بس اک رات کی بات
سارہ عمر
وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھتی جا رہی تھی۔ہاتھ میں موم بتی پکڑے وہ ایک ایک سیڑھی پر پاؤں۔رکھ رہی تھی۔ فرش پر گرد کی تہہ جمی ہوئی تھی موم بتی کی لو ہولے ہولے ٹمٹما رہی تھی. وہ آگے بڑھتی جا رہی تھی جیسے کوئی انجانی طاقت اسے آگے کی جانب دھکیل رہی ہو. اس لمحے اسے فون کی گھنٹی بھی سنائی دی تھی. وہ اپنا فون کمرے میں بھول آئی تھی. اس کے موبائل کی مخصوص ٹون مسلسل بجے جارہی تھی جس کی آواز اس خاموشی میں بھی قدر دور تک سنائی دے رہی تھی. اس نے پیچھے مڑ کر جانا چاہا مگر اسے لگا کسی انجانی طاقت نے اسے پیچھے جانے سے روک دیا ہو. وہ پیچھے مڑ گئی تو پتھر کی بن جائے گی. اسے ایسے محسوس ہوا تھا کہ کسی نے اس کے کندھوں پر سرد ہاتھ رکھ دیا ہو. اسے اب کچھ خوف محسوس ہوا تھا. وہ واپس پلٹنے کا ارادہ کر چکی تھی. اس نے پاؤں پیچھے کی جانب بڑھایا جب ایک یخ بستہ ہوا کا جھونکا اس کی موم بتی کی لو بجھا گیا. وہ اب سیڑھیوں کے بیچوں بیچ اندھیرے میں کھڑی تھی. فون کی گھنٹی اب بھی مسلسل جاری تھی. اب اسے فیصلہ کرنا تھا اس آگے بڑھنا ہے یا پیچھے جانا ہے.
..............................................
” تو تمہیں لگتا ہے کہ نینسی جیتے گی ڈی کیو کا مقابلہ“
اس نے پین نیچے رکھا. وہ اب سنجیدہ تھی.
” آف کورس وہی جیتے گی تمہیں پتہ ہے اس نے کیا سیلکٹ کیا ہے؟“
اریب نے پریقین انداز میں کہا تو وہ بد مزہ ہوئی.
” واٹ ایور تمہیں تو اس کے علاوہ کوئی ڈیرنگ نہیں لگتا نا“ اس نے اپنی ہرنی جیسی آنکھیں اس پر جما کر کہا.
” نو ڈئیر تم بھی ہو مگر....“
وہ اس کا دل رکھ رہا تھا.
” تمہیں پتہ ہے میں نے کی سلیکٹ کیا ہے؟“
اس نے پراسرار انداز میں کہا تو اریب کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ گئی. اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا بولنے والی ہے لیکن اس کی بات نے اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑادیں تھیں.
..................................................
چاروں طرف اندھیرا تھا اور اس اندھیرے میں بس ایک جانب روشنی تھی جہاں درخت پہ ایک لاش لٹکی ہوئی تھی. اس کے جسم سے تازہ خون خشک گھاس پر گر رہا تھا. اس کے گرد سفید ہڈیوں والے ڈھانچے رقص کر رہے تھے. ہوا میں راخے راخے (انتقام انتقام) کی آوازیں گونج رہی تھیں.
..................................................
تو ہماری نانی نے بتایا تھا کہ اس بچے کو سچے خواب آتے تھے. پہلے سے بتا دیا کرتا تھا چیزیں اور کچھ غیر مرئی چیزیں بھی اس کو دکھائی دیتی تھیں.
نانی نے سوئیٹر بنتے بڑا ہی تجسس پھیلایا تھا. سب کی نظریں نانی پر تھیں مگر جیسی کو تو کون سمجھاتا. نانی بس بھی کریں آپ کی نانی بھی نا بس کہانیاں ہی سناتی ہوں گی آپ کی طرح. اتنے پرانے زمانے میں لوگوں کو کام کچھ نہیں ہوتا تھا نہ بیٹھ کر خیالی باتیں بناتے رہتے تھے. وہ کہاں سننے والی تھی.
”جاؤ میں نے نہیں سناتی“نانی نے ناراض ہو کر منہ پرے کر لیا تو چلغوزے کھاتی جیسی کو تو ذرا پروا نہ ہوئی. مگر اس کے دونوں چھوٹے بھائیوں نے منہ بنا لیا تھا.
” نانی نہ کریں یہ کیا بات ہوئی؟“
حالانکہ یہ کہانی کوئی دو ہزار دفعہ سنا چکی تھی مگر کیا ہے نہ کہ نانی کی زبانی سن کر ایسا لگتا کہ اصلی کردار آگے پیچھے پھر رہے ہیں جنہیں جیسی فورا چٹکی کاٹ لیتی اور وہ ناراض ہو کر کونوں کھدروں میں چھُپ جاتے.
”کہانی سنا دیں نا اسے چھوڑ دیں“
دونوں اب نانی کی منتیں کر رہے تھے. مگر وہ کب کم تھی اٹھ کر تو اس نے بھی نہیں جانا تھا.
”اب خبردار جو نانی کو ٹوکا ورنہ یہ چلغوزے چھین لیں گے“ فرحان کو یہی دھمکی بہتر لگی
”اچھا اب نھیں بولوں گی “وہ جان چرانے والے انداز میں بولی.
