Skip to main content

ٹنکو بندر

 ٹنکو بندر

بچوں کی دنیا

شمارہ جون 2023



شہر سے کوسوں دور جنگل ہمیشہ سے خوب ہرا بھرا تھا۔جنگل کے ان ہرے بھرے درختوں کے بیچ جہاں کئی طرح کی مخلوق آباد تھی وہیں جانوروں ،پرندوں اور حشرات کے ساتھ ساتھ بندوں کی بھی پوری برادری رہائش پذیر تھی۔پورا دن ایک درخت سے دوسرے درخت پہ جھولنے،کیلے کھانے اور دوسرے جانوروں کی نقلیں اتارنے کے لگتا تھا بندروں کو کوئی کام نہ تھا۔

ان بندروں کی برادری میں کمسن بندروں میں ایک ٹنکو بندر بھی تھا۔جو جب تک ننھا سا تھا بہت معصوم تھا مگر جیسے جیسے وہ کچھ بڑا ہوا اس نے شرارتیں کر کر کے اپنے امی ابو کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔سارا دن تو شرارتی بندروں کے ٹولے کے ساتھ درختوں پہ اچھلتا کودتا رہتا۔اس کے والدین سمجھتے کہ باقی چھوٹے بندروں کی طرح وہ بھی ضعیف بندر کی مجلس میں جایا کرے۔ضعیف بندر ان کی برادری کے بزرگ بندر تھے جو سب بندروں کی برادری کو سیکھاتے کہ خوراک کی تلاش کیسے کرنی ہے۔جنگل میں رہن سہن کیسا رکھا جائے اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے تجربات بھی سب کو بتاتے اور گھر بنانے اور اس کا انتظام چلانے کے طریقے بھی بتاتے۔۔۔اس کے والدین بھی کئی بندروں کے ساتھ وہاں جاتے رہتے تاکہ وہ کچھ سیکھ سکیں اور آگے اپنی نسل کی تربیت کر سکیں مگر ٹنکو بندر کو تو شرارتی بندروں کے ساتھ اچھلنے،کودنے ،گھومنے،شور مچانے اور شرارتیں کرنے میں مزہ آتا تھا۔

اب تو وہ کئی جانوروں کے گھروں میں گھس کر من پسند چیزیں بھی اٹھا لاتا۔ایک بار بی بطحو کے گھر سے لپ اسٹک چرا لایا اور سب منہ پہ ملنے کے ساتھ بستر اور دیواروں پہ بھی مل دی۔یہ لپ اسٹک بی بطحو کو ان کی شہری دوست نے دی تھی سو جب انہیں پتہ چلا کہ ٹنکو نے لپ اسٹک سے گھر کی دیواریں گندی کی ہیں تو وہ فوراً ٹنکو کے گھر پہنچیں اور خوب واویلا کیا۔ٹنکو کے ابو نے وعدہ کیا کہ اب جو جانور شہر سے آیا اس کے ہاتھ لپ اسٹک منگوا دیں گے تب کہیں جا کر وہ خاموش ہوئیں۔

پھر کچھ دن خاموشی سے گزرے تھے کہ بھورے بھالو کے گھر سے تکیہ چرا لایا جو سفید کبوتر کے پروں سے بنا تھا۔وہ تو جب ٹنکو کے گھر کے باہر کبوتر کے اتنے سارے پر پڑے دیکھے تو سب بندر گھبرا گئے کہ کسی نے کبوتر مار کر کھائے ہیں کہیں بندروں کو نہ کھا جائے مگر ضعیف بندر کا ایک شاگرد بولا کہ اگر کبوتر مار کر کھائے ہوتے تو خون بھی ساتھ ضرور ہوتا یہ کچھ اور ہے۔۔۔۔اور وہی ہوا جیسے ہی بھورے بھالو نے شور مچایا کہ میرا کبوتر کے پر والا تکیہ چوری ہوا ہے تو کالی مینا فورا انہیں ٹنکو کے گھر کے باہر پڑے پروں کا بتا گئی۔

بس پھر کیا تھا بھورے بھالو نے ٹنکو کے گھر کے نیچے کھڑے ہو کر وہ دھاڑ مچائی کہ بندروں نے ڈر کر کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔بھورے بھالو کو بھی یہ تکیہ اس کے بہت پرانے دوست نے تحفہ دیا تھا جو کسی دوسرے شہر سے آیا تھا۔بھورے بھالو کو تو اس تکیہ کے بغیر نیند تک نہ آتی تھی۔اب بھالو کا شور سن کر پھر ٹنکو کے امی ابو معافیاں مانگتے رہے۔بھورے بھالو نے تو بہت کہا کہ ٹنکو کو باہر نکالیں تاکہ بھورے بھالو صاحب اس کی خوب پٹائی لگائیں۔مگر امی ابو کو پتہ تھا ٹنکو نے بھالو کا ایک تھپڑ کھا کر دور جا گرنا ہے سو بھالو اس کا قیمہ بنا کر ہی چھوڑے گا۔وہ دونوں اسے کمرے میں بند کر کے آئے تھے۔پھر ٹنکو کی امی جو کافی دن سے گھر سے کبوتر کے پر سمیٹ رہی تھیں فوراً درزن چڑیا سے سوئی دھاگہ لائیں اور اس غلاف میں سارے پر ٹھونس کر تکیے کو سی کر بھورے بھالو کے حوالے کیا۔

پھر بھی گھر جاتے جاتے بھورے بھالو نے دھمکی دی تھی کہ آئندہ ٹنکو ان کے گھر میں آیا تو اس کی ٹانگیں توڑ کر سامنے والے درخت پہ ٹانگ دیں گے۔۔۔

