Skip to main content

Posts

Showing posts from September, 2018

اميد

اس کی سپورٹس کار چمچماتی سڑک پہ رواں تھی. اس نے کالے سوٹ پہ کالا اور سرخ باریک دوپٹہ گلے میں ڈال رکھا تھا جو ہوا سے اڑ رہا تھا. اس کا خوبصورت چہرہ دھوپ میں چمک رہا تھا. اس کے ہونٹوں پر نیچرل کلر کی لپ اسٹک لگی تھی. لمبی لمبی پلکوں پہ نفیس سا لائنر لگائیے. اس نے اپنی آنکھیں ایک ادا سے اٹھائی اور ریان کی جانب دیکھا. اس کے خوبصورت ہونٹ مسکرا رہے تھے. لمبی لمبی مخروطی انگلیوں سے اس نے اپنے سلکی بالوں کو ایک جھٹکا دیا اور ادا سے بولی اور کتنی دیر ہے ریان؟ بس آتا ہی ہوگا. ریان اس کی آنکھوں میں جھانکتا بولا. وہ دلکشی سے مسکرائی. گاڑی میں چلتے گانے میں وہ دونوں ہی کھو گئےتھے. تیرا میرا رشتہ پرانا.... وہ سننے لگی مگر اچانک گاڑی کو بریک لگی اور اس کا سر ڈیش بورڈ سے ٹکرایا. آہ... اس کے منہ سے کراہ نکلی تھی. کٹ... ویل ڈن.... بیک اپ.... باقی کل... ڈائریکٹر ہدایات دینے لگا. وہ گاڑی سے اتری اور لمبی ہیل سے سہج سہج چلتی چینج روم میں چلی گئی. اس نے جلدی سے کپڑے چینج کیے تھے اگر ڈائریکٹر چلا جاتا تو مسئلہ ہو جانا تھا. کپڑے بدل کر باہر آئی. ا...

سمندر میں چابی

یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ہمارے پورے خاندان نے دمام جانے کا پلان بنایا۔۔تاکہ اچھی سی پکنک کی جائے اور سمندر پہ نہایا جائے۔چار پانچ فیملیز اکھٹے گئیں تھیں۔سب سمندر میں گھسے اور نمکین پانی میں خوب غوطے لگائے۔۔سوائے ہمارے میاں کے جن کو پانی سے زیادہ نیند پیاری ہے سو وہ سکون سے گاڑی میں اے سی لگا کر سوتے رہے اور باقی سب لوگ مزے کرتے رہے۔ جب سب نہا کر فارغ ہوئے تو ہمارے میاں صاحب آنکھیں ملتے اٹھے اور منہ ہاتھ دھونے چل پڑے۔۔ اسی وقت پتہ چلا کہ ان کے بڑے بھائی کی گاڑی کی چابی غائب ہے اور اب گاڑی نہیں کھول سکتی سو سب سامان بھی لوک ہو گیا ہے۔اضافی ابی بھی نہ تھی اور چابی تھی بھی ریمورٹ والی آٹومیٹک گاڑی کی۔اب تو سب کا رخ سمندر کی جانب تھا۔ ہمارے اونگتے ہوئے میاں صاحب نے خبر سننی اور کپڑے بدل کر سکون سے سمندر کے اندر گئے جدھر وہ نہائے تھے پہلا ہاتھ مارا چابی نکالی اور واپس آ گیا۔۔۔ سب لوگ حیرت سے انہیں تکتے ہی رہ گئے اور سب نے کہا کہ اتنی دور سے تم صرف چابی ڈھونڈنے کے لیے ہی آئے تھے۔۔۔ ہم خود یہی فرماتے رہے کہ پکنک تو منائی نہیں سمندر کا پانی توچکھا نہیں۔۔۔پھر اتنے سفر کا فائدہ؟؟ مگر پھر اق...