”اچھا سنو “نانی مان گئی تھیں. وہ کہانی دوبارہ سے سنانے لگیں.
..............................................................
شام کا وقت تھا سارے بچے اس وقت سڑک پر سائیکل چلا رہے تھے. یہ جرمنی کا ایک چھوٹا سا قصبہ تھا. جب وہ لڑکا بھاگتا ہوا اس کی سائیکل کے پاس آیا. اس کے آنے کا خوف اتنا زیادہ تھا کہ سائیکل چلاتا گوراچٹا لڑکا سائیکل سے ہی گر گیا. ویسے تو اس کے بارے میں بہت باتیں مشہور تھیں مگر اس کی سب سے خوفناک چیز اس کی ایک واحد آنکھ تھی. بچپن میں کوئی نوکیلی چیز اس کی دائیں آنکھ میں کھب گئی تھی. جس کی وجہ سے اس کی بینائی ضائع ہو گئی تھی. وہ تیزی سے اس کی جانب آیا اور ہاتھ بڑھا کر نیچے گرے ہوئے اس لڑکے کو اٹھایا.
”سنو یہاں سے سیدھے گھر جانا رکنا مت....“ اس نے سرگوشی کی مگر اس کی آواز میں ایک رعب اور دھمکی دی. وہ جرمن زبان میں بول کر گیا تھا حالانکہ وہ خود برطانیہ سے تھا اور تمام لوگوں میں یہ بات مشہور تھی کہ اسے جرمن نہیں آتی. وہ گوراچٹا جرمن لڑکا ،اس حرکت سے اتنا خوفزدہ ہوا تھا کہ سائیکل دوڑاتا گھر کی جانب نکل گیا تھا. وہ تیز تیز سائیکل کے پیڈل مار رہا تھا. اس کا جسم پسینہ میں بھیگ گیا تھا. اس کانے لڑکے کے خوف نے اسے اتنا ڈرا دیا تھا اسے اپنے گھر کے علاوہ کچھ نظر نہیں آرہا تھا. بس اگلی گلی میں ہی اس کا گھر تھا. اس نے سکھ کا سانس لیا لیکن ایک دم سے سائیکل کے نیچے پتھر آ گیا اور وہ لڑھک کر سڑک پر جا گرا. اس کی جانب دو ہاتھ بڑھے تھے. اس نے سر اٹھایا. انکل مائیکل نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ لیے دوکان کی طرف آگئے. ان کی چھوٹی سی ایک دکان تھی جسے وہ شام ڈھلے ہی بند کر دیتے تھے.
” مجھے گھر جانا ہے“
وہ جرمن لڑکا تھوک نگلتے بولا تھا. حالانکہ وہ جانتا تھا کہ مائیکل انکل جوکہ اکیلے رہتے ہیں اسے یقیناً ہمیشہ کی طرح ٹافیاں دیں گے. تمہارے سر سے خون بہہ رہا ہے تم اندر چلو میں تمہارے ساتھ ہی گھر جاؤں گا. سائیکل کی چین بھی ٹوٹ چکی ہے اس لیے زیادہ محنت کا فائدہ نہیں. وہ اسے ہاتھ پکڑ کر دکان کے اندر تک لائے تھے اور اس کا شٹر گرا دیا.
.........................................................
”جیسی کہہ دو یہ جھوٹ ہے.“ وہ دانت نکالنے لگا اسے سمجھ نہ آیا کہ کیا کہے.
”نہیں نہیں یہ سچ ہے بالکل سچ....“ وہ مسکرائی
”جیسی ڈئیر ایسا مذاق جن میں جان چلی جائے اچھے نہیں ہوتے...“ وہ واقعی ڈر گیا تھا تبھی اسے سمجھا رہا تھا
” ارے کس کی جان جا رہی ہے تمہاری؟“
اپنے بالوں کو جھٹکا دیتی بولی تھی.
”میں بہت بہادر ہو ایسی بات نہیں مگر..... “
”اچھا اس ویک پلان کریں؟“
”نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔جیسی میں نا اس ویک...... “
وہ تیزی سے بولا
”ہاں ہاں بولو اسائنمنٹ ہے... دوست ہیں... ڈنر ہے.. کوئی بھی بہانہ بنا دو مگر میں جارہی ہوں..... “
”جیسی میں تمہیں مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا پلیز ڈونٹ ڈو دس...“ وہ منت کر رہا تھا مگر جیسی بھی اپنے نام کی ایک تھی..
”چلو مر بھی گئی تو لاش اٹھانے تمہیں جانا پڑے گا“ وہ ہنس دی...
”یعنی یہ بولو تم مجھے بھی ساتھ ہی مرواو گی. چلا جاؤں گا مگر اندر نہیں جاؤں گا.“ وہ راضی ہوا
”ڈیٹس لائک اے گڈ بوائے. “
اور اریب کا آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر ہی روح کانپ گئی تھی.
.........................................................
وہ واپس کمرے میں آئی تھی اسے پتہ تھا کہ یہ کس کی کال ہوگی مگر موبائل اٹھاتے ہیں اسے حیرت کا جھٹکا لگا. موبائل پہ کسی کی کال نہیں تھی بلکہ سگنل ہی نہیں آرہے تھے.
