Skip to main content

Meray dard ki tujy kiya khabar epi 1

#میرےدردکی_تجھےکیاخبر قسط 1 از سارہ عمر " امی میرا دل کرتا ہے ہے میں اتنا روؤں اتنا روؤں کہ میرے اندر کا کا سارا درد، سارا غم سیلاب بن کر بہہ جائے- مجھے سمجھ میں نہیں آتی میں نے ایسا کیوں کیا کیا؟ مجھے کسی نے روکا کیوں نہیں؟" وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی- آنسو تھے کہ تھمتے ہی نہیں تھے- راشدہ بیگم فقط اس کے سر پر تھپکی ہی دیتی رہیں اور وہ کر بھی کیا سکتی تھیں؟ اپنے گناہوں کا بوجھ اپنے گناہوں کی گھٹری تو خود ہی اٹھانی پڑتی ہے، کوئی دوسرا تو کبھی آپ کا بوجھ نہیں اٹھاتا- خصوصاً گناہوں کا بوجھ تو کوئی بانٹ ہی نہیں سکتا - اس کے ماتم پر بھی جس نے دیکھا ایک لمحے کو اسکا دل نرم ضرور پڑا تھا لیکن اگلے ہی پل لوگ "جیسی کرنی ویسی بھرنی" " جو بو گے وہی کاٹو گے" جیسے محاورے کر آگے بڑھ گئے تھے - .......................... "امی پیاری امی- کیسی ہیں دیکھیں میں آپ کے لیئے کیا لائی ہو ہوں اسنے نے شور مچاتے ہوئے شاپنگ بیگ صوفے پہ پھینکے اور امی کے گلے لگ گئی- " کیسی ہو سانس تو لے لو"- امی نے اس کو پیار سے دیکھ کر ہوئے کہا- وہ اب ایک ایک شاپنگ بیگ کھول رہی تھی- " دیکھیں کتنا پیارا سوٹ ہے مجھے تو یہ اتنا پسند آیا- سوبر سا، ڈیسنٹ سا، کتنا اچھا لگے گا نا آپ پہ" وہ ایک ہی سانس میں بولے جا رہی تھی- " بھلا کیا ضرورت ہے اس فضول خرچی کی"؟ امی نے سوٹ لیتے ہوئے کہا- "آپ کو پسند نہیں آیا"؟ وہ اداس ہوئی- "نہیں نہیں بہت اچھا ہے لیکن تم بھی ظہیر کے پیسے نہ اڑایا کرو کتنی غلط بات ہے کیا سوچے گا- میرے پیسے اپنی ماں پر اڑا رہی ہے-" وہ سے وضاحت دے رہی تھیں "بس کوئی نہیں اتنے بہادر نہیں ہوئے ابھی کہ مجھے باتیں سنائیں" وہ ہنس کر بولی تبھی رمشہ کمرے میں داخل ہوئی- "ارے ثوبیہ آئی ہے؟ تم کب آئیں؟" وہ سخت حیران ہوئی- اس کے گلے لگتے بھی وہ حیرت زدہ ہی تھی کیونکہ وہ پرسوں ہی تو آئی تھی- اس کے دماغ میں میں کچھ اور ہی چل رہا تھا تھا- پرسوں مرغی چاول بنائے تھے اب آ ج آئی ہے تو آج کیا بناؤں؟ خیر یہ تو آئے روز کی ہی بات ہے لیکن سلیم کو تنخواہ ملنے میں ابھی دس دن پڑے تھے- رمشہ نے آج دال چاول پکانے کا ہی سوچا تھا لیکن اس کی نند کو ہرگز یہ دال ہضم نہ ہوتی- اللہ کرے فریج میں کچھ پڑا ہو- وہ دل ہی دل میں میں سوچتی صوفے پر بیٹھ گئی - ادھر بیٹھے بھی خیالوں کی ریل گاڑی تیزی سے دوڑ رہی تھی -ثوبیہ کیا بول رہی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی - کہاں سیل لگی ہے، کہاں سے سوٹ لیے... اسے تو بس کھانے کی ہی فکر کھائے جا رہی تھی کیونکہ یہ اسی کی ذمہ داری تھی.. ہر دفعہ نند کے آنے پہ ایسا اہتمام جیسے پہلی دفعہ آئی ہو.. "اچھا میں ذرا کچن دیکھ لوں" وہ ان دونوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر کچن میں آ گئی_ فریج سے تھوڑا سا گوشت اور فریز کیے ہوئے کباب نکل آئے تھے- وہ جلدی سے سے کھانا پکانے میں لگ گئی- گرمی میں کام کرتے کرتے وہ پسینے میں شرابور ہو گئی تھی- جون کی گرمی بھی تو اس قدر تھی کہ باہر بیٹھ کے بندے کو سانس نہ آتی وہ تو پھر چولہے کے ساتھ کھڑی تھی- وہ تھکن سے چور تھی مگر نند صاحبہ نے ایک بار بھی کچن میں جھانکنے کی زحمت گوارا نہ کی تھی- بریانی بن گئی اور کباب تیار ہو گئے تھے- کھانے کی میز سجی تو سارے ہی جمع ہوگئے- ساس، سسر، نند اور دیور- دیور کے کپڑے کی دکان تھی اس لئے وہ دوپہر کا کھانا کھانا کھا کر ہی کام پر چلا جاتا تھا- " اللہ کس قدر مزے دار بریانی ہے واقعی بھابھی کے ہاتھ میں تو سچ میں بہت زائقہ ہے-" وہ کھانا کھاتے ہی بولی تھی تبھی رمشہ مسکرائی- وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر پکانے والے کی تعریف کی جائے تو آدھی تھکن اتر جاتی ہے لیکن سسرال میں یہ تعریف ہی کچھ زیادہ ہی مہنگی پڑتی ہیں- سب کھانا کھا کر اٹھ گئے تھے- پکاتے پکاتے اس کی بھوک ہی مر گئی تھی-ویسے بھی اگر وہ بریانی کھا لیتی تو یقیناً رات کے لئے کم پڑ جاتی اور ابھی ظہیر بھائی نے بھی شام کو پہنچ ہی جانا تھا- وہ آفس سے سیدھے بیگم کو لینے ادھر ہی آتے اور ویسے بھی داماد کو کھانا کھائے بغیر تو بھیجا جا ہی نہیں سکتا تھا- وہ برتن دھو کر فارغ ہوئی تو فریج میں کل کا بچا ہوا سالن ملا- اس نے وہی کھا لیا- " بریانی رات کو کھا لوں گی جب سلیم آئیں گے" - وہ یہی سوچتے سوچتے کاموں میں مصروف ہو گئی - شام کو ظہیر بھائی کے آنے سے تو دعوت کا ہی سامان ہو گیا تھا - اس کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ ہر روز تو آتے ہیں پھر اتنی محنت اور تکلف کیوں کیا جاتا ہے؟ " ایک ہی تو بیٹی ہے ہماری " ایک ہی تو بہن ہے ہماری" یہ باتیں سن سن کر وہ تنگ آ چکی تھی لیکن ابھی اس کی شادی کو اتنا کم عرصہ ہوا تھا کہ اس کو ان باتوں پر منہ کھولتے شرم آتی تھی- شام کی چائے پر بھی اچھے خاصے لوازمات رکھے گئے تھے - وہ جب کچن میں کھڑی ہوتی تو وہیں کھڑی رہ جاتی- رات کا کھانا بخیروعافیت ختم ہوا تو اس نے سکھ کا سانس لیا- مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر اس سے ڈھنگ سے کھانا کھایا ہی نہیں گیا- یہی سوچتی رہی کہ پہلے مہمان کھالیں میں بعد میں ہی کھا لوں تو بہتر ہے- وہ برتن سمیٹتے کچن میں آگئی- بچی ہوئی بریانی پلیٹ میں نکال کر اس نے ابھی پہلا نوالہ منہ میں ہی رکھا تھا کہ ثوبیہ کچن میں آن کھڑی ہوئی- "بھابھی بریانی بہت اچھی بنی ہے، ظہیر کہہ رہے ہیں بچ گئی ہے تو گھر کے لیے پیک کر دیں - پیٹ بھر گیا ہے مگر نیت نہیں بھری" - رمشہ نے ایک نظر اپنی پلیٹ کی جانب دیکھا اور پھر بریانی ی ڈونگے میں ڈال کر ڈھکن لگا کر اسے پکڑا دی- یہ بھی کوئی پہلی بار