

کیا وہ مجھے بلیک میل کر کے پیسے لے گا؟

سوچوں کا سمندر تھا اور اس میں میری کشتی تنہا سفر کر رہی تھی۔

”سبرینہ تمہاری طبیعت ٹھیک ہے؟

جب سے آیا ہوں کھوئی کھوئی سی لگتی ہو؟کیا ڈاکٹر کے پاس چلیں؟“

”نہیں نہیں ۔۔۔“ڈاکٹر کا نام سن کر میں اچھلی تھی۔

ڈاکٹر کو تو فورآ پتہ چل جاتا کہ میرے ساتھ کیا ہو چکا ہے۔

میرا رنگ ہلدی کی طرح پیلا پڑ گیا تھا اور آنکھوں کے نیچے بھی حلقے دکھائی دینے لگے تھے۔کچھ دن کام کی چھٹی کرو، آرام کرو،بس پھر کہیں گھومنے چلتے ہیں۔میرا پراجیکٹ ختم ہو گیا اب تمہارے لیے وقت ہی وقت ہو گا

میں بس بے بسی سے انہیں دیکھے گئے۔کاش یہ وقت آپ کو پہلے مل جاتا۔دل میں سوچتے میں یہ بات زبان پہ لا نہ سکی۔

”اچھا میں ذرا اپنے دوست سے مل کر آتا ہوں پھر کل کچھ پلان کرتے ہیں۔“

عمیر اتنا کہہ کر چلے گئے اور پھر کافی گھنٹے تک نہ واپس نہ آئے تھے۔اس دوران کئی بار آزر کا مسیج آیا تھا وہ مجھ سے کچھ ہزار ریال کی ڈیمانڈ کر رہا تھا۔نہیں تو وہ یہ سب تصویریں میرے شوہر کو دکھا دے گا۔حالانکہ وہ میرے شوہر کا نمبر تک نہیں جانتا تھا مگر مجھے پتہ تھا یہ پتہ کروانا بھی کوئی خاص مشکل نہ تھا۔

میں ابھی اسی کشمکش میں مبتلا تھی کہ اس کے مسیج دوبارہ نہیں آئے۔اس کا اسٹیٹس آف لائن شو ہو رہا تھا۔

کافی رات تک جب عمیر نہ آئے تو مجھے فکر ہوئی اور پھر مجھے وہ انکشاف ہوا جس نے میری زندگی دوزخ بنا دی تھی۔

عمیر گھر سے نکلتے ہی اپنے دوست شہریار کے فلیٹ پہ گئے تھے جو ان کے ساتھ ہی دوبئی گیا ہوا تھا۔وہ اس کے فلیٹ میں گئے تو چائے پیتے ان کی نظر میز پہ رکھے ایک لاکٹ پہ پڑی تو وہ ٹھٹھک گئے۔

انہوں نے شہریار سے اس لاکٹ کے متعلق استفسار کیا تھا۔

”ارے یہ لاکٹ میرے ایک دوست کا ہے وہ میرے پیچھے تین دن اس فلیٹ میں رہا ہے تو اب میں یہ اسے واپس ہی کرنے جانے والا تھا۔“

”کیا کرتا ہے تمہارا دوست“

عمیر نے لاکٹ ہاتھ میں لیتے اسے غور سے دیکھا تھا۔

اس خوبصورت گولڈ کے لاکٹ پہ ایک گول گیند بنی ہوئی تھی اور اس میں سفید نگ جڑے ہوئے تھے اور ان سب نگوں کے بیچ سے ایک نگ غائب تھا۔

بد قسمتی سے وہ فلیٹ شہریار کا ہی تھا جہاں میں آئی تھی اور وہ لاکٹ بھی میرا ہی تھا جس کو میں ہر وقت گلے میں پہنے رکھتی اور عمیر بھلے مجھے غور سے نہیں دیکھتے تھے مگر اپنا دلایا لاکٹ وہ لاکھوں میں پہچان سکتے تھے۔وہ بھی وہ لاکٹ جس کا ایک غائب ہوا نگ کافی عرصے سے انہیں نظر آ گیا تھا اور جلد ہی انہوں نے یہ نگ ڈلوانا تھا۔مجھے لاکٹ پہنے معلوم نہ ہو سکا تھا کہ اس کا ایک نگ غائب ہے اور وہی نگ میری بربادی کا سامان مہیا کر دے گا۔