قصہ ان راتوں کا

ہر لکھاری ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔کوئی کسی مخصوص اوقات میں لکھتا ہے۔۔کوئی روز۔۔مجھے تو جب نزول ہو تبھی لکھتی ہوں۔۔ویسے اب تک میں نے سماجی معاشرتی موضوعات پہ ہی زیادہ لکھا ہے۔لیکن جب ایالف کتاب کی جانب سے خوفناک اور پرسرار کہانیاں منگوائیں گئیں تو سوچا اس پہ بھی قلم اٹھایا جائے۔۔ میںخود نہایت ڈرپوک واقع ہوئی ہوں اور مجھ سے کچھ بھی ہارر نہیں دیکھا جاتا۔۔پھر بھی ناجانے کیوں ایک حویلی کا قصہ لکھنا شروع کر دیا۔مری میں واقع ایک حویلی جس میں ایک پرسرار روح موجود تھی۔ساری کہانی دن کے اوقات میں لکھی تبھی اتنا خوف محسوس نہ ہوا۔قصہ اس حویلی کا مکمل ہوئی تو بھجوانے کے کچھ دن بعد ایک ایڈیٹر کا فون آیا کہ اس کو تھوڑا طویل کر دیا جائے تاکہ پڑھنے والے محظوظ ہو سکیں۔۔ اس دن میرے میاں صاحب حج پہ روانہ ہو رہے تھے۔ان کے جاتے ہی رات کا سکون میسر آتے ہی میں کاغذ قلم پکڑے بیٹھ گئی۔۔سوچ سوچ کر لکھ رہی تھی کہ لگا باہر دروازے پہ کھٹکا ہوا ہے۔ڈر ڈر کے دیکھا کوئی نہ تھا۔پھر کچھ لکھا تو لگا پہ دروازہ بج رہا ہے اس بار بھی کوئی نہیں تھا۔پھر بیٹھی ہی تھی کہ کمرے کا دروازہ بند ہو گیا۔۔مجھے لگا کہ مری کی چڑیل اس کم...

لائبریری

یونیورسٹی شروع ہوئے تھوڑے ہی دن ہوئے تھے۔ڈیپارٹمنٹ نیا تھا۔لوگ نئے شہر بھی تو نیا تھا۔وہ تو ایک دور دراز کے چھوٹے سے قصبے سے آئی تھی۔ہوسٹل بھی اچھا تھا۔بس ابھی اس کے ہوسٹل میں کوئی بھی کلاس فیلو نہیں تھی سب کے الگ الگ ہوسٹل تھے۔یہاں آ کر اپنے سارے کام تو خود کرنے آ گئے تھے۔۔ چند ہی ہفتے گزرے تھے کہ پہلی اسائمنٹ آ گئی اس نے نہایت جوش سے ٹاپک سنا لکھا اور ازبر کیا۔کلاس ختم ہوتے ہی وہ رجسٹر اٹھائے لائبریری کی طرف بڑھ گئی۔ ڈیپارٹمنٹ کی اپنی بھی لائبریری تھی مگر مرکزی لائبریری کی تو بات ہی کچھ اور تھی۔۔ وہ پندرہ منٹ کی واک کے بعد لائبریری پہنچی۔۔کشادہ لان ہری ہری گھاس اونچے اونچے سرو کے درخت۔۔وہ کافی پرسکون محسوس کرنے لگی۔اس نے تازی ہوا اپنے اندر اتاری تھی۔دماغ بھی تروتازہ ہو گا تھا۔ لائبریری کے اندر داخل ہوتے ہی ایک طرف استقبالیہ تھا جس پہ بیٹھا شخص کسی کتاب میں منہمک تھا۔۔۔تھوڑے فاصلے پہ کمپیوٹر لیب بنی ہوئی تھی۔آج ادھر بہت رش تھا۔کمپیوٹر لیب میں بھی طلبہ اپنی اسائمنٹ بنانے کے لیے آتے تھے ۔زیادہ تر وہ لوگ جو ہاسٹل میں تھے اور ان کے پاس کمپیوٹر لیپ ٹاپ یا نیٹ کی سہولت موجود نہ تھی۔اس نے شی...