تھوڑی تھا- ہر بار ہی ایسا ہوتا تھا- وہ جب گھر آتی تو واپسی پر کھانا لے کر ہی جاتی تھی- لیکن انسان بھی کتنا عجیب ہے نا! جتنی بار بھی اس کے ساتھ برا ہو جائے اگلی دفعہ نئے سرے سے اس کی تکلیف ہوتی ہے – ................... رمشا کے سسرال میں تھوڑا ہی لوگ تھے – ساس، سسر اور ایک دیور نسیم، جس کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی- زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا تبھی کپڑے کی دکان کھولی تھی-نیا کام تھا اور بہت زیادہ سیل بھی نہیں تھی- رمشہ ان لوگوں کی دور کی رشتہ دار لگتی تھی -جان پہچان والوں نے رشتہ کروا دیا تھا- اس کے والد کے انتقال کو کچھ ہی سال ہوئے تھے – والدہ بھی بہت ضعیف تھیں – دو چھوٹی بہنیں تھیں اور ایک بھائی جو کہ بہنوں سے بھی چھوٹا تھا – میکہ تو اس کا کراچی میں تھا- اسی لیے لیے کم چکر لگتا- اس کے ساس سسر نے بہت سوچ سمجھ کر شادی کی تھی- لڑکی اتنی دور سے لائے تھے کہ نہ تو اپنے گھر جا سکے اور نہ ہی اس کے گھر والے ملاقات کرنے آئیں – جبکہ اپنی بیٹی کی شادی یہ بات انتہائی سوچ کر کی تھی تھی کہ وہ اتنی قریب ہو کہ ہر روز ماں باپ سے ملنے آ سکے- اس کے میاں ظہیر کی پوسٹنگ لاہور میں ہوئی تھی- وہ جاب کرتا تھا باقی تمام فیملی ملتان میں تھی – امی ابو، بھائی شادی شدہ بہنیں سب ہی اپنے آبائی گاؤں میں رہتے تھے-ثوبیہ کے سر پر کوئی بھی ذمہ داری نہ تھی اوپر سے میکہ بھی قریب تھا- اس لیے آئے روز گھر آنا اس کا معمول تھا -رمشہ اور اس کی شادی ایک ہی مہینے کے وقفے سے ہوئی تھی – دونوں کی شادی کو چند ماہ ہی گزرے تھے لیکن دونوں میں بہت فرق تھا- رمشہ گھر میں بڑی اور ذمہ دار تھی والد کے انتقال کے بعد سادگی سے شادی ہو جانا نا ہی غنیمت تھی- اس کے گھر کے حالات اتنے اچھے نہ تھے کہ وہ لوگ بار بار اس سے ملنے آ سکتے- اوپر سے سلیم کی نوکری بھی اس طرح کی تھی کہ مخصوص وقت پر ہی تنخواہ جاتی- بڑا بیٹا ہونے کی وجہ سے اسی پہ گھر کی ذمہ داری اور خرچہ تھا-اس کے سسر کی پنشن اور سلیم کی تنخواہ سے ہی سارے گھر کا خرچہ چلتا- چھوٹے بھائی نسیم نے تو ابھی کچھ دینا شروع ہی نہیں کیا تھا کہ دکان چلے گی تب بھی وہ گھر میں میں خرچہ دے سکتا ہے- ایسے میں نند صاحبہ کی آمد اور خاطر مدارت ایک اضافی خرچہ بن گیا تھا- لیکن یہ خرچہ صرف اسی کو نظر آتا تھا – ماں باپ اور بھائیوں کو اس سے کوئی غرض نہ تھی- ابھی تک ثوبیہ کو چھوٹی بچی کی طرح رکھا جاتا تبھی آئے دن کی مہمان نوازی میں وہ کبھی اس کا ہاتھ نہ بٹاتی- کہنے کا تو اس کا اپنا گھر تھا مگر کام کے وقت وہ مہمان بن جاتی- رمشہ اپنے گھر کے حالات جانتی تھی تبھی مصلحت کے تحت خاموشی سے چپ چاپ برداشت کرتی رہی کہ شاید کبھی تو بہتری آئے گی جو کہ کہ مستقبل قریب میں آتی نظر تو نہ آتی تھی- کچھ دن گزرے تھے- اس کی طبیعت کچھ گری گری رہنے لگی- جی متلا رہا تھا اور کچھ بھی اچھا نہ لگ رہا تھا- اس نے سلیم سے کہا کہ اس کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلے- کیونکہ تنخواہ ملے کچھ ہی دن گزرے تھے تو وہ بخوشی راضی ہوگیا- ٹیسٹ کروانے پر پتہ چلا کہ وہ امید سے ہے – وہ دونوں ہی بے تحاشہ خوش ہوئے تھے- اسے لگا تھا کہ اسے اس کائنات کی سب سے بڑی خوشی مل گئی ہے- گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی- اسے لگا کہ اس کی مشکلیں آسان ہو جائیں گی لیکن یہ اس کی بھول تھی- جہاں ارد گرد ایسے لوگ پائے جائیں جن کی آنکھوں پر خود غرضی کی پٹی ہو انہیں دوسروں کی خوشیوں سے کبھی کوئی غرض نہیں ہوتی- اس نے فون کرکے اپنی امی کو بتایا تو اس کی امی نے ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ ڈھیروں احتیاطیں بھی بتائی تھیں – بھلا اس گھر میں احتیاط کہاں سے ہوتی جہاں وہ کام کرنے والی تنہا اکیلی جان تھی- رات پھر ثوبیہ آ گئی- "بھابھی بہت بہت مبارک ہو، مجھ سے تو سن کر رہا ہی نہیں گیا- ظہیر تھکے ہوئے آئے تھے پھر بھی میں نے کہا چلیں مبارکباد دے کے آئیں" وہ مٹھائی کا ڈبہ پکڑا کر بولی- " یہ کھولیں اور ساتھ چائے بنا لیں" – رمشہ نے چکراتے سر کے ساتھ ایک نظر ساس پر ڈالی- اسے لگا شاید وہ اپنی بیٹی سے کہیں کہ آج اس کو چھوڑو تمہیں چائے بنا لو، لیکن یہ باتیں شاید خواب میں ہی سوچی جاسکتی تھیں – وہ خاموشی کچن میں آ گئی- گرمی کی وجہ سے کچن میں کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا-چائے بناتے دو بار الٹی بھی ہوئی... مگر وہاں تھا کون جو اسکی خبر لیتا کہ وہ کس حال میں ہے- ........................... رات وہ سونے کے لیے بستر پہ لیٹی تو سلیم نے اسے پکارا – "رمشہ اپنے اور میرے لیے اس بچے کا بہت خیال رکھنا – میں بہت خوش ہوں" وہ اس دولت کو پا کر بہت پرمسرت تھا- رمشہ نے سوچا کہ اس خوشی کی وجہ سے ابھی سلیم کا موڈ خوشگوار لگتا ہے ہے، کیا ہی اچھا ہو میں اس سے اپنے دل کی بات کہوں اور وہ سن لے.... وہ دھیرے سے بولی- " سلیم میں ادھر اپنا کیسے خیال رکھوں... آئے روز تو آپ کی بہن کے چکر لگتے ہیں اور....." ابھی بات اس کے منہ میں ہی تھی کہ سلیم کا پارہ ہائی ہو گیا- "بس بس اور کچھ کہنے کی ضرورت نہیں.... ایک ہی تو بہن ہے ہماری اب وہ گھر بھی نہ آئے....." وہ غصے سے منہ پھیر گیا تھا- لو جی بات ہی ختم ہو گئی... اس نے خاموشی سے رخ پھیرا اور سونے کی کوشش کرنے لگی- کئی آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ کر بستر کی چادر میں جذب ہوتے رہے تھے- ................ دن گزرتے جا رہے تھے- طبیعت گری گری رہتی تھی-نہ کچھ کھایا جاتا نہ کام کیا جاتا- اوپر سے الٹیاں کرکے وہ زیادہ کمزور ہو گئی تھی- گھر میں تو وہ کچھ بھی پکا لیتی ساس سسر زیادہ اعتراض نہ کرتے لیکن ثوبیہ کے آنے پر خاص اہتمام کرنا پڑتا- جس کی وجہ سے اس کی طبعیت بھی خراب ہوجاتی اور کمر میں بھی درد زیادہ ہو جاتا تھا- ایک ماہ سے ثوبیہ کا آنا کافی کم ہو گیا تھا- یعنی بس وہ ہفتے میں صرف ایک ہی بار آتی- اس کا اپنا موڈ بہت خراب تھا- بھابھی کی حالت دیکھ کر اس کے دل کو یہ پریشانی لاحق ہو گئی تھی تھی کہ اس کی شادی پہلے ہوئی ہے لیکن ابھی تک اس کے پاس یہ خوشخبری نہ آئی تھی- رمشہ نے بھی کچھ دن سکھ کا سانس لیا تھا لیکن یہ سانس ابھی گلے میں ہی تھا کہ سکھ ختم ہوگیا – اگلے ماہ ثوبیہ شور مچاتی مٹھائی کے ٹوکرے کے ساتھ آن پہنچی تھی- " مبارک ہو جناب آپ بھی مامی بننے والی ہیں" – اس نے خوشی خوشی رمشہ کو یہ خوشخبری سنائی تھی- رمشہ بہت حساس اور دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے والی لڑکی تھی-اسے دل سے ثوبیہ کی خوشی محسوس ہوئی تھی- "بہت بہت مبارک ہو" – رمشہ نے اسے مبارک باد دی لیکن اب اس کے بعد اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا یہ اسے معلوم نہ تھا- .................... ثوبیہ نے دو دن ادھر ہی رکنے کا اعلان کیا تھا اور یہ تو ابھی شروعات تھی-اس کی خاطر مدارات کرتے ساس اور سسر کو یہ بھول گیا تھا کہ کچن میں کھڑی ان کی بہو بھی تین ماہ سے اسی حالت کا شکار ہے- دونوں عورتوں کی حالتوں میں کوئی فرق نہ تھا لیکن لوگوں کی سوچوں میں بہت فرق تھا - جو بیٹی کو تو ایک عینک سے دیکھتے ہیں اور بہو کو دیکھتے ہوئے دوسری آنکھ لگا لیتے ہیں تبھی ان کی نظر اور ان کی سوچ میں میں فرق آ جاتا ہے- گرمی میں کام کی زیادتی کی وجہ سے رمشہ کو بہت زیادہ چکر آنے شروع ہو گئے اور وہ کچن میں ہی بے ہوش ہو کر گر گئی- ایمرجنسی میں سلیم اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر بھاگا.. ڈاکٹر نے ڈراپ لگا کر دوائیاں دیں تھیں اور دوبارہ سے سلیم کو اس کا خیال رکھنے کی یاد دہانی کروائی تھی- رمشہ گھر واپس آئی تو ثوبیہ واپس جا چکی تھی لیکن اب ہر مہینے آنا اور گھر میں رکنا اس کا وطیرہ بن چکا تھا - رمشہ بھی اپنی حالت کی وجہ سے سے ثوبیہ کی وہ خدمت نہ کرپاتی جس طرح پہلے کرتی تھی- جب وہ تھک جاتی تو ہمیشہ سلیم سے ہی شکوہ کرتی- " آپ کو میری حالت نظر نہیں آتی"؟ " ہاں مجھے پتا ہے میں مجبور ہوں، یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ گھر نہ آؤ ایک ہی بہن ہے اسے بھی منع کر دوں؟ اپنا رزق ساتھ لے کے آتی ہے- جو اس کا نصیب" سلیم ہمیشہ یہ کہہ کر اس کا منہ بند کروا دیتا- "اور میرا نصیب"؟ وہ بولتی اور چپ ہو جاتی جھگڑے کا کوئی فائدہ نہیں تھا- جہاں لوگ سمجھ رکھتے ہوئے سمجھنا نہ چاہتے ہو وہاں سمجھانے والے کا ہی منہ خراب ہوتا ہے- اس کا کا دل چاہتا تھا کہ وہ اڑ کر اپنے میکے چلی جائے- لیکن حالات نے ایسا مجبور کیا تھا کہ لگتا تھا دوسرے ملک میں رہتے ہیں جو مل ہی نہیں سکتے-روز فون پر بات ہو جاتی تھی- وہ امی کو تسلی کے سوا کچھ نہ دے سکتی تھی اور امی کے پاس بھی بھی دعاؤں کے علاوہ اسے دینے کو کچھ نہ تھا- ......................... اس کا آخری مہینہ چل رہا تھا تھا - کام کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا- وہ ایک ایک دن گن کر گزار رہی تھی - تبھی اس کے گھر سے پارسل آیا- وہ بڑے سے ڈبے کو دیکھ کر چونک گئی-شادی کے بعد پہلی بار کچھ آیا تھا- اس نے بے چینی سے سے ڈبہ کھول کے دیکھا- اس کے اندر بچے کے کپڑے اور کھلونا تھے- امی نے اپنے ہاتھ سے بچے کے لیے بچھونیاں اور بستر تیار کیے تھے- وہ ایک ایک چیز کو دیکھ کر چوم رہی تھی- آنکھوں سے لگا رہی تھی- اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے- میکے سے آئی ایک ایک چیز سے کتنی محبت ہوتی ہے نا کیونکہ اس کے اندر ماں باپ بہن بھائیوں کا پیار چھپا ہوتا ہے- اس بات کا اندازہ تو صرف دور والے ہی کر سکتے ہیں جنھیں اپنوں سے ملنا نصیب نہیں ہوتا- چیزیں تو اس نے بھی لیں تھیں لیکن ان میں ایسی اپنائیت تھی- اس کے گھر کا خرچہ صرف صرف ابا کی پنشن سے چلتا تھا- باقی امی بہنیں سلائی کر کے پورا کرتی تھیں - ایسے میں یہ سب رمشہ کو فضول خرچی لگا - وہ اداس ہوئی تھی - اس نے فورا ہی گھر فون کیا - " امی یہ کیوں کیا آپ نے؟ ہم کرلیتے ہمارا بچہ ہے" وہ خفا ہوئی - " تو کیا ہوا رمشہ، ہمارا بچہ نہیں ہے کیا؟ ہمارے گھر کی بھی پہلی خوشی ہے - کیا ہوا جو ہم آ نہیں سکتے- ہم اس کو کچھ بھیج سکتے ہیں نا" ان کے لہجے میں نانی بننے کی خوشی تھی- وہ کتنی دیر بات کرتی رہی اور روتی رہی - اس وقت اسے شدت سے صرف اپنی ماں اور بہنوں کی ضرورت تھی جو چاہ کر بھی اس کے پاس نہ آ سکتی تھیں - ................ ہر مشکل وقت آتا ہے اور اس وقت لگتا ہے یہ کبھی ختم نہ ہوگا-رمشہ کو بھی ان اذیت ناک گھڑیوں میں یہی لگتا تھا- وقت آتا ہے اور پھر گزر جاتا ہے لیکن اپنے پیچھے ایک خوبصورت یادگار چھوڑ جاتا ہے- اس نے بھی ایک بہت پیارے سے بیٹے کو جنم دیا تھا- ہسپتال میں گزرے وہ لمحے ہے اس کے لیے غنیمت تھے کہ اتنی تکلیف کے بعد بعد وہ بستر پر لیٹی تھی- دل کرتا تھا مہینوں گزر جائیں اور ہسپتال سے گھر نہ جائے - وہ جانتی تھی کہ ابھی اسے کن کن مراحل سے گزرنا ہے- ہسپتال سے چھٹی ملی تو وہ گھر آگئی- دو دن تو اس کی ساس نے بڑی مشکلوں سے باتیں سنا سنا کر کھانا بنا لیا لیکن تیسرے دن ان کا موڈ دیکھتے وہ خود ہی اٹھ کھڑی ہوئی- اپنے علاوہ بچے کا بھی اضافی کام تھا - اسے لگتا تھا تھا وہ ایک زندہ لاش ہے جو اپنا وجود گھسیٹ رہی ہے- تھکن سے چور اور اپنے دردوں کو پس پشت ڈال کر کر وہ کام میں لگی رہتی - ہر وقت ہونٹوں پر ایک ہی دعا ہوتی "یا اللہ بس ثوبیہ نہ آئے" یہ اس کی مستقل دعا بن چکی تھی- جب وہ نہ آتی تو ایسا لگتا کہ اس کی دعا قبول ہو گئی ہے