وہ شہریار کے ساتھ ہی اس کے دوست کی طرف گئے تھے وہ تو بے خبر تھا کہ عمیر کے دماغ میں کیا چل رہا ہے ورنہ کبھی انہیں آزر کے کیفے نہ لے کر جاتا۔

کیفے پہنچ کر شہریار نے آزر کا تعارف عمیر سے کروایا تھا۔

”یہ آزر ہے اس کیفے میں بار ٹنڈر ہے،یہی میرے فلیٹ پہ تین دن سے رہ رہا تھا۔بھئی یہ لو تمہاری امانت۔۔۔“

اس نے لاکٹ آزر کے سامنے رکھا تو وہ ٹھٹھک گیا

”یہ آپ کو کہاں سے ملا؟“

اس نے حیرت سے کہا

”وہیں کمرے میں بیڈ کے کنارے لٹکا ہوا تھا،لگتا ہے پھر کسی کے ساتھ اچھا وقت گزارا ہے۔۔“

شہریار نے ہنستے ہوئے زومعنی انداز میں کہا

”اچھا ہاں اس بار تو بہت اچھا گزارا۔۔۔“

”گرل فرینڈ تھی“

اس بار سوال عمیر نے کیا تھا

”گرل فرینڈ تو نہیں تھی مگر ایک دن کے لیے بیوی بنا لیا تھا بس۔۔“وہ دانت نکوسے ہنسا تھا

”کوئی تصویر نہیں ہے تمہارے پاس؟“

عمیر نے ہونٹ چباتے پوچھا تھا

”تصویر نہیں تصویریں ہیں مگر قابل قبول حالت میں ایک بھی نہیں۔“

وہ اب بھی لاکٹ کو دیکھتے ہنسا تھا

”فون دکھاؤ“

عمیر نے غصے سے کہا تھا۔

”کیوں فون دکھاؤں؟“

آزر نے شہریار کی جانب دیکھتے کہا،اسے عمیر کے رویے پہ حیرت ہوئی جو پہلی بار ملتے ہی ایسے حق جتا رہا تھا

”میں کہہ رہا ہوں فون دکھاؤ“

عمیر نے اور غصے سے کہا

”نہیں تو کیا کر لیں گے“

وہ دوبدو بولا تھا

”دیکھاتے ہو یا۔۔۔۔۔“

عمیر نے جیب سے پستول نکال کر اس کی کنپٹی پہ رکھی تھی

شہریار گھبرا کر اٹھا تھا۔۔۔اس پاس کچھ ہی لوگ موجود تھے جو ابھی اس منظر سے سنبھل نہ پائے تھے۔

آزر نے موبائل کھول کر آگے کیا۔۔۔

بس عمیر نے چند تصاویر ہی دیکھیں تھیں جو شک کو یقین میں بدلنے کے لیے کافی تھیں۔

”وہ اپنی مرضی سے آئی تھی“

عمیر کو اب بھی شک تھا

”آئی تو اپنی مرضی سے تھی مگر یہ سب میری مرضی سے ہوا تھا میں نے اس کی کافی میں نشے کی دوائی۔۔۔۔۔“

بس وہ اتنا ہی بولا تھا کہ عمیر نے ٹریگر دبا دیا تھا گولی اس کی کنپٹی سے آر پار ہو گئی تھی۔اس کے بعد دو بار اور گولی چلنے کی آواز سنائی دی تھی۔

سارے کیفے میں سناٹا چھا گیا۔شہریار ہکا بکا تھا،

کرسیوں پہ بیٹھے لوگ اچھل پڑے تھے۔آزر کی لاش زمین پہ گری ہوئی تھی اور کیفے سیکورٹی والے عمیر اور اس کی پسٹل کو اپنی تحویل میں لے چکے تھے۔وہ کوئی عادی قاتل تھوڑی تھا جو بھاگ جاتا۔۔۔اس نے یہ سب تو بس غیرت میں آ کر کیا تھا۔