ایسے کیسے؟؟؟
اس نے تو اپنی آواز میں گانے کی ٹون لگائی ہوئی تھی. کسی اور فون کے بجنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا. میرا خیال ہے مجھے سونا چاہیے. اس نے اپنا تکیہ اٹھا کر بستر جھاڑا تھا. یہ اس کی امی کی پختہ عادت تھی وہ ہمیشہ بستر جھاڑ کے سوتی تھیں. بستر جھاڑتے ہی ایک چھوٹا سا سانپ اچھل کر دور جا گرا رہا تھا اس نے اپنی چیخ حلق میں روکی. اسے پتہ تھا اس کے چیختے ہی کتنے لوگ جمع ہو جائیں گے. اس بھوت بنگلے میں کسی بھی چیز کا انتظام نہیں تھا اپنا بستر اور ضرورت کا کچھ سامان وہ اپنے ساتھ لائی تھی. وہ بستر پر لیٹی تھی کی تیز ٹھک کی آواز کے ساتھ وہ بڑا سا شیشہ کرچی کرچی ہو گیا. اس نے گردن موڑ کر، بائیں جانب دیکھا دیوار گیر شیشے میں لاکھوں دراڑیں پڑ چکی تھیں. اسے لگا ایک سایہ سا لہرایا ہے مگر اب کمرہ بے تحاشا دھند سے بھرنے لگا تھا. اس کے سامنے تمام منظر دھندلا گیا تھا. اس کا ذہن تاریکی میں ڈوبتا گیا.
........................................................
اس کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اس نے آس پاس نظر دوڑائیں لگ رہا تھا کوئی بہت پرانا بہت قدیم اسٹور روم جو کہ کاٹ کباڑ سے بھرا ہوا تھا. اس نے ہاتھ پاؤں مارے مگر وہ بہت مضبوطی سے بندھے ہوئے تھے. ایک دم اس کی نظر اس کے پاؤں کے قریب پڑی ایک سفید سی چیز پہ پڑی تھی. گول اور سفید جس میں تین گڈھے تھے. اس نے پاؤں مارا تو وہ پوری گھوم گئی. اس کا سانس بند ہوگیا تھا. وہ ایک کھوپڑی تھی سفید انسانی کھوپڑی.. اسے لگا کھوپڑی کی آنکھیں اسے ہی دیکھ رہی ہیں....
................................................................
نام تو اس کا یاسمین تھا اور وہ پیدا بھی جرمنی میں ہوئی تھی اس کے نانا نے پاکستان سے جرمنی آکر ایک جرمن عورت سے شادی کرلی تھی نانی کو انگریزی تو آتی ہی تھی مگر نانا کے ساتھ رہ کر اردو بھی سیکھ لی تھی. ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی. نانا کی وفات کے بعد دونوں بیٹے پاکستان چلے گئے تھے اور وہاں ہی شادی کر لی تھی لیکن بیٹی کی شادی انہوں نے ایک جرمن نژاد پاکستانی سے کی تھی. ثوبیہ کے تین بچے تھے یاسمین فرحان نعمان. یاسمین کو سارے ہی جیسمین کہتے تھے. جو آہستہ آہستہ جیسی کے نام سے مشہور ہو گئی. جیسی پکارنا زیادہ آسان تھا. وہ یونیورسٹی میں پڑھ رہی تھی. یوں تو اس کے بہت دوست تھے مگر اریب ہمیشہ سے ہی اس کا اچھا ساتھی رہا تھا. شاید باہر کے ملکوں میں ہم زبان ہونا ہی ایک بہت بڑی خاصیت ہے جو باقی ہر فرق مٹا دیتی ہے. وہ بھی پاکستانی تھا اور وہ ادھر پڑھنے کے لیے آیا تھا. یونیورسٹی میں اکثر مقابلے ہوتے رہتے تھے مگر ایک مقابلہ صرف خواتین کے لیے مخصوص تھا جو ہر سال منعقد کیا جاتا تھا.
ڈی کیو یعنی ڈیرنگ کوائن... جس کا مقصد کوئی ایسی لڑکی سلیکٹ کرنا تھا جو خطرات کا مقابلہ کرنا جانتی ہو اور بڑی سے بڑی مشکل حل کرسکتی ہو. ان کی یونیورسٹی میں یہ بات مشہور تھی کہ صنف نازک بہت بزدل اور کمزور ہوتی ہیں. اس خیال کو غلط ثابت کرنے کے لیے ہی یونیورسٹی نے اس مقابلے کا انعقاد کیا تھا. اس مقابلے کا مقصد صرف لڑکیوں سے بزدلی ختم کرنا تھا. ہر سال اس مقابلے میں حصہ لینے والی بتاتی تھی کہ وہ کیا کرنے والی ہیں جو کوئی دوسرا نہیں کر سکتا. کام ایسا ہونا چاہئے جو آپ خود مکمل کریں. کوئی دوسرا آپ کی مدد نہ کرے.. کسی نے پہاڑ پر چڑھنا سلیکٹ کیا تھا، کسی نے برف پہ سونا، کسی نے ایک رات سمندر میں رہنے کا عہد کیا البتہ نینسی نے ہزار فٹ کی اونچائی سے ہاتھ چھوڑ کر رسی پر چلنے کا ڈئیر چوز کیا تھا. اریب کو لگتا تھا وہ جیت جائے گی مگر جیسی کو برا لگا تھا. وہ ڈیرنگ تھی اور پھر اس نے اب تو اپنا ٹاسک بھی سلیکٹ کر لیا تھا. جسے سن کر اریب کو تارے نظر آگئے تھے. دو راتیں قصبے کے مشہور ہونٹڈ ہاؤس( بھوت بنگلے) میں گزارنا.
...................................................
اس کا حلیہ ایسا تھا کہ ہر کوئی اس سے دور بھاگتا تھا. اس کی وجہ شہرت اس کا ایک آنکھ سے کانا ہونا تھا. اس کی ماں نے کئی بار اس اسکول میں داخل کروایا تھا مگر ہر بار وہ نکالا جاتا. وجہ اس کا عجیب اور پراسرار رویہ تھا. اس کی آنکھ ضائع ہونے کی وجہ سے اکثر وہ اسے ایک کپڑے سے ڈھکے رکھتا مگر جب کوئی بچہ اسے تنگ کرتا تو وہ کپڑا ہٹا کر اسے ڈرا دیتا. لمبے لمبے بالوں والے اس خوفناک شکل کے لڑکے کا نام پیٹر تھا. جس کے دانت نوکیلے تھے اور چہرہ سیاہ. اسکول میں کئی بار اسے دورے پڑنے لگتے تھے. اس کا جسم ہلتا اور ایک دم بے ہوش ہوجاتا. اسے سچے خواب آتے تھے. پہلے ہی بچے اس سے ڈرتے تھے مگر اس حقیقت کے بعد وہ انہیں کوئی خلائی مخلوق لگنے لگا تھا.
ایک بار اس نے جم کا ہاتھ تھام کر کہا کہ اپنے باپ کا ساتھ مت دینا. جم بہت حیران ہوا تھا بھلا یہ کیسی بات کی ہے۔
اسی رات اس کے باپ نے اس کی ماں کو طلاق دے دی تھی. وہ دونوں اس سے پوچھ رہے تھے کہ وہ کس کے ساتھ جائے گا؟؟ تو اسے پیٹر کی بات یاد آئی. وہ ماں کی ٹانگوں سے لپٹ گیا. جبکہ دوسرا بھائی باپ کے ساتھ چلا گیا تھا. اگلے دن ریل کی پٹری سے اس کے باپ اور بھائی کی مسخ شدہ لاش ملی تھی. جم نے سب کو یہ بات بتا دی تھی. جم کو اس بات کا دکھ تھا کہ اس کے باپ نے اس کے معصوم بھائی کو بھی موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا. اگر پیٹر اسے خبردار کرتا تو شاید وہ اسے بھی بچا لیتا. مگر جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے.
ایک بار پیٹر بھاگتا ہوا تھا اور ٹیچر کا ہاتھ پکڑ کر اتنے زور سے اپنی جانب کھینچا کہ وہ کتنے فٹ دور جا گرے. ٹیچر نے اٹھ کر اسے تھپڑ مارنے کے لئے ہاتھ اٹھایا ہی تھا کہ چھت پر موجود پنکھا دھڑام سے نیچے گر گیا. یہ اس جگہ گرا تھا جہاں ٹیچر کھڑے پڑھا رہے تھے. اس واقعے سے پہلے کئی والدین نے پیٹر کو اسکول سے نکالنے کی شکایت کی تھی. مگر اس واقعے نے اچانک لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے ہمدردی پیدا کردی تھی. اگر وہ بدصورت اور کانا تھا تو اس میں اس کا کیا قصور تھا؟؟
اس کے خواب نے استاد کی جان بچا لی تھی. ٹیچر نے کانپتے ہوئے اس پنکھے کو دیکھا جو اب بڑی سی میز کے اندر دھنس گیا تھا. انہوں نے شرمندگی سے پیٹر کو گلے لگا لیا تھا.
..................................
تم سب بہادر ہو....
تم سب بدلہ لو گے......
اپنا بدلہ...
تمہارا قاتل زندہ ہے......
تم بدلہ لو گے......
بولو بولو ہم ایک ہیں.....
کانی آنکھ والے بدصورت شکل کے لڑکے نے فضا میں ہاتھ پھیلا کر ان سب کو ہدایت کی تھی. اس کی آواز میں حکم تھا رعب تھا. ٹوٹے سر ٹوٹے ہاتھ ٹوٹے پاؤں والے کئی ڈھانچے فضا میں حرکت کرنے لگے تھے.
ہم ایک ہیں......
ہم بدلہ لیں گے....
وہ جرمن زبان میں یک زبان ہو کے بول رہے تھے.
پھر وہ سب ہنسنے لگے اور ان کے قہقہوں کی آوازیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں.
................................
”جیسی تم یہ مت کرو چھوڑ دو اس کی جان. تمہیں پتا ہے انکل آنٹی مجھ سے ناراض ہو جائیں گے“
اریب اس کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا.
”چلو بھی تم میرے ممی ڈیڈی کی فکر نہ کرو پہلے مجھ سے ناراض ہوں گے پھر تم سے“
وہ باہر آئی گاڑی میں جینیفر، ٹام اور اسٹیفن اس کا انتظار کر رہے تھے. وہ سارے اس کے کلاس فیلو تھے اور اس کے اس ایڈونچر میں بہت پرجوش تھے. وہ سب مل کر اس قصبے میں جارہے تھے جہاں وہ بھوت بنگلہ موجود تھا. ان کی یونیورسٹی سے اس کا فاصلہ تقریبا چھ سات گھنٹے تھا. کئی سو سال پرانا بھوت بنگلہ جس میں سے تقریبا دس لوگوں کی نعشیں نکل چکی تھی. وہ اب بھی اتنا ہی خوفناک تھا کہ کوئی اس کے پاس نہ جاتا. مگر جیسی تو نانی کی کہانیاں سن سن کر سرپھری ہوچکی تھی. وہ ثابت کرنا چاہتی تھی کہ نانی کی نانی نے فضول کہانیاں سن رکھی ہیں نہ تو کوئی ادھر مرا تھا اور نہ ہی کوئی بھوت ادھر تھے. وہ گھر پہ بتا چکے تھے کہ وہ چار دن کے لئے پکنک کے لئے جا رہے ہیں. جرمنی میں ہی رہنے کی وجہ سے اس کے ماں باپ دونوں ہی بہت آزاد خیال تھے. لڑکوں سے دوستی اور پڑھائی عام سی بات تھی البتہ اریب سے دوستی کی وجہ سے وہ ہمیشہ ہی اس کو چھوٹ دیتے تھے. وہ نہ صرف اس کا ہم وطن ہم زبان تھا بلکہ وہ ایک باڈی گارڈ کی طرح اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے. اس کی ممی ڈیڈی اس سے رابطے میں رہتے تھے وہ جانتے تھے یہ شریف بچہ ان کی بیٹی کا ہر جگہ ساتھ دے گا. وہ اسے مستقبل میں بھی اپنے داماد کی حیثیت سے دیکھتے تھے اور دونوں خاندانوں کے بیچ رسمی بات چیت بھی ہوچکی تھی. مگر اب یہ شریف بچہ ان کی بیٹی کی انوکھی فرمائش میں پھنس کر رہ گیا تھا. اگر اس کا ساتھ نہ دیتا تو اس نے منگنی توڑنے( جو ابھی تک ہوئی ہی نہیں تھی) کی دھمکی دے دی تھی اور اگر ساتھ دیتا تو پوری دو راتیں اس بنگلے کے آگے گزارنی تھی جہاں اس کے تینوں دوست کیمرہ لے کر سیٹ اپ کر رہے تھے. ادھر کنواں ادھر کھائی. تو اس نے کنویں میں چھلانگ مار دی تھی جیسی کے ساتھ مرتا تو کم ازکم اس کے گھر والے اسے بزدل نہ سمجھتے کیونکہ جیسی نے تو ٹھان لی تھی. سو اسے پورا کرنا ہی تھا.
...........................................
کمرے سے دھند چھٹی تو دن کی ہلکی سی روشنی نظر آرہی تھی. کیا صبح ہوگئی؟؟؟
اسے حیرت ہوئی. سر بوجھل تھا. بھاری بھاری آنکھیں. رات کٹ گئی اسے سمجھ ہی نہ آئی. اس نے سر اٹھا کر آس پاس دیکھا. اسے اوپر کی جانب سے کچھ آوازیں آرہی تھیں. وہ کل رات ہی تو ادھر آئی تھی. تبھی وہ اس آواز کے پیچھے سیڑھیوں سے اوپر جانے لگی تھی. اسے سب آہستہ آہستہ یاد آ رہا تھا اس نے اپنے بیگ گھسیٹا اور پانی کی بوتل نکال کر منہ ہاتھ دھوئے. اب وہ بسکٹ نکال کر کھانے لگی تھی. اس کی نظر شیشے میں پڑھی جو کل لاکھوں کرچیوں میں تقسیم ہو چکا تھا مگر اب اس کی جگہ ایک سادہ شیشہ تھا. جس پر جابجا تصویریں لگی ہوئی تھی بچوں کی تصویریں. وہ اٹھ کر قریب آئی. شیشے پر بڑا بڑا خون سے rāche لکھا ہوا تھا یعنی انتقام. ساتھ ہی بہت سے بچوں کی تصویریں تھیں کوئی کھیلتا ہوا بچہ، کوئی پارک میں، کوئی سکول میں، کوئی اپنے باپ کے ساتھ، یہ سب بلیک ان وائیٹ تصویریں تھیں،. اس نے قریب جا کر دیکھا. 1854 کسی تصویر پر اسے سن بھی لکھا دکھائی دیا تھا. اس وقت کی تصویر یہاں اس اس وقت میں. کیا نانی واقعی ٹھیک کہہ رہی تھیں.؟
اس نے ایک نظر اپنے گھڑی پر ڈالی اس کی گھڑی کا وقت رکا ہوا تھا.شاید سیل ختم ہوگئے تھے. اس پر ساڑھے آٹھ بج رہے تھے یعنی جب وہ رات اس گھر میں داخل ہوئی تھی. رات کے ساڑھے آٹھ بجے. اس نے بستر پر سے اپنا موبائل اٹھایا سگنل اب بھی موجود نہ تھے. اس نے کھڑکی کی جانب نظر اٹھائیں. ایک چھوٹا سا ڈروان کیمرہ کھڑکی پر موجود تھا. اس نے مسکرا کر ہاتھ لایا. اریب کے علاوہ سب نے رات اس کے ساتھ رہنے کی آفر کی تھی مگر وہ بضد تھی کے نہیں بس میں اکیلے ہی کروں گی تبھی وہ اپنا ڈرون کیمرہ ساتھ لے آئے تھے تاکہ اندر کے حالات کا پتہ چلا سکے اور اگر اسے کوئی مسئلہ ہو تو کسی بھی مشکل میں وہ سب باہر اس کی مدد کو تیار بیٹھے تھے. اس دو منزلہ بھوت بنگلے کے باہر کیمرہ سیٹ کر کے وہ کیمپ لگائے موجود تھے. جیسی کیمرے میں ویڈیو بنوا کر اندر چلی گئی تھی تاکہ ڈی کیو کےمقابلے میں ثبوت کے طور پر یہ ویڈیو پیش کی جاسکے اور باقی وہ ڈرون کیمرے کے ذریعے ریکارڈ کر رہے تھے. اس نے موبائل پر ٹارچ جلائی اب دوبارہ سے سیڑھیوں کی جانب بڑھنے لگی تھی آگے سب اندھیرا تھا. بس سیڑھیوں کے اوپر ایک بلب جل رہا تھا جو جل بجھ جل بجھ کر رہا تھا. اسے کس نے جلایا تھا اور کب؟
اس بھوت بنگلے میں تو بجلی ہی نہیں وہ مزید الجھ گئی تھی لیکن پھر بھی وہ خاموشی سے سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی.
..................................................................
اس نے اپنے کالے بدصورت ہاتھ سے دروازے کو کھولا تو چرچراہت کے ساتھ وہ کھلتا چلا گیا. ویران سنسان لان میں ایک جھولا لگا ہوا تھا جو اس کے اندر داخل ہوتے ہی ہلنے لگا جیسے اس کے اوپر کوئی بیٹھا ہوا ہے. وہ جانتا تھا وہ کہاں ہے. وہ جانتا تھا وہ نہیں بچے گا. وہ جانتا تھا وہ جان کی بازی کھیل رہا ہے. پھر بھی اسے اپنے بعد آنے والوں کو بچانا تھا. اسے قربانی دینی ہی تھی ورنہ اس کی زندگی کا کیا فائدہ؟
وہ چپ چاپ آگے بڑھتا گیا اسے لگا کئی چھوٹے چھوٹے ٹھنڈے ٹھنڈے ہاتھ اس کا راستہ روک رہے ہیں.مگر وہ نہیں رکا. کیوں رکتا. کب تک انکل مائیکل یہ کھیل کھیلیں گے؟ کب تک ان کا کاروبار چلے گا آخر کب تک؟؟ اس نے ہاتھ میں بڑا سا لوہے کاسریہ اٹھایا ہوا تھا. وہ سیڑھیاں چڑھتا گیا. دروازہ کھولتے ہی کئی چیخیں سنائی دیں تھیں. وہ دو بچوں کی تھیں جن پر تین تین مرد چمٹے ہوئے تھے وہ تیزی سے آگے بڑھا. اس نے لوہے کاسریہ گھوما کر ان مردوں کو مارا تھا. مگر باقی کے تین مردوں نے آ کر اسے پیچھے سے پکڑ لیا. وہ تو اکیلا ہی اس آگ میں کود گیا تھا. ایک نے سریا ہاتھ سے چھین لیا تھا. دوسرے نے اسے پکڑا جب کہ تیسرا اور چوتھا اسے رسیوں سے باندھنے لگے..
”بےوقوف.... “
پانچویں شخص نے سر سہلاتے اس کے منہ پر تھوکا. ”یہ خود ہی ادھر آگیا“.وہ سب ہنسے تھے. زخمی بچوں نے ایک نظر اسے دیکھا تھا وہ گورا چٹا سائیکل والا لڑکا جوزف اسے دیکھ کر دکھی ہوا تھا. وہ جانتا تھا پیٹر اسے بچانے آیا ہے۔اسے بچانے کے لیے اور اپنی جان گنوانے کے لیے۔ بدصورت کانی آنکھ والا پیٹر واقعی بہت عظیم تھا کاش کوئی جان سکتا.
.......................................
وہ اوپر سیڑھیاں چڑھتی گئی تھی. سامنے دروازہ تھا اس نے آہستہ سے دروازے کے بوسیدہ ہینڈل پر ہاتھ رکھا. دروازے کے کنارے سے خون ٹپک رہا تھا تازہ خون. اس نے نظر گھما کر دیکھا تھا ڈرون کیمرہ ابھی بھی سامنے والی کھڑکی پر موجود تھا.
”اس لڑکی کو چین نہیں ہے مرے گی اور ہمیں بھی مروائے گی. “
اریب نے کیمرے میں دیکھ کر اپنا سر پیٹ لیا تھا. رات بھی وہ تجسس کے مارے اس طرف آ گئی تھی. مگر واپس پلٹ آئی تھی آج صبح ہوتے ہی پھر چل نکلی تھی یہ دور ہے کیمرہ پیچھے لے کے جاؤ دیکھو اس کمرے میں کھڑکی ہے کہ نہیں.؟ جس طرف وہ گئی ہے.
وہ اسٹیفن کو ہدایات دے رہا تھا جو ڈرون اڑا رہا تھا. دروازہ کھلتا گیا تھا ایک ناگوار بو کا بھبکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا. اس نے شرٹ کے اوپر پہنا مفلر اٹھا کر ناک پر رکھ لیا. شدید گندی بدبو اٹھ رہی تھی. وہ جانتی تھی یہ بدبو کیسی ہے. سڑے ہوئے خون کی بو.
یہ کمرہ ایک اسٹور روم کی طرح تھا. کاٹھ کباڑ سے بھرا ہوا کمرہ. کمرے میں جا بجا خون کے دھبے تھے ٹوٹی پھوٹی ہڈیاں تھیں. ایک دم آندھی اٹھی تھی اس کی آنکھوں میں ریت چلی گئی تھی. اس نے ہاتھ آنکھوں پہ رکھ لیے. آنکھیں ملتے ملتے اس نے کھولیں تو دل کی دھڑکن رک گئی.
اسے لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے. اس کا رنگ فق ہوا تھا. رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے. ٹھنڈے پسینے بہہ نکلے تھے.
اس کے سامنے سے ڈھانچے چلے آرہے تھے دس بارہ ڈھانچے جس میں سے سب سے آگے والے کے ایک آنکھ پر پٹی بندھی تھی. کالی پٹی یعنی وہ ایک آنکھ سے کانا تھا. اب اس کی بہادری دم توڑ چکی تھی وہ چیخ مارتی دوڑتی ہوئی نیچے اتری. اس کی فلک شگاف چیخیں سن کر وہ چاروں تیزی سے باہر کا دروازہ عبورکرگئے. وہ چیختی ہوئی اریب سے ٹکرائی اور اس کے ہاتھوں میں بے ہوش ہوگئی..
.......................................
اس کی آنکھ کھولی تو وہ ہسپتال کے بیڈ پر تھی.
کیسی ہیں مس ڈی کیو؟ اریب نے سڑ کر کہا تھا. جبکہ ممی ڈیڈی اس کی طرف بھاگے تھے. وہ اریب کی بہت کلاس لے چکے تھے کہ وہ انہیں بتایا کیوں نہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے تبھی اریب کا موڈ آف تھا سب کچھ ذہن میں آنے لگا تھا آہستہ آہستہ.
بہت شوق تھا نا بہادری کا مبارک ہو تمھاری بہادری کے قصے سن کر یونیورسٹی کی لڑکیوں نے متفقہ طور پر تمہیں ڈی کیو بنانے کا فیصلہ سنا دیا ہے. تمہیں تو ہسپتال میں ہی اے ڈی کیو کا ایوارڈ مل گیا. اریب کا لہجہ اب بھی جلا کٹا تھا.
”سچی مجھے تو یقین نہیں آرہا. میں نے تو ڈئیر بھی پورا نہیں کیا. “
”شرم تو نہیں آتی نہ اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میرا کیا ہوتا؟ “
”کیا ہوتا؟ مجھ سے زیادہ اچھی لڑکی مل جاتی. “وہ کھلکھلا کر ہنسی.
”شادی کے بعد تمہیں ایسی حرکتیں نہیں کرنے دوں گا. “
اس نے تو دھونس جمائی.
”شادی... شادی کون کر رہا ہے تم سے؟“وہ مزے سے بولی اور اریب کا دل چاہا اپنا سر پیٹ لے.
......................................... .
انکل مائیکل کی ایک چھوٹی سی دکان تھی لیکن اصل میں ان کا کاروبار کچھ اور تھا. بچوں کے اعضاء نکال کر بیچنے کا. کتنے بچے ٹافیوں کے لالچ میں ان کے پاس آ جاتے تھے. جنھیں وہ اغوا کر کے اس پرانے بھوت بنگلے میں لے آتے. جسے ان کے ساتھیوں نے بھیانک مشہور کر رکھا تھا وہ عرصہ دراز سے خالی پڑا ایک مکان تھا. وہ بچوں کو ادھر لے کر آتے کیونکہ کوئی ادھر کا رخ نہ کرتا. رات میں جب معصوم بچوں کی چیخیں سنائی دیتیں تو لوگوں کا یقین پختہ ہوتا گیا کہ یہ آسیبی ہے. وہ لوگ ان سے جانوروں اور وحشیوں والا سلوک کرتے. ان کے جسم کے حصے کاٹتے. دوسرے شہروں سے بھی بچے ادھر لا کر زیادتی کا نشانہ بنائے جاتے تھے اور پھر ان کے اعضا مہنگے داموں فروخت کیے جاتے. وہ دس بارہ لوگوں کا گینگ تھا. پیٹر کو یہ بات کئی عرصے سے خوابوں میں دکھائی دے رہی تھی. اس گورے چٹے بچے جس کا نام جوزف تھا کے اغوا کے بعد وہ خود ہی بچانے آگیا تھا. حالانکہ وہ جانتا تھا کہ واپس زندہ واپس نہیں جائے گا. ان لوگوں نے اسے بھی زیادتی کے بعد قتل کردیا تھا اور باقی لوگ بچوں کی طرح اس کی لاش بھی گلنے سڑنے کے لیے اسی سٹور روم میں ڈال دی تھی.
