Dont copy without my permission
میرے درد کی تجھے کیا خبر
از سارہ عمر
قسط 3
دو ماہ بعد ہی کومل نے خوشخبری سنائی تھی- وہ امید سے تھی- نئی نئی شادی تھی سب کو ہی اس خبر کا انتظار تھا- رمشا کو بھی دل سے خوشی ہوئی- اسے پتہ تھا اس کا تو خیال نہیں رکھا گیا لیکن اب اس کی دیورانی بھی اس کی دوست اور بہنوں کی طرح ہے- جتنا ہو سکا اس کا خیال رکھوں -وہ کوشش کرتی کہ کومل زیادہ کھڑے ہونے والے کام نہ کرے- کومل خود بھی اپنا خیال رکھتی- میکہ بھی قریب تھا اور شوہر بھی جان چھڑکنے والا- اس لیے زیادہ مسئلہ نہ ہوا- البتہ ثوبیہ کو جب سے پتہ چلا تھا- اس نے کسی خوشی کا اظہار نہ کیا-اس کا رویہ کومل سے ذرا کچھا کچھا تھا-رمشہ نے نوٹ تو کیا لیکن یہ رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا-ناجانے اس نے کیوں منہ بنایا ہوا تھا-ظاہر ی سے بات ہے شادی کے بعد بچوں کا سلسلہ تو چل ہی نکلتا ہے- اس میں حیرت کی کیا بات تھی؟ رمشہ کو کچھ سمجھ نہ آئی- کومل اپنے ہی حال میں گم رہنے والی تھی تبھی وہ اس رویے کو محسوس نہ کر سکی-
..................................
آخر دو ماہ بعد پتہ چل ہی گیا کہ ثوبیہ کا رویہ کومل سے کھنچا کھنچا کیوں تھا جب وہ مٹھائی کا ٹوکرا لیے اپنی خوشخبری سنانے میکے پہنچ گئی- رمشہ کو نہ صرف اسکے رویے کی سمجھ آ گئی تھی بلکہ یہ بھی احساس ہو گیا تھا کہ اس سے بھابھیوں کی خوشیاں نہ دیکھی جاتی تھیں –
ابھی کچھ ماہ کا تو بیٹا تھا اس کا بھلا اتنی جلدی اس سب کی کیا تُک بنتی تھی- اب تو دوبارہ پھر سے وہی سلسلہ چل نکلنا تھا- آنا جانا، رہنا، آرام کرنا اور پھر چھلا گزارنا- اب سب کچھ تو رمشہ نے ہی سنبھالنا کیونکہ کومل کی تو خود وہی حالت تھی – ویسے بھی اس کا میکا قریب تھا وہ اکثر اوقات اپنے میکے چلی جاتی- ثوبیہ میں ایک بیٹے کے بعد بھی احساس ذمہ داری نام کو نہ تھی- جب بھی وہ گھر آتی ساس سے باتوں میں ایسی مگن ہوتی کہ ہوش ہی نہ رہتا کہ اس کا بیٹا شرجیل کہاں موجود ہے – شہریار اور شرجیل دونوں کی آپس میں میں اکثر و بیشتر لڑائی ہو جاتی- دونوں بہت چھوٹے تھے لیکن شرجیل رینگتا ہوا شہریار کے پاس پہنچ جاتا- کبھی اس کو مارتا کبھی اس کے کھلونے توڑ دیتا-
اب کھانا پکانے اور دیگر کاموں کے ساتھ بچوں کی نگرانی بھی بھابیوں کے ذمہ ہوتی- کسی بچے کو چوٹ لگتی تو دونوں بھا بھیوں کی شامت آ جاتی- بہن کو کوئی نہ پوچھتا کہ تم اس وقت کدھر تھی کیونکہ وہ پہلے ہی واویلا ڈالنا شروع کر دیتی
"ہائے ہائے! تمہارے بچے کو بھی بھی میرا اور میرے بچے کا آنا پسند نہیں مجھے تو آنا ہی نہیں چاہیے"
اس طرح کی بات ساس، سسر اور بھائیوں کے دل پر لگتی اور دونوں بھائیوں کی خوب شامت آتی- رمشہ تو تھی ہی سدا کی چپ رہنے والی مگر کومل کو بے تحاشہ غصہ آتا – کچھ اس کی طبیعت اس قسم کی تھی کہ اب اسے ہر چیز بری لگتی اور وہ اپنی ہر چیز کا موازنہ ثوبیہ سے کرنے لگی تھی –
وہ رمشہ کو اکثر کہتی
ُ"بھابھی میری بھی یہی حالت ہے میں کچن میں کھڑی ہوں اور ثوبیہ باجی پلنگ سے بھی نہیں اٹھتیں-کم از کم اپنے بچے کی ہی ذمہ داری لے لیں –''
رمشہ اسے ہمیشہ ٹھنڈا کر دیتی
" کومل تمہیں اس حالت میں پرسکون رہنا چاہیے- جتنا غصہ کرو گی اتنی ہی طبیعت خراب ہوگئی اور بچے پر بھی برا اثر پڑے گا" –
یہ بات سن کر وہ چپ ہو جاتی لیکن ایک دن اسے اپنا غصہ نکالنے کا موقع مل ہی گیا تھا –
شہریار کو تین چار دن سے بخار تھا-جب الٹیاں بھی شروع ہو گئیں تو رمشہ اور سلیم اسے ہسپتال لے گئے تھے- ان کو گئے ہوئے ایک گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ ثوبیہ کی آمد ہوگئی- اسے ہمیشہ سے ہی چھاپے مارنے کا شوق تھا-اس کا اپنا گھر تھا اس لئے پوچھ کے آنا تو بےمعنی تھا- البتہ اس حالت میں کومل کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے- اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کرے- اس نے رمشہ کو فون کیا