اور جب وہ آ جاتی تو لگتا اس کی دعا قبول نہیں ہوئی- رمشہ کی دفعہ تو ساس نے بچہ پیدا ہونے تک جتایا تھا کہ دنیا کا کون سا انوکھا بچہ پیدا ہو رہا ہے جو عورت کوئی کام نہ کر سکے- لیکن اپنی بیٹی کی دفعہ یہی لگتا تھا کہ ایسا انوکھا بچہ پیدا ہو رہا ہے کہ اس کا بس چلے تو زمین پر پاؤں بھی نہ رکھے- ....................... آخری مہینہ شروع ہوتے ہی ثوبیہ میکے رہنے آ گئی تھی کہ میرے گھر میں تو کوئی ہوتا نہیں-ضرورت پڑی تو کیا ہوگا؟ آ تو وہ گئی تھی لیکن رمشہ کی پریشانی میں ڈبل اضافہ ہو گیا تھا- ابھی اس کی ڈیلیوری کی وجہ سے سلیم کا ہاتھ تنگ تھا اور اب بہن کے گھر آنے کا مطلب یہی تھا کہ اس کا خرچہ بھی یہی لوگ اٹھائیں گے- اصولاً تو جن کی اولاد ہے یہ ذمہ داری ان ہی کی تھی- رمشہ نے تو بہت منت کی کہ صاف صاف پوچھ لیں اور امی ابو کو بتا دیں کہ آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں- سلیم بولنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن شدید مجبوری میں میں وہ بالآخر مان ہی گیا- شام کے وقت وہ امی ابو کے کمرے میں گیا تو ثوبیہ وہیں موجود تھی اور رسمی سلام دعا کے بعد اس نے امی سے پوچھا تھاکہ آگے کا کیا ارادہ ہے؟ ثوبیہ اس کا کا اشارہ سمجھ چکی تھی- تبھی بولی " ادھر آئی ہوں تو ظاہری سی بات ہے بچے کی چیزیں تو امی ہی دیں گی" - اس کی پہلی دفعہ تھی اتنا کچھ معلوم نہ تھا لیکن رمشہ شاہ کا پارسل دیکھ کر کر وہ بھی ساس کے سر ہو گئی تھی تھی کہ جب اس کے گھر والے دے سکتے ہیں تو میرے تو پھر دو دو بھائی ہیں- " میں چیزوں کی بات نہیں کر رہا، ہسپتال کے خرچے کی بات کر رہا ہوں" سلیم نے صاف بات کی تھی- " ظاہر سی بات ہے میرے گھر والے ہی کریں گے" - وہ اطمینان سے بولی. "ابو میری ایک بات سن لیں- رمشہ کی ڈلیوری کے بعد بہت خرچہ ہوا ہے فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے اس لئے مجھ سے پیسوں کی امید نہ رکھے گا باقی آپ اور ظہیر بھائی مل کر کر لیں- مجھے کوئی اعتراض نہیں-" وہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا - "ہائے ہائے امی، دیکھ رہی ہیں آپ بیٹے کے بعد کیسے پر لگ گئے ہیں، کیسی زبان نکل آئی ہے بھائی کی " ثوبیہ نے شور مچایا- " ہاں بیوی نے پڑھا کر بھیجا ہوگا- میرا بیٹا ایسا نہیں ہے- آج تک کوئی انکار نہیں کیا" امی کو بھی غصہ آیا- ایک ذرا سی بات سے سالوں کی ریاضت پر پر پانی پڑ جاتا ہے- رمشہ کو اب احساس ہوا تھا اس نے سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا تھا کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا- صحیح کہتے ہیں لوگ سسرال والوں کے سامنے سر بھی کاٹ آ کر دو تو انہیں یقین نہیں آتا کہ کبھی ان کے لئے بھی کوئی قربانی دی ہے- ............. جاری ہے..

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...