جوزف کو جب اسٹور روم میں ڈالاگیا تو تب بھی اسے ادھر کھوپڑی دکھائی دی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہوگیا تھا. لیکن تمام بچوں کو مار کر اسی کمرے میں ڈال دیا جاتا. پیٹر کے مرتے ہی اس کی روح نے سب روحوں کو اکھٹا کر لیا تھا. نا جانے اس کے پاس کیسی غیر معمولی طاقتیں تھیں کہ وہ مر کر بھی امر ہوگیا تھا. اس نے سب ڈھانچوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے قتل کا بدلہ لیں اور وہ تمام لوگ جو اس جرم میں شریک ہیں انہیں کیفر کردار تک پہنچائے. وہ تمام بچوں کے ڈھانچے ایک ایک کرکے اس گینگ کے لوگوں کو ختم کرنے لگے .تبھی ایک کے بعد ایک دس لوگوں کی لاشیں مختلف اوقات میں اس گھر کے لان کے درختوں پر لٹکتی پائی گئی تھیں. لوگوں نے ادھر کا رخ کرنا بالکل چھوڑ دیا تھا. مگر جیسی کو تو بس اپنی بہادری ثابت کرنی تھی مگر اس کا ایک فائدہ ہوا تھا پولیس اور میڈیا کی ٹیم نے کئی سو سال بعد اس بھوت بنگلے میں قدم رکھا تھا. جہاں جانے کی کسی میں جرات نہیں کی. اس گھر سے بچوں کی ہڈیاں جمع کرکے انہیں باقاعدہ ان کی مذہبی رسومات کے بعد دفن کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس گھر کو سیل کر دیا گیا تھا.
.............................................
ہال تالیوں سے گونج اٹھا تھا. کئی کیمرے کے فلیش اس پر پڑے.
ڈی کیو کا ایوارڈ تو اسے ملا ہی تھا لیکن اس کے بھوت بنگے میں قیام کی خبر خبروں کی زینت بن گئی تھی. ایوارڈ وصول کرتے وہ سب کو دیکھ کر مسکرائی. جب ایک کونے سے ایک بچہ جس کی ایک آنکھ پر پٹی بندھی تھی اور بھیانک نوکیلے دانت نکالے اسے ہاتھ ہلانے لگا. ایک لمحے کے لیے اس کا رنگ فق ہوا تھا. وہ مسکرا رہا تھا جیسی نے دوبارہ جب اس جانب دیکھا تو وہ کہیں نہیں تھا.
مگر ہاں وہ تھا. وہ بھی بہادر تھا. نڈر تھا.
ایک بار اس نے ہمت کی تھی اس بھوت بنگلے میں جانےکی اور ایک بار جیسی نے ہمت کی تھی اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر اس بھوت بنگلے میں جانے کی.
برسوں سے پھیلی ادھوری کہانی مکمل ہوگئی تھی. وہ بچہ جو اس گھر میں جانے کے بعد کبھی نہیں دکھا تھا. اور لوگ نہیں جانتے تھے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا. آج سالوں بعد اخباروں نے اس کی شہہ سرخیاں چھاپی تھیں.
...........................................
” جیسی دیکھو تمہارا پارسل آیا ہے.
اس کی امی نے ایک ڈبہ تھمایا تھا. وہ ابھی یونیورسٹی سے آئی تھی. کون دے کر گیا ہے؟ “وہ حیران ہوئی.
” پتہ نہیں... دروازے پر رکھا تھا اور تمھارا نام لکھا ہے. “سرخ رنگ کے ڈبے پر کالے رنگ کا ربن لگا ہوا تھا. جس پہ ایک کاغذ پہ جیسی کے نام کے ساتھ. vielen dank لکھا ہوا تھا یعنی بہت بہت شکریہ.
جیسی نے جیسے ہی وہ ڈبے کھولا اندر وہی تصویریں تھیں جو اس دن اس نے شیشے پہ لگی دیکھی تھیں. ان بچوں کی تصویریں.
پولیس نے جب بھوت بنگلے کی تلاشی لی تھی اس وقت تلاشی میں یہ تصویریں نہ مل سکی تھیں اور ان تصویروں کے اوپر ایک کالا کپڑا تھا اس نے وہ اٹھا کر دیکھا اس کپڑے کے ساتھ ڈوری بندھی تھی. اسے یاد آیا اس نے یہ کپڑا ڈھانچے کی آنکھ پر لگا دیکھا ہے جو ان سب میں سب سے آگے تھا.
اور وہ ڈھانچہ پیٹر کا تھا. کانا ڈھانچہ.
جیسی نے وہ تصویریں پولیس کے حوالے کردیں تھیں تاکہ وہ اسے اس کیس کے ریکارڈ میں استعمال کر سکیں۔ لیکن وہ کپڑا آج بھی اس کے پاس ہے. جیسی کو بھی کبھی کبھی خوابوں میں کچھ حقیقی چیزیں دکھائی دیتی ہیں اور بعض اوقات وہ لڑکا بھی لیکن اب جیسی کو نانی کی کہانیاں جھوٹ نہیں لگتیں وہ اب ان کی کہانیاں بہت شوق سے سنتی ہے بغیر انہیں ٹوکے۔







Comments
Post a Comment