"بھابی کیسی ہیں؟ آپ کب آئیں گی"؟
اس نے اتنا گھبرا کر کہا کہ رمشہ ڈر ہی گئی-
" کومل کیا ہوا ہے اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو؟"
وہ پریشانی سے بولی –
"بھابھی ثوبیہ باجی گھر آ گئی ہیں بتائیں میں کیا کروں؟ آپ کو پتہ ہے مجھ سے بریانی نہاری وغیرہ نہیں بنتی- آپ کب تک آئیں گی؟ "
" ابھی ڈاکٹر نے ڈرپ لگائی ہے ہمیں گھر آتے ہوئے دیر ہو جائے گی-تم پریشان نہ ہو- دال چاول نکالو اور پکا لو – ساتھ ٹینڈے کا سالن تو بنا ہی ہوا ہے-"
رمشہ نے اسے تسلی دی –
دال سبزی تو وہ بنا ہی لیتی تھی – بس خاص مرغ مسلم کھانے ہمیشہ رمشہ ہی پکایا کرتی- دال چاول اور ٹینڈے دیکھ کر ثوبیہ نے برا سا منہ بنایا تھا-
" دال چاول پکائے ہیں؟ "
وہ پلیٹ میں نکالتے ہوئے بولی-
" ہاں مجھے بہت کچھ خاص پکانا نہیں آتا – کومل بولی تو آواز بہت ہلکی تھی لیکن ثوبیہ تک پہنچ گئی تھی-
" باقی کام تو ول کرنے آتے ہیں"
ثوبیہ نے اس پر طنز کیا تو سارے ہی لوگ اسے دیکھنے لگے-کومل کو اس کی بات بالکل سمجھ نا آ سکی تھی- اس نے حیرت سے سے ثوبیہ سے پوچھا "کیسے باقی کام میں سمجھی نہیں؟"
"یہی بچے پیدا کرنا اور کیا"
وہ دوبارہ طنزیہ لہجے میں بولی اب کی بار کومل کے سر پہ جا کر لگی تھی اس کا دماغ گھوم گیا- اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ثوبیہ کے سر پہ کچھ دے مارے
لیکن اس نے صرف زبان کا ہی استعمال کیا تھا
"وہ کام تو آپ کو بھی بہت اچھے آتے ہیں بلکہ یوں کہیں یہی کام آتا ہے اور کچھ نہیں آتا-" کومل نے اسے دوبدو جواب دیا تو ثوبیہ نے کھانا چھوڑ کر بے یقینی سے دیکھا –
آج تک کسی کی ہمت نہ ہوئی ہوتی اس کے آگے بولنے کی - اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو بھی سکتا ہے –
تم ہوتی کون ہو مجھے بولنے والی؟
اس نے برتن پٹخے اور چیخی- ساس سسر، ظہیر اور نسیم کو سانپ سونگھ گیا تھا- ظہیر نے اپنی بیوی کو روکا اور نہ ہی نسیم نے- وہ چپ چاپ بیٹھے تماشہ دیکھ رہے تھے-
آپ کون ہوتی ہیں مجھے بولنے والی؟
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے بات کرنے کی؟ثوبیہ کا پارہ چڑھ گیا تھا –
آپ کو دیکھ کر ہی آگئی ہے-
کومل اب کی بار تحمل سے بولی –
کومل تم ہی چپ کر جاؤ-
سسر نے پہلی بار مداخلت کی -
آپ کو اپنی بیٹی نظر نہیں آتی نہ ہی اس کی حرکتیں نظر آتی ہیں؟ میری بھی وہی حالت ہے جو انکی ہے-اگر بہت تکلیف ہے کھانے سے تو یا تو آ کر خود پکا لیا کریں یا گھر سے لے آیا کریں – میں رمشہ نہیں ہوں کومل ہوں – یاد رکھیے گا-میں بھابھی کی طرح خدمتیں نہیں کروں گی اچھا کریں گی تو اچھا ملے گا برا کریں گی تو برا..
کومل یہ کہہ کر کمرے میں چلی گئی تھی- ثوبیہ نے اس کڑوے سچ کو سن کر رکنا مناسب نہ سمجھا اور پیر پٹختی کھڑی ہوگئی-
" چلئے ظہیر"
اس نے ناراضگی سے کہا آج تک کسی کی جرات نہ ہوئی تھی اس کے سامنے ایسی بات کرنے کی-
"کھانا تو کھالو" -
ساس سسر اصرار کر رہے تھے- "کوئی ضرورت نہیں ہے گھر جاکر پکا لوں گی- جہاں انسان کی عزت نہ ہو وہاں رکنا کوئی معنی نہیں رکھتا-جب آپ کی بہو کو تمیز آ جائے گی تبھی میں آؤں گی -"
ثوبیہ غضے سے تن فن کرتی باہر نکل گئی جبکہ ساس سسر اسے روکتے ہی رہ گئے - ناجانے آگے کیا ہونے والا تھا-
......................
جاری ہے
انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال میزبان سارہ عمر ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

Comments
Post a Comment