ٹنکو کے یہ آئے دن کے کارنامے تھے۔

امی ابو سمجھاتے تو چند دن وہ ٹھیک رہتا پھر دوبارہ وہی حرکتیں شروع ہو جاتیں۔

اس بار تو الگ ہی کہانی ہوئی۔

بندر کی نانی اماں ان کے گھر آئیں تو اپنے ساتھ شہر سے ٹافیاں لیتی آئی تھیں۔ٹنکو رنگ برنگی ٹافیاں لے کر بہت خوش تھا۔انہوں نے ٹافیاں تو دے دیں مگر ساتھ ہدایت بھی کی تھی کہ یہ پتھر کی طرح سخت ہیں انہیں چوس کر کھانا کہیں دانت خراب نہ ہو جائیں مگر ٹنکو ٹافیاں لے کر اچھلتا کودتا سنی ان سنی کر کے نکل گیا۔

نانی کے خود تو دانت تھے نہیں سو وہ ٹافیاں چوس کے کھاتی ہوں گی۔۔میرے تو دانت ہیں میں کیوں چوسوں یہ سوچ کر ٹنکو نے خوب کٹر کٹر کر کر کے ٹافیاں کھائیں۔دانت میں درد ہوا مگر وہ پھر بھی کھاتا رہا اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

رات ہوتے ہی دانت میں شدید درد اٹھا تھا کہ ٹنکو چلایا

”ہائے!میرا دانت“

وہ اتنا رو رہا تھا کہ امی ابو پریشان ہو گئے۔اس نے برش بھی نہیں کیا تھا سو ٹافی دانتوں میں چپک گئی تھی۔

برش کر کے اور درد کی دوائی کھا کر وہ سو گیا لیکن درد ختم نہیں ہو رہا تھا۔

صبح ہوتے ہی ٹنکو کے امی ابو اسے ڈاکٹر سارس کے پاس لے کر گئے تھے جو دانتوں کا علاج کرتے تھے۔ان کے کلینک پہ بس کچھ ہی مریض بیٹھے تھے۔سارس انکل نے اپنی لمبی چونچ اس کے منہ میں ڈال کر سارے دانت چیک کیے تھے۔کئی دانتوں پہ ٹافی چپکی ہوئی تھی البتہ ایک دارڈھ آدھی ٹوٹ گئی تھی اور بہت ہل رہی تھی۔

”یہ دارڈھ تو نکالنی پڑے گی ورنہ یہ کسی وقت بھی ٹوٹ کر پیٹ میں جا سکتی ہے اور یہی دارڈھ ہے جو درد کر رہی ہے“

ڈاکٹر سارس کی بات سن کر ٹنکو زور زور سے رونے لگا مگر کیا کرتے علاج ضروری تھا اسے ایسے بھی نہ چھوڑ سکتے تھے۔یہ تو بہت خطرناک ہوتا سو سارس انکل نے بڑا سا ٹیکا سن کرنے کے لیے دانتوں میں لگایا۔ٹنکو نے خوب ہاتھ پاؤں مارے اور کرسی پہ اچھلا مگر امی ابو اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر بیٹھے رہے۔

اب اسے لگ رہا تھا آج سب شرارتوں کی سزا ملے گی۔پھر سارس نے خراب دارڈھ نکال کر بہتے خون کے اوپر روئی رکھ دی تھی۔ٹنکو سن منہ لے کر ہونٹ دبائے بیٹھا رہا۔اب تو منہ پھاڑ کر رو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ منہ ہی سن ہو گیا تھا۔

ڈاکٹر سارس نے کچھ دن بعد دوبارہ چیک اپ کے لیے بلایا تھا کیونکہ باقی دانتوں کی صفائی تو کر دی تھی۔

اب گھر میں کچھ دن احتیاط احتیاط سے کھاتے اور ہلکی پھلکی غذا لیتے اسے دانتوں کی قدر تو محسوس ہوئی ساتھ امی ابو کا بھی احساس ہوا تھا کہ وہ انہیں کتنا تنگ کرتا ہے اور ہر وقت اپنے امی ابو کو پریشان کرنے کے طریقے ڈھونڈتا رہتا ہے۔حالانکہ امی ابو پھر بھی اس کا خیال رکھتے ہیں اور امی تو اسے بستر سے اٹھنے بھی نہیں دے رہی تھیں اور کھانے پینے کے ساتھ دوائی کا بھی خیال رکھ رہی تھیں۔

ٹنکو نے ٹھیک ہوتے ہی سب سے پہلے اپنے امی ابو سے معافی مانگی تھی اور اب اپنے امی ابو کے ساتھ ضعیف بندر کی مجلس میں بھی جانا شروع کر دیا تھا۔

سنا ہے اب بھی سارے چھوٹے بندر ٹنکو بندر کا دارڈھ دیکھنے آتے ہیں جو سارس نے نکالا تھا کیونکہ اب اس کی جگہ دارڈھ نہیں خالی گڑھا ہے۔اب ٹنکو بھی اکثر بندروں کو رات کو برش کر کے سونے اور ہمیشہ امی ابو اور بڑوں بزرگوں کی بات ماننے کا درس دیتا ہے۔

پیارے بچوں اگر آپ بھی ٹنکو کی طرح شرارتیں کرتے ہیں تو خیال رکھیے گا کہ کہیں شرارتوں میں اپنا نقصان نہ کر لیں۔









#ٹنکