Skip to main content

انٹرویو مصنفہ توصیف اسلم





ادب اور ادیب

انٹرویو ناول نگار توصیف اسلم

انچارج سارہ عمر


ادب اور ادیب کی بیٹھک میں ہم آپ کی ملاقات بہت سے مشہور و معروف ادبا سے کروا چکے ہیں مگر آج جو ناول نگار ہمارے ساتھ ہماری مہمان ہیں وہ ناول نگاری کی دنیا میں اپنے کام کا لوہا منوا چکی ہیں۔انہوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اردو ادب کو ایک منفرد اور نئی صنف سے متعارف کروایا ہے۔تحقیقی ناول کو کرداروں کے صورت اس طور پر ڈھالنا کہ کہانی پڑھتے قاری تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر کہانی کو ادھورا چھوڑ نہ سکے۔ 

 اگر ان کا کوئی بھی ناول آپ نے پڑھا ہے تو آپ یقیناً ان کے دیگر ناول بھی ضرور آرڈر کر چکے ہوں گے۔چلیں اب مزید انتظار کروائے بغیر ہم آپ کو ملواتے ہیں ”تابوت سکینہ کے راز“سے مشہور ہونے والی نامور مصنفہ توصیف اسلم سے۔توصیف نہ صرف میری بہت اچھی دوست ہیں بلکہ ان کی تصنیف ”سارہ کا خواب“میں میرا تبصرہ بھی شامل ہے۔


س: السلام علیکم! کیسی ہیں آپ توصیف؟

ج: وعلیکم السلام۔ اللہ کا شکر ہے۔

س:کچھ اپنا تعارف کروائیے تاکہ ہمارے قارئین آپ کے متعلق جان سکیں مزید یہ بھی بتائیے کس شہر سے تعلق ہے،کہاں پیدا ہوئیں؟

ج: کراچی میں پیدا ہوئی۔ آبائی شہر سیالکوٹ ہے۔ اس وقت لاہور میں رہائش پزیر ہوں

سافٹ ویئر انجینرنگ میں ایم فل کیا ہے اس کے ساتھ مطالعہ پاکستان میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔ والد ائیرفورس میں تھے۔ سات بہن بھائیوں میں میرا چھٹا نمبر ہے۔

س:سب سے پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ آپ کا نام توصیف کس نے رکھا؟کیونکہ مجھ سمیت بہت سے لوگ اسے کسی محترم کا نام سمجھتے ہیں۔(مجھے بھی کافی عرصے کے بعد معلوم ہوا کہ توصیف اسلم ایک محترمہ ہیں)

ج: ہاہاہا۔ یہ ہمیشہ سے ہوتا ہے اب تو حیرت نہیں ہوتی کے کوئی محترم سمجھے یا محترمہ۔ باقی میری پیدائش کراچی کی ہے تو وہاں یہ نام خواتین کا بھی ہوتا ہے۔ سب سے بڑی بہن کی دوست نے رکھا تھا۔

ویسے گھر والے نازیہ رکھنا چاہتے تھے لیکن قسمت۔



س: آپ نے تعلیم کہاں سے حاصل کی اور تعلیم کے بعد کس کس ادارے سے منسلک رہیں؟

ج: ابتدا تو کراچی سے ہی ہوئی لیکن ساری تعلیم سیالکوٹ سے ہی حاصل کی۔کمپوٹر سائنس میں ماسٹر umt سے کیا تھا۔ایم فل کے لیے گجرات میں یونیورسٹی آف لاہور کے کیمپس جاتی رہی۔


س: کچھ اپنے ادبی سفر کے متعلق بتائیے لکھنے کا آغاز کیسے ہوا؟

ج: لکھ تو بچپن سے رہی ہوں۔ آٹھویں کلاس میں پہلی کہانی لکھی تھی۔ نویں کلاس میں پہلی کہانی روزنامہ ایکسپرس کے بچوں کے صحفے پر چھپی تھی۔

اس کے بعد پھول اور کلیاں،کرنیں سنڈے میگزین، تعلیم و تربیت چند ایک مذہبی رسالے۔ بہت جگہ لکھا۔ پھر روزنامہ پاکستان اور ایکسپریس میں سیاسی سماجی کالم بھی لکھتی رہی۔ پاکیزہ والوں کا ایک ماہنامہ ڈائحسٹ تھا دلکش اب شاید نہیں آتا وہاں افسانے بھی لکھے جن کا معاوضہ بھی ملا۔ اس کے بعد کچھ پڑھائی اور کچھ ذاتی مصروفیات نے دس سال سے زیادہ کچھ لکھنے نہیں دیا لیکن 2017 کو دوبارہ لکھنا شروع کیا۔ کچھ عرصہ ایک ادبی پیج پر لکھا مگر اس کے بعد مستقل فیسبک گروپ پیبورپ پر لکھ رہی ہوں۔ اب تو میری پانچویں کتاب جل دآپ کے ہاتھوں میں ہو گی۔

س: آپ نے ڈائجسٹ میں اشاعت کی بجائے ناول کو کتابی صورت میں پبلش کرنے کو ترجیح دی،ایسا کرنے کا مقصد کیا تھا اور کیا اس میں کامیابی ہوئی؟

ج:دراصل آغاز میں ڈائجسٹ میں لکھا تھا لیکن بعد میں نہیں لکھا۔ ایک تو میں ناول لکھتی ہوں اور نئے لوگوں کواس صنف میں جگہ مشکل سے ملتی ہے۔ دوسرا وہ مکمل مانگتے ہیں تو کوشش ہی نہیں کی۔ بلکہ ایک دو چھوٹی موٹی پیشکش رد کر دیں۔میں مرضی سے لکھتی ہو۔

بالکل کتابی شکل میں کافی کامیابی ملی۔آج کے دور میں اگر کوئی آپ کو خرید کر پڑھ رہا ہے تو اس سے بڑی کیا کامیابی ہو گی۔

س: آپ کے کتنے ناول کتابی صورت میں موجود ہیں؟اپنی کتب کے نام بھی ہمارے ساتھ شئیر کیجئے۔


ج: چار ناول

سارہ کا خواب

یہ بچوں کے لیے لکھی جانے والی کتاب ہے۔ جس میں ایک ناول اور دو طویل کہانیاں ہیں۔

تابوت سکینہ کا راز

یہ میری آرکیالوجیکل سیریز پروفیسر صارم سیریز کا پہلاناول ہے۔

من اوتار

یہ جنات اور انسانوں کے باہمی تعلق کی تاریغ پر میری ناول سیریز اوتار کا پہلا ناول ہے۔

آگ دیوتا کی سرزمین

یہ وادی سندھ کی تہذیب کے آغاز پر ایک فکشنل ناول ہے۔



س: تابوتِ سکینہ کا راز ایک سسپنس سے بھرپور ناول ہے اور اس ناول نے آپ کو ادبی حلقوں میں پہچان دلائی،کچھ اس کے متعلق بتائیے کہ اس کی کہانی لکھنے کا خیال کیسے آیا؟

میں نے بچپن میں پی ٹی وی پر کوئٹہ سینٹرکا ایک ڈرامہ دیکھا تھا۔ اس ڈرامے میں ملکی اور غیر ملکی لوگوں کی ایک ٹیم بلوچستان میں پہاڑوں میں تابوت تلاش کرتی ہے۔ تابوت سکینہ۔ بس تب کا ذہن میں یہ ڈرامہ تھا۔ اسی پر تجسس کے ہاتھوں ریسرچ شروع کی تو بہت کچھ سامنے آیا۔ 


س: آپ کے تمام ناول ہی حد درجے تحقیق سے مزین ہوتے ہیں،کچھ بتائیے کہ آپ کا ریسرچ کرنے کا طریقہ کیا ہے اور بالکل مستند معلومات کہاں سے حاصل کرتی ہیں؟

ماسٹر اور ایم فل کے دوران تحقیق کے بارے میں عملی طور پر پڑھا اور سیکھی۔ کوئی ٹاپک ذہن میں ہوتا ہے تو اس سے متعلق مضامین ،کتابیں ،ریسرچ پیپر، وڈیوز، اور ماہرین کی رائے، لوگوں کے عمومی خیالات سب دیکھتی ہوں۔ فیصلے کا حق قارئین کے پاس ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں کتنی مستند معلومات ہیں۔


س: آپ کی کہانیاں خیالی کرداروں اور تصوراتی دنیا کے گرد گھومتی ہیں،اتنا عمدہ تخیل لفظوں میں ڈھالنے کے لیے سب سے بہترین معاون کون ثابت ہوتا ہے؟آپ کا لکھنے کا جنون،یا کوئی انسپریشن؟

شاید حقیقت زیادہ تلغ ہے۔

باقی مجھے ایسی کہانیاں اور فلمیں پسند تھیں تو جو پسند ہے وہی لکھتی ہوں۔

س: آگ دیوتا کی سر زمین لکھنے کی خیال ذہن میں کیسے آیا؟

مجھے لگتا تھا کے جتنی دوسری تہذیبیں پرانی ہیں اتنی ہی ہماری تہذیب پرانی ہے۔ بلکہ ہمارے پاس تو کئی تہذیبیں ہے۔ تو جیسے ان پر بے تحاشہ مواد ہے ہماری تہذیبوں پربھی ہونا چاہئے۔ یہی سوچ آگ دیوتا کی سرزمین کا پیش خیمہ تھی اور اسی بناپر پروفیسر صارم سیریز لکھ رہی ہوں۔


س: آپ کے تحقیقی ناول میں بھی سائنسی ایجادات اور اصطلاحات کے لیے اردو کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں،آپ کی اردو پہلے سے ہی اچھی ہے یا لکھنے کے لیے باقاعدہ لغت کا مطالعہ کرتی ہیں؟

اردو تو ہمیشہ سے اچھی تھی۔ بول چال کراچی میں گزرنے والے بچپن کی وجہ سے اور لکھنے پڑھنے والی پڑھنے کے شوق کیوجہ سے۔ نہیں کوئی لغت استعمال نہیں کرتی بس کوشش ہوتی ہے کہ ہر لفظ اردومیں ہی لکھوں۔


س: آپ کا ناول من اوتار کس متعلق ہے؟کچھ تفصیل بتائیے اور اس کے اتنے منفرد نام کی کیا وجہ ہے؟

جیسا کہ بتایا ہے میں انسان اور جنات کے تعلقات پر اوتار سیریز لکھ رہی ہوں۔ اور من کا مطلب ہے جس شخص کا اندر عظیم ہو اور وہ صرف تن کی طاقت ہی نہیں من کی مرضی سے اوتار ہو۔


س: آپ کی تمام تحریر بہت منفرد ہیں مگر آپ کو خود اپنی کونسی تحریر سب سے زیادہ پسند ہے؟

ج: سارہ کا خواب میں پہلی کہانی۔ منی ناول پانی میں گیت۔اور تابوت سکینہ کاراز۔ یہ ناول میرے ایک سال کی تحقیق کا نچوڑ ہے۔


س: جب تعریف کے ساتھ تنقید بھی موصول ہو تو کیسا لگتا ہے اور تنقید کس بات پہ زیادہ کی جاتی ہے؟

ج: بالکل نارمل لگتا ہے۔ باقی کہتے ہیں آپ منظر نگاری اور جزیات پر کم لکھتی ہیں۔


س: ناول تو اکثر لکھاری لکھ ہی لیتے مگر پبلش کروانے کے متعلق آگاہی نہ ہونے کے برابر ہے۔آپ کا پبلشرز کے ساتھ تجربہ کیسا رہا اور کچھ اس متعلق رہنمائی کیجئے۔

ج: شروع میں دو تین بار نقصان اٹھایا پھر علم وعرفان کے پاس چلی گئی۔ ان کے ساتھ تجربہ اچھا رہا۔ باقی صبر اور محنت کرنی پڑتی ہے۔ لکھتے رہیں چھپنے کی نوبت آہی جاتی ہے۔ باقی خود چھپوانا ایک ایسا طریقہ ہے جس کو آپ شاید زیادہ دیر جاری نہ رکھ سکیں۔ اس وجہ سے مصنفین کو دوسرے طریقوں کو ضرور حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایمازون اور ویب سائٹس وغیر بہتر ثابت ہوسکتی ہیں۔

س: آپ کیا سمجھتی ہیں کہ قلم کے ذریعے معاشرے کو سدھارا جا سکتا ہے؟

ج: شاید ہاں یا شاید نہیں۔ لیکن تحریریں بہرحال ذہن سازی تو کرتی ہیں۔لیکن اہم یہ ہے کہ کتنے فی صد پڑھتے ہیں۔

س: جو نئے لکھاری سیکھنے کے عمل میں ہیں انہیں کیا مشورہ دیں گی؟

ج: لکھتے رہیں۔اپنی زات کے لیے لکھیں اپنے شوق کے لیے لکھیں۔ آپ کو ضرور کامیابی ملے گی لیکن اپنے آپ کو ثابت کرنا پڑے گا۔

س: کیا آپ کی زندگی میں کبھی ایسا وقت آیا کہ دل چاہا کہ لکھنا چھوڑ دیا جائے؟ اگر ایسا وقت آیا تو اس وقت کونسی چیز نے دوبارہ لکھنے کی جانب مائل کیا؟

ج بس زندگی کی دوڑ نے لکھنے کی دوڑ سے باہر کیا۔ باقی شروع بھی شوق کی وجہ سے کیا اور دوبارہ آغاز بھی شوق ہی کی وجہ سے کیا۔ اب لکھنا شاید زندہ رہنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔


س:اپنے نئے آنے والے پراجیکٹ یا ناول جس پہ کام چل رہا ہے،اس کے متعلق قارئین کو بتائیے۔

اندیکھا

یہ ناول جلد آنے والاہے۔ یہ اندیکھی شیطانی قوتوں کی کہانی ہے جو ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔

شہزادی سماتون

ُپروفیسر صارم سیریز کا دوسراناول اور طواف زات لکھنے کے مراحل میں ہیں۔


چلیے اب کچھ اپنی پسند نا پسند کے متعلق بتائیے۔

پسندیدہ کتاب:

میراداغستان اور صوفی کی دنیا

پسندیدہ مصنف:

ہر اچھا لکھنے والا۔


پسندیدہ شاعر:

اقبال اور غالب

پسندیدہ کھانا:

آلو گوبھی اور قیمہ، سفید چنے

پسندیدہ خوشبو:

جو پسند آ جائے۔

پسندیدہ رنگ:

سفید اور ہلکا پیلا

لکھنے کے علاؤہ دیگر کن مشاغل کو باقاعدگی سے وقت دیتی ہیں؟

ج: پڑھنا اور تحقیقی مواد پر مبنی وڈیو دیکھنا۔

س: اپنی کون سی خوبی بہت پسند ہے جس سے نقصان بھی اٹھانا پڑا ہو؟

ج: کسی کو نہ نہیں کرسکتی۔ درست کو درست کہنا چاہے وہ کسی کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو ۔ لگی لپٹی رکھنا مشکل ہے۔

س: اپنی کوئی ایسی خامی بتائیں جسے بدلنے کی بہت خواہش ہو؟

ج: لگی لپٹی نہیں رکھتی۔ بلکہ کوشش کرتی ہوں کر نہیں پاتی


س: دورہ حاضر میں کن مصنفین کو پڑھ کر ایسا لگا کہ انہوں نے قلم کا حق ادا کر دیا؟

ج: انیسہ سلیم، ثمرہ بخاری، علینہ عرفان اور نازیہ کامران کاشف


س: لکھنے کے لیے مطالعے کی کتنی اہمیت ہے؟

ج: بہت زیادہ ۔ یہ وہ پودا ہے جسے پانی پڑھنے سے ہی ملتا ہے۔


س: زندگی کا وہ یادگار لمحہ جو ناقابل یقین لگتا ہو؟

ج: بہت سے لمحات ہیں۔ اب کیا بتائیں۔

س:کوئی ایک خواہش بتائیے جس کے پورا ہونے کی حسرت ہے؟

ایک اچھی لکھاری بن جاؤں۔

س:زندگی کا کوئی ایک لمحہ جو دوبارہ سے جینے کی خواہش ہو؟

میں دوبارہ طالب علم بننا چاہتی ہوں۔ دوسرا میرا لکھنا سب سے زیادہ میرے والد کو خوشی دیتا تھا۔ خواہش پیداہوتی ہے وہ یہ سب دیکھ سکتے۔

قارئین آپ کی کتب ضرور پڑھنا چاہیں گے،سو قارئین کو بتائیے کہ وہ کس طرح آپ کی کتب آرڈر کر سکتے ہیں؟

علم وعرفان کے پاس چاروں کتب موجود ہیں۔

س: آخر میں اپنے پڑھنے والوں کو کوئی پیغام دینا چاہیں؟

ج: جہاں رہیں خوش رہیں۔زندگی تو نام ہی امتحان کا ہے۔

انعام توجنت میں ملے گا۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا


آپ سے مل کر ہمیں بھی بہت اچھا لگا ہے اور امید ہے ہمارے قارئین بھی اس انٹرویو سے بہت لطف اندوز ہوئے ہوں گے۔اب اگلے ماہ تک کے لیے اجازت چاہتے ہیں تاکہ پھر کسی مزیدار انٹرویو کے ساتھ حاضر ہو سکیں۔تب تک کے لیے اللہ حافظ












 









Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...