Skip to main content

Posts

Showing posts from 2023

انٹرویو مصنف و ڈرامہ نگار امجد جاوید

 ادب اور ادیب مصنف،ناول نگار اور ڈراما نگار امجد جاوید انچارج: سارہ عمر ناول نگاری ایک فن ہے اور اس فن کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ہمارے معاشرے میں اردو ادب کی صنف میں ناول کو ایک جداگانہ حیثیت حاصل ہے،مشہور و معروف ڈرامے اکثر و بیشتر مشہور ناولوں کی کہانیوں پہ ہی عکس بند کیے جاتے ہیں۔جنہیں شائقین کی جانب سے بہت پزیرائی حاصل ہوتی ہے۔اردو ادب میں عشقِ حقیقی اور تصوف پہ لکھنے والے خاصے کم ہیں اور ان ادبا میں جن کا نام نمایاں ہے ان میں امجد جاوید صاحب کا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے۔ امجد جاوید صاحب جیسے مصنف،صحافی، کالم نگار، ڈراما نگار، نقاد اور دانش ور کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ان کے لکھے الفاظ اور کتب کے مجموعے ان کے بہترین کام کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔وہ اب تک دو درجن سے زیادہ کتب، جن میں ناول، کہانیوں کے مجموعے، شاعری، تراجم ،دو ڈرامہ سیریل اور نجانے کتنی کہانیاں لکھ چکے ہیں۔ ان کی تخلیقات پر اب تک مختلف مدارج کے چار مقالے لکھے جا چکے ہیں اور بہت سے طالب علم ابھی بھی لکھ رہے ہیں۔ان کے ناول امرت کور، دھوپ کے پگھلنے تک، قلندر ذات، عشق کا قاف اور بے رنگ پیا بہت مشہور ہو ئے ہیں۔ چ...

گول روٹی،مزاحیہ تحریر

*گول روٹی* سارہ عمر  الریاض، سعودی عرب۔ زمانۂ قدیم سے اب تک عورت کے سگھڑاپے کی واحد نشانی گول روٹی قرار دی جاتی ہے۔ روٹی جتنی نرم، گول، خستہ، پھلکے کی مانند ہوگی عورت اتنی ہی سگھڑ ہوگی۔ بھلا بندہ پوچھے کہ عورت کے سگھڑاپے کا معیار جانچنے کے لیے اسے کیا نان بائی کی بیٹی بنانا ضروری ہے؟ گول روٹی کے بغیر کیا عورت سگھڑ نہیں کہلائی جا سکتی؟لیکن نہیں بھئی! زمانہ بدل گیا، دنیا چاند پہ پہنچ گئی، مریخ پہ زندگی کے آثار مل گئے۔جدید سے جدید ٹیکنالوجی آ گئی مگر نہیں بدلی تو دیسی ساسوں اور شوہروں کی سوچ نہیں بدلی۔ گول روٹی ہوگی تو بہو کو پورے نمبر ملیں گے ورنہ جتنا بھی پڑھ لے، جتنے مرضی میڈل حاصل کر لے، جتنی مرضی ڈگریوں کے ڈھیر لگا دے۔ گھر داری میں تو اسے کاٹا مار کر بڑا سا انڈا ہی ملے گا۔ یعنی سگھڑاپہ زویرہ بالکل زویرہ۔ گول روٹی نہیں تو کچھ نہیں۔ ارے بھئی لڑکی ڈاکٹر ہے، انجینئر ہے، قابل استانی ہے، سائنسدان ہے، آفیسر ہے یا جہاز اڑاتی ہے۔ ہماری بلا سے جو بھی کرتی ہو روٹی تو ہمیں بس گول ہی چاہیے۔ اب چاہے ہاتھ سے چھنڈ کر پتلی کرے یا بیل کر، کوئی قید تھوڑی ہے بس روٹی گول ہو۔ بالکل چاند کی طرح گول مٹو...

کدھر جائیں گے ؟طنز و مزاح

 مر کے بھی چین نہ پایا،تو کدھر جائیں گے؟ سارہ عمر ”زندگی مسائل،مصیبت اور قید خانے کا نام ہے۔“ فیاض میاں نے پان چباتے منہ سے روز کی طرح زہر اگلا تھا۔ ”تو کیا کریں رہنا تو یہیں ہے نا!کیا مر جائیں؟“ قیصر کو روز کی طرح آج بھی غصہ آیا تھا۔ابھی پچھلے ہفتے فیاض کی دکان سے سودا لینے آیا تھا تو سارا راشن بیس ہزار میں آ گیا تھا اور آج جب وہی چیزیں خریدنے کی نوبت آئی تو پچیس ہزار کا بل بنا کر پکڑا دیا۔ ”ارے بھئی یہ کیا مذاق ہے؟“ قیصر نے پوچھا تھا ”مذاق نہیں ہے میاں بل ہے بل۔۔۔“ فیاض میاں نے پان کی پیک تھوکتے اطلاع دی تھی۔ ”کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ زندہ رہنے سے تو بہتر ہے بندہ مر ہی جائے۔“ قیصر کی تنخواہ میں گزارا کرنا ہی مشکل تھا اوپر سے بل دیکھ کر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا۔ ”تو میاں یہ شغل بھی پورا کر کے دیکھ لو۔۔ہم کہہ رہے ہیں اگر جو تم اس ملک میں سکون سے مر کے بھی دیکھا دیو تو ہمارا نام بدل دیو۔۔۔“ فیاض میاں کا اطمینان اپنی جگہ بدستور قائم تھا۔ ”پہلے تو گھبرا کہ یہ کہیے تھے کہ مر جاوئیں گے مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جاوئیں گے۔۔۔ بس یہی حال ہے۔اب تو توبہ توبہ قبر ہی اتنی مہنگی ہو رہے ہے کہ ...