Fatima i miss u

#humamlibrary Komal Shahab فاطمہ آئی مس یو۔۔۔ پکوڑے کے نام سے تو تمام دنیا ہی واقف ہے اس کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں مگر حقیقتا ایسا نہیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میری جٹھانیوں نے عربی مدرسے میں پڑھانا شروع کیا۔ایک ماہ کا دورہ تھا۔انہیں عربی آتی ہے اس لیے وہ پڑھا رہی تھیں اور میں پڑھنے چلی گئی اور میری عربی بس ایک دو لفظ کی ہی ہے۔ خیر تصیح تلاوة کی کلاس تھی اور پہلی ہی دن ایک مصری لڑکی جسے انگلش آتی تھی میری دوست بن گئی اور میری عید ہو گئی۔پورا مہینہ اسی کے دم سے گزرا۔ہر جمعرات کو لڑکیاں کچھ بنا کر لے آتی تھیں۔پھر ایک دن مینا بازار رکھا گیا جس میں ہر ملک کے کھانے لے کر آنے تھے۔یعنی ہر ملک کی لڑکی اپنے ملک کا کھانا لائے۔ میری جٹھانیوں نے بہت کہا بریانی لے جاو۔۔۔مگر مجھے تو بنانی ہی نہیں آتی تھی۔۔ہی ہی ہی۔۔۔ تو بریانی تو جٹھانی سے بنوا لی مگر خود ہم لے کر گئے پکوڑے جی ہاں ۔۔۔۔رمضان اسپیشل۔۔۔میری جٹھانیوں نے بہت کہا کوئی نہیں کھائے گا۔۔کوئی پکوڑے کو نہیں جانتا مگر ہم نے ایک نہ سنی اور ڈھیر سارے پکوڑے لے کر پہنچ گئے۔۔ اسٹال پہ پکوڑے کا نام *باکورہ* لکھوا دیا۔۔۔بس جہ سب باکورے بک گئے اور...

تمہیں کیا معلوم؟؟؟

کل وہ ملا  تو کہنے لگا   بہت بدل گئی ہو تم  کیا تمہیں پتہ ہے تمہاری پلکوں پہ ستارے ٹمٹماتے ہیں تمہاری آنکھوں میں سمندر ڈوب جاتے ہیں  تمہاری آنکھوں میں موتی جھلملاتے ہیں  جگنو جگمگاتے ہیں  تمہاری آنکھیں جھیل سی گہری لگتی ہیں  تمہیں کیا معلوم یہ کتنوں کو کتنی پیاری لگتی ہیں  تمہارے قدموں کے ساتھ کتنوں کی سانسیں چلتی ہیں تمہارا ندامت سے پین کو ہونٹوں میں دبا لینا  ہنستے ہوئے اپنے چہرے کو چھپا لینا  کبھی گھبرا کے دھیرے سے نظریں جھکا لینا  یہ سب انداز تمہارے ہیں  اور کتنے پیارے ہیں  تمہیں کیا معلوم  تم فقط ایک ہو اور کتنے لوگوں کی دھڑکن ہو  تمہارا وجود صحرا ہے مگر پھر بھی ساون ہو  تم ایک چمکتا ستارا ہو یا کائینات کا حسن سارا ہو  تمہیں کیا معلوم  مجھے معلوم ہے سب کچھ  بہت بدل گئی ہوں میں  وہ ہنستے ہوئے بولی  یہ مکالمے تمہارے  مجھے یاد ہیں سارے  جو ہر لڑکی کو سناتے ہو  پھر اسکا دل دکھاتے ہو  مجھے معلوم ہے سب کچھ ...