میں ساری رات عمیر کے انتظار میں پریشان رہی اور پو پوٹنے کے قریب شہریار نے عمیر سے نمبر لے کر مجھے سب کہانی سنائی تھی اور زمین پھٹنا اور اس میں سما جانا کیا ہوتا ہے آج جانا تھا۔

”سبی ٹینشن نہیں لیں کسی کو کچھ بھی پتہ نہیں چلے گا۔آپ تو اتنا ڈرتی ہیں جیسے آپ کے میاں نے آپ کو جان سے مار ڈالنا ہے۔“

فلیٹ پہ آنے کا سن کر میں اتنا گھبرا رہی تھی کہ فوراً منع کر دیا

”مجھے تو نہیں ماریں گے تمہیں ہی ماریں گے جب بھی ماریں گے۔“

میرا کہا سچ ہو گیا تھا۔عمیر نے صرف آزر کو نہیں مارا تھا جیتے جی کئی زندہ انسانوں کا خون کر دیا تھا۔ایک جانب اس کی بیوی تھی جو بیوہ ہو گئی تو دوسری جانب اس کی بیٹی جو کم عمری میں یتیم ہو گئی۔ایک طرف اس کی بوڑھی ماں تھی جو جھولی بھر بھر کر اسے بدعائیں دیتی جس نے اس کے جوان جہاں بیٹے کا خون کر دیا تھا تو ایک جانب ہمارے بچے تھے۔وہ بچے جن کا باپ تو قاتل بن کر جیل میں تھا اور ماں۔۔۔۔۔وہ ایسی زندہ لاش تھی جس پہ حیات تنگ ہو گئی تھی۔وہ لمحوں میں بدکردار اور فاحشہ قرار دے دی گئی تھی جس نے شادی شدہ ہوتے ہوئے نہ صرف اپنے شوہر کو دھوکہ دیا بلکہ اپنے شوہر کے ہاتھوں کسی اور کے شوہر کی جان بھی لے لی۔

کچھ پل کی خوشی،کچھ پل کی ہنسی کچھ پل کی مسکراہٹ کے بدلے میں نے عمر بھر کا روگ لیا تھا۔

قطری پولیس کی تحقیق چلی تو کہاں کہاں پہنچی یہ الگ کہانی ہے۔میرے گھر سے نکلنے اور فلیٹ تک جانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود تھی،جس ٹیکسی والے نے مجھے بے ہوشی میں گھر چھوڑا وہ بھی پکڑا گیا۔شہریار کے فلیٹ کے چھپے چھپے سے میرے اور آزر کے فنگر پرنٹ بھی مل گئے تھے۔عمیر نے آزر کو گولی مارنے کے بعد دو گولیاں اس کے موبائل کو بھی ماریں تھیں مگر اس کے باوجود پولیس نے ہماری قابلِ اعتراف تصاویر ری کور کر لیں تھیں۔سو سب کچھ سامنے تھا۔میں کبھی جیل میں منہ چھپائے پھرتی تو کبھی عدالت میں۔یہ سب میرا کیا دھرا ہی تو تھا جو دو گھرانے اجڑ گئے تھے۔

میرے بچے اب پاکستان چلے گئے تھے کیونکہ یہاں ان کا باپ باقی ماندہ سزا پوری کر رہا تھا اور ماں وہ اب زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہی تھی۔میرے بچوں کو میرے وجود سے بھی نفرت ہے۔۔۔ کیونکہ میری ایک غلطی نے ان کا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا تھا۔

اگر کبھی آپ زندگی میں ایسے دوراہے پہ کھڑے ہوں تو میری طرح کچھ پل کی خوشی کو زندگی بھر کی خوشی پہ قربان کر دیجیے گا ورنہ میری طرح لاحاصل ہی رہ جائیں گے۔






















 









#سیارہ_ڈائجسٹ
#کچھ_پل_خوشی
#سارہ_عمر
#اردوڈائجسٹ
#اردوکہانیاں
#sarahomerwrites
#sayaradigest
#kuchpalkikhusi
#august2023
#digest #story #urdu #sarahomer 

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...