Skip to main content

Posts

میں اسے لے کر جاؤں گی

میں اس سے لے کر جاؤں گی از قلم سارہ عمر یہ واقعہ آج سے کوئی پچاس پچپن سال پرانا ہے۔ یہ واقعہ میرے تایا تائی کے ساتھ پیش آیا اور ان کی بیٹی نے ہمیں سنایا۔ تایا تائی کی وفات کو بھی کئی سال ہو چکے ہیں اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے آمین۔۔  میرے تایا تائی پنڈی سے کراچی جاب کے لیے گئے تھے۔ پرانے زمانے میں اچھی جاب کے لیے بڑے شہروں کا رخ کیا جاتا۔ اس وقت ان کی شادی ہوئی تھی اور انہوں نے وہاں ایک چھوٹا سا گھر لے کر رہنا شروع کر دیا۔ معذرت کے ساتھ علاقےکا نام میرے علم میں نہیں۔ کچھ عرصے کے بعد ان کا پہلا بیٹا پیدا ہوا۔ اس رات تائی نے دیکھا کہ کمرے کے اوپر ایک روشندان ہے اور اس میں ایک عورت بیٹھی ہے جسے دیکھ کر انہیں بہت خوف محسوس ہوا ۔ وہ کہہ رہی تھی کہ میں اسے لے کر جاؤں گی۔ میں اسے لے کر جاؤں کی۔ تائی نے اس بات کو اپنا وہم سمجھا مگر اگلے دن بچے کا انتقال ہو گیا۔ تایا تائی بے تحا شا روئے اور پھر صبر کر لیا کیونکہ کراچی میں اکیلے ہی مقیم تھے کوئی رشتے دار موجود نہ تھا سو تایا نے بچہ اٹھایا اور اکیلے ہی قبرستان کی جانب روانہ ہو گئے ۔ راستے میں کسی نے ان کا نام دریافت کیا۔ چونکہ ہم لوگ س...

کچھ پل کی خوشی

کچھ پل کی خوشی  سارہ عمر   شائع شدہ سیارہ ڈائجسٹ اگست 2023 کچھ پل کی خوشی سارہ عمر، الریاض،سعودی عرب میری اس سے پہلی ملاقات انسٹا پہ ہوئی تھی۔انسٹا گرام ایک ایسی سوشل ایپ ہے جس پہ ہر وقت تصاویر کے ذریعے باتیں ہوتی رہتی ہیں۔فیس بک کی جگہ اب انسٹا گرام ہی زیادہ استعمال کی جاتی۔اسٹوری،ریلرز،پوسٹ سارا دن یہی تو چلتا رہتا تھا۔میرا ایک چھوٹا سا ہوم بزنس تھا،کیک بیک کرنا اور پھر اسے خوبصورت سا ڈیکوریٹ کر کے کسٹمرز کو بیچنا۔سو سارا دن میرا اسی مصروفیت میں گزر جاتا۔ایک منٹ رکیں،میں ذرا تفصیل سے بتاتی ہوں کیونکہ اب میرے پاس تفصیل لکھنے کی فرصت ہی فرصت ہے۔میرا نام آپ سبرینہ تصور کر لیں کیونکہ اب اصل نام لینے کی مجھ میں ہمت نہیں اور جس نام سے مجھے اب لوگ پکارتے ہیں وہ میں آپ کو آخر میں بتاؤ گی۔ہاں،تو مجھے قطر آئے کافی سال ہو چکے تھے۔میرے میاں صاحب ہر وقت آفس کے کام میں مصروف رہتے،بچے ہوئے اور بڑے ہو کر کب اسکول جانے لگے پتہ ہی نہیں چلا۔بڑا بیٹا چھٹی جماعت میں تھا اور چھوٹی بیٹی چوتھی میں جب میں نے اپنا کام شروع کیا تھا۔ ”بھلا کیا کرو گی اس چھوٹے سے بزنس کا،سب کچھ تو ہے تمہارے پاس“ عمیر نے...