Skip to main content

Meray dard ki tujy kiya khabar epi 2

Don't copy without my permission میرے درد کی تجھے کیا خبر از سارہ عمر قسط 2 آخرکار وہ وقت آن پہنچا تھا جس سے ہر عورت کو گزرنا پڑتا ہے - ثوبیہ نے بھی ماں کا درجہ پانے کے لیے بہت تکلیف اٹھائی تھی - اس کا بھی بیٹا ہی ہوا لیکن لگتا تھا یہ ماں بیٹا دونوں ہی انوکھے ہیں- ساس اس کے صدقے واری جا رہی تھیں - ہسپتال سے گھر آنے تک اس کی خاطر مدارت میں کوئی چوک نہ ہوئی تھی- رمشہ یخنی لے کر کمرے میں داخل ہوئی تو ساس فون پر بات کر رہی تھیں- " ہاں بھیج دو- کوئی مسئلہ نہیں- پہلا پہلا بچہ ہے خیال تو کرنا پڑے گا - ٹھیک ہے بھائی- اللہ حافظ-" فون رکھتے ہی وہ بولیں " شام میں ایک عورت آئے گی نصیبو نام ہے اس کا، اسے ادھر ہی کمرے میں لے آنا-" "کون ہے امی؟" رمشہ نے پوچھا "دائی ہے-" "دائی"؟ وہ حیران ہوئی " وہ کیا کرے گی؟ " " ارے بھئی مالش کرنے آئے گی ثوبیہ کی - پہلا پہلا بچہ ہے ابھی سے خیال نہ رکھا تو ساری زندگی کا مسئلہ ہے ویسے بھی ماں خیال نہیں کرے گی تو کون کرے گی؟ وہ وہ سر ہلاتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ بند کرکے بے تحاشہ روئی تھی- اس کا سارا چھلا اس کے سامنے گھوم گیا- اپنی بیٹی کی دفعہ تو مالش، یخنی، پنجیری، میوے سب کچھ یاد ہے- میری دفعہ عقل گھاس چرنے گئی تھی- سارا کام خود کیا، گھر سے لے کر اپنے بچے کو سنبھالنے تک، کپڑے تک دھوئے کوئی ماسی تک نہ رکھنے دی اور اب پتہ نہیں یہ بیٹی والوں کے دل دوسروں کی بیٹیوں کے لیے بدل کیوں جاتے ہیں- جو مشکل برداشت کرنے کا حوصلہ اپنے لئے نہیں رکھتے دوسروں کے لئے کس طرح سوچ لیتے ہیں کہ وہ سب کچھ برداشت کر لے- " یا اللہ تو ہی ان کو پوچھنا اور ہر ساس سسر کو جو اس قسم کی حرکتیں اپنی بہو کے ساتھ کرتے ہیں" - وہ تڑپ تڑپ کر کر رورہی تھی اور دعائیں کر رہیں تھی - ........................ ظہیر بھائی بھی بیوی بچے کے لیے روز چکر لگاتے- انہوں نے ہی ثوبیہ کو بتایا کہ گھر والے آنے کی تیاری کر رہے ہیں لیکن اس نے صاف منع کردیا کہ چھلے کے بعد میں خود ہی ملتان چلی جاؤں گی- بھلا وہ کہاں اتنے بڑے خاندان کی خاطر مدارت کرسکتی تھی- ماں باپ نے یہی دیکھ کر تو شادی کی تھی- پورا چھلا گزار کر کر وہ گھر چلی گئی اور وہاں سے ملتان روانہ ہوگی- اس کے جانے پر لگا تھا تھا کہ رمشہ کے کندھوں سے کوئی بوجھ اتر گیا ہے - اس کے دل سے آہ نکلی کاش یہ ہمیشہ کے لئے ملتان چلی جائے- اس گھر سے دور چلی جائے مگر اس کی ساری دعائیں آخرت کے لئے جمع ہو رہی تھیں - ......................... کچھ ماہ بعد ساس نے نسیم کے لیے لڑکی دیکھنا شروع کر دی-لیکن نسیم نے بھی اپنی ماں کا بوجھ ہلکا کرنا مناسب سمجھا- اس نے خاموشی سے لڑکی کا نام اور پتہ ساس کے ہاتھ پہ رکھ دیا جس سے وہ شادی کرنا چاہتا تھا - ساس نے تو خوب واویلا کیا "یہ دن بھی دیکھنا تھا ہائے... دکان کرتا ہے کہ عیاشی کرتا ہے"؟ ساس نے نسیم کے خوب لتے لیے تھے لیکن نسیم کہاں چپ رہنے والا تھا - اس نے بھی دوبدو جواب دیا - "اماں کپڑے لینے آئی تھی میں نے خود گھر دیکھا اور معلومات کروا لیں- کوئی چکر نہیں ہے نہ ہی کوئی منگنی ہوئی ہے- شادی کرنی ہے تو اپنی پسند کی لڑکی سے کیوں نہ کروں؟ رشتہ ہی لے کے جانا ہے کون سا وہ مجھے پسند کرتی ہے" اس کی بات پہ پہ ساس کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا تھا- ساس سسر نے باہمی رضامندی سے رشتہ لے جانے کا فیصلہ کیا تھا- لڑکی کا نام کومل تھا- وہ واقعی بہت خوبصورت تھی- اس نے بی اے پاس کیا تھا اور وہ درمیانے طبقے کے لوگ تھے- بھائی میٹرک میں تھا اور اس کے والد کی چھوٹی سی اسٹیشنری کی دکان تھی- لہذا انہیں لڑکے کے کم پڑھے لکھے ہونے پر اعتراض نہ ہوا – نہایت خوش اسلوبی سے رشتہ طے ہوا تو گھر میں شادی کی تیاریاں چل نکلیں- بچے کے ساتھ اس کے لیے کام کرنا بہت ہمشکل تھا- سب ذمہ داری اسی پر تھی- خوش تو بہت تھی کہ چلو کوئی ہاتھ بٹانے آجائے گا لیکن امید تو اس دنیا میں کسی سے بھی نہ رکھی جا سکتی تھی- نسیم نے بھی چن کر خوبصورت لڑکی ڈھونڈی تھی – جوڑا اور زیور سب نسیم نے اپنی پسند سے خود بنوایا- باقی خرچہ سلیم اور ابو نے کیا تھا- شادی اور ولیمے پر دلہن پر سے نظر نہیں ہٹ رہیں تھیں – سب نے اس چاند سورج کی جوڑی کی بے تحاشا تعریف کی تھی- خوبصورت تو رمشہ بھی شادی کے وقت بہت تھی مگر گھر کی پریشانیوں اور بچے کے بعد وہ خود پہ کبھی توجہ نہیں دے سکی تھی- جبکہ کومل شادی سے زیادہ ولیمے پہ خوش اور مطمئن دکھائی دیتی تھی- اس کے چہرے کی مسکان نسیم سے اس کی محبت کا پتہ دیتی تھی- خوبصورت دلہن دیکھ کر ساس بھی چپ ہی تھیں- اب وہ ہے کیسی یہ تو گھر آکر ہی پتا لگتا- ………………… شادی کے بعد کتنے ہی دن دعوتوں میں گزر گئے- نسیم کا تو بس چلتا تو دکان کھولتا ہی نہیں-بس کومل کو ہی دیکھتا رہتا- کومل کو بھی اس اظہار محبت نے کھل کر گلاب بنا دیا تھا- نسیم اسے مری لے کر گیا تو رمشہ کو اپنی شادی کا وقت یاد آیا تھا- سلیم نے اس کے یہ چونچلے نہ اٹھائے تھے اور وہ تو تھی ہی سدا کی خاموش- کومل کا میکہ قریب ہی تھا اسی لیے اس کا اکثر اوقات چکر لگتا رہتا – ابھی تک ان دونوں میں کھل کر بات نہ ہوئی تھی- مری سے آنے کے بعد ساس نے ان دونوں کو بٹھا کر ڈیوٹی لگائی تھی کہ ایک رات کا کھانا بنائے اور ایک دن کا- یا ہر روز کی باری لگا لو- ان باتوں کا سن کر تو کومل کی ہوائیاں ہی اڑ گئی تھیں- وہ ان کے سامنے تو جی جی کرتی رہی لیکن کچن میں آ کر چپ چاپ کھڑی ہوگئی- "بھابھی" وہ ہلکے سے بولی تو رمشہ نے سر اٹھا کر دیکھا- "بھابھی مجھے بہت صحیح کھانا پکانا نہیں آتا" وہ انتہائی شرمندگی سے سر جھکائے ہاتھ مروڑ رہی تھی- رمشہ کا دل چاہا اپنا سرپیٹ لے لیکن اسے اس کی معصومیت پر بے تحاشا ترس آیا- " اب کیا کروں؟" "پلیز آپ سیکھا دیں"وہ منت کرنے لگی میں سیکھ جاؤنگی تھوڑا بہت پکا لیتی ہوں زیادہ خاص نہیں پکا سکتی" – اس نے عذر پیش کیا – " ٹھیک ہے ہم مل کر لیں گے"- رمشہ نے تسلی دی تھی- کومل کھانا پکانا سیکھ رہی تھی تبھی آگے پیچھے جو بھی کام ہوتے وہ سب کر دیتی – برتن