کچھ پل کی خوشی ۔حصہ دوئم

  کچھ پل کی خوشی حصہ دوم تحریر: زلیخا واجد مجددی معاونت: سارہ عمر گزشتہ کہانی کا خلاصہ: عمیر اور سبرینہ قطر میں کافی سال سے مقیم تھے اور ان کے دو بچے بھی تھے۔عمیر کے ہر وقت مصروف رہنے اور بیوی کو وقت نہ دینے کے باعث سبرینہ اپنے کیک بیک کرنے کے کاروبار کا آغاز کرتی ہے جہاں انسٹاگرام پہ اس کی ملاقات آزر سجیب نام کے ایک کافی بارٹنڈر سے ہوتی ہے۔وہ دن بدن اس کی محبت میں گرفتار ہوتی چلی جاتی ہے۔آزر سبرینہ کو دوست کے فلیٹ پر بلا کر نشہ آور دوائی پلا دیتا ہے جس کے بعد سبرینہ اپنی عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے۔عمیر کو اپنے دوست شہریار کے ذریعے فلیٹ سے سبرینہ کا لاکٹ ملتا ہے اور وہ دونوں جب اسے واپس آزر کو دینے جاتے ہیں تو عمیر اسے قتل کر دیتا ہے جس پہ پولیس اسے گرفتار کر لیتی ہے جبکہ سبرینہ کچھ پل کی خوشی کی خاطر اپنے گھر،اپنی محبت،اپنے شوہر اور اپنے بچوں سب کو گنوا دیتی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب آگے پڑھیے: عمیر کا ذہن اس وقت بری طرح منتشر تھا۔ خود کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پا کر وہ بے یقینی کی سی کیفیت میں خود کو بے وجود سا محسوس کر رہا تھا۔اس کو اپنا آپ بے وزن سا لگ رہا تھا ایسے جس طرح وہ ہوا کے...

خیالِ یار

 خیالِ یار  (افسانہ) سارہ عمر ۔ ہم سفر من پسند ہو تو اس کے سنگ ہر سفر حسین اور خوشگوار لگتا ہے۔محبوب کی محبت بھری اک نگاہ ہی دن بھر کی سب تھکان اتار دیتی ہے۔موسموں کا بدلنا،کونپلوں کا کھلنا،ہر رت،ہر برکھا،اس کی سنگیت میں مکمل لگتی ہے جیسے کوئی وجود صدیوں سے ادھورا ہو اور کسی کا ساتھ جگسا پزل کے ٹکڑے کی طرح اسے مکمل کر دے۔ عدیل کی سنگت نے بھی اس کے لیے ہر دن عید اور ہر رات شب برات بنا دی تھی۔وہ اس وقت لانگ ڈائیو کے لیے نکلے ہوئے تھے۔طویل تارکول کی سڑک جس کے اطراف میں تاحد نگاہ سرسبز کھیت تھے۔دل کا موسم رنگین تھا سو اسے باہر کے موسم سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا تھا۔ گاڑی کا فرنٹ مرر ٹھیک کرتے عدیل کی مسکراتی نگاہیں بار بار وقفے وقفے سے نائلہ کے رخ روشن کا طواف کرتیں۔وہ کبھی شرمائی شرمائی نظروں سے اسے دیکھتی تو کبھی رخ پھیر کر نظروں سے اوجھل ہوتے نظاروں پہ دھیان دینے کی کوشش کرتی۔ ان کی محویت کو فون کال کی گھنٹی نے توڑ دیا تھا۔عدیل کا موبائل فون نائلہ نے فوراً ہاتھ بڑھا کر اٹھایا لیکن کال کٹ چکی تھی۔شاید مس کال تھی۔عدیل کے چہرے پہ اب مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے لے لی تھی۔ ”مجھ پہ ...

انٹرویو مصنفہ نازیہ کامران کاشف

 ادب اور ادیب انٹرویو مصنفہ و ناول نگار نازیہ کامران کاشف انٹرویو انچارج سارہ عمر ادب اور ادیب کی بیٹھک میں اب تک آپ بہت سے ناول نگاروں،شعرا،ادبا اور مصنفین سے مل چکے ہیں۔ناول نگاری کی صنف میں زیادہ تر شہرت ڈائجسٹ رائٹرز کے حصے میں ہی آئی ہے۔جن کے ناولوں پہ مشہور و معروف ڈرامے بنائے گئے اور اس کے بعد ان کی کتب ہاتھوں ہاتھ لی گئیں لیکن ہمارے بیچ کچھ ایسے بھی مصنف موجود ہیں جنہیں اپنے نام اور کام کی پہچان بنانے کے لیے کسی ڈائجسٹ کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑی۔  آج بھی ہماری مہمان ایک ایسی ہی مشہور و معروف شخصیت ہیں،جنہوں نے مختصر وقت میں اپنا نام اور کام منوایا ہے کہ واقعی قارئین داد دینے پہ مجبور ہو گئے ہیں جسے کہتے ہیں ”وہ آئی ،اس نے دیکھا اور وہ چھا گئی" ان کی تحریر عام تحریروں سے بالکل مختلف ہے اور ان کا اسلوب انہیں دیگر ہم عصر مصنفین سے ممتاز کرتا ہے۔جہاں ہر جانب صرف موضوع محبت زیر گفتگو ہو وہاں ادب کی دنیا میں سسپنس ،مسٹری،تھرل اور سائنس فکشن لکھ کر اپنا نام بنانا آسان نہیں۔انہوں نے نا صرف پاکستان میں سب سے پہلے ان لائن بک اسٹور ”بک بی“ کی بنیاد رکھی بلکہ انہیں پاکستان کی...