اٹھانا، رکھنا، دھونا، کچن دھونا،سلاد بنانا- جب رمشہ کھانا بناتی وہ یہ سب کام کرتی اور کہتی بھابھی آپ کھانا پکائیں میں یہ سب کر دوں گی- آدھا کام تو ہلکا ہو گیا تھا- رمشہ کے کندھوں سے کافی بوجھ اتر گیا- یا کچھ نہ ہوتا تو کومل اس کے بیٹے شہریار کو گود میں لے کر ہی پھرتی رہتی – اس کے ساتھ باتیں کرتی، کھیلتی، اس کے کپڑے بدل دیتی- البتہ ثوبیہ کے آنے پر رمشہ ہی کھانا پکاتی تھی کیونکہ کومل سے تو ڈر کے مارے کچھ کا کچھ ہی ہوجاتا – ایسے میں وہ سب کام مل کر لیتیں – " یہ ثوبیہ باجی کچھ زیادہ ہی نہیں آتیں؟"کومل نے برتن دھوتے ہوئے تبصرہ کیا تھا- ثوبیہ کا مہینے میں کوئی پانچواں چکر تھا جب اس نے یہ بات پوچھی- " نہیں زیادہ تو نہیں بس ٹھیک ہی ہے-" رمشہ نے گڑبڑا کر کہا- " یہ زیادہ نہیں ہے؟" کومل نے حیرت سے آنکھیں نکالیں- " ہائے بھابی اتنا تو آتی ہیں اور آ ہی جاتی ہیں تو گھر میں جو پکا ہے کھا لیں، یہ کیا ہر دفعہ گوشت، مرغی، پلاؤ، بریانی، نہاری، کوفتے-میرا بھی گھر قریب ہے لیکن اصل گھر تو سسرال ہی ہوتا ہے ادھر ہی دل لگانا چاہیے نہ کہ میکے میں آ کر بیٹھے رہو-"وہ آرام سے تبصرہ کر رہی تھی-رمشہ کو بھی ایسی سوچیں آتی تھیں لیکن کبھی زبان تک نہ آئی تھیں -مگر کومل ویسی نہ تھی ہر چیز کو برداشت کرنے والی- …………………………….. زندگی پہلے سے بہتر ہو گئی تھی – کومل کم ازکم اس کی دوست اور ساتھی تھی- کچن میں بھی کام کرتے اس کے ہاتھ اور زبان دونوں چلتے رہتے- لڑکی سی تو تھی، بس ہنستی رہتی اور خوب باتیں کرتی- "بھابھی میری ایک بڑی گندی عادت ہے" وہ پیاز کاٹتے ہوئے بولی- " دو تین بار تو برداشت کر لیتی ہوں چار پانچ بار نہیں کرتی، چاہے کوئی بھی بات ہو" – اس نے آنسو پونچھتے ہوئے مسکرا کر کہا جو پیاز کاٹتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آگئے تھے- " اچھا یہ گندی عادت ہے؟" وہ مسکرائی – " جی بھابھی گندی ہے، پتا نہیں بھابھی آپ کیسے برداشت کر لیتی ہیں- مجھے تو یہ سب کچھ بہت مشکل لگتا ہے- یہ ثوبیہ باجی کا روز روز آنا تو مجھے زہر..." وہ ابھی بول ہی رہی تھی کہ رمشہ نے پلٹ کر اس کی بات کاٹ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا – " ہائے چپ کرو کسی نے سن لیا تو پرچہ کٹ جائے گا "- رمشہ کی تو جان ہی نکل گئی تھی- ساس کا کمرہ دور تھا تبھی وہ دونوں سکون سے باتیں کرلیتیں – " نہیں کٹتا پرچہ، میرے تھانے دار میاں ہیں ابھی" – وہ نسیم کا ذکر کرتے ہوئے مسکرا ئی- اس کی محبت نے کومل کو اندر سے مضبوط بنا دیا تھا- یہ احساس تھا ہی بہت خوبصورت – رمشہ نے اس کے چہرے پر پر بکھرتے رنگ دیکھے منہ موڑ لیا – رمشہ اور سلیم کی تو ارینج میرج تھی- وہی گھر کے بڑے تھے کبھی محبت اور پیار بھری باتیں ہو ہی نہ سکی تھیں بس عزت اور احترام کی زندگی تھی- کاش وہ اسی طرح خوش رہے رمشہ کے دل سے کومل کی دائمی خوشیوں کی دعا نکلی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا – …………………………………………….. جاری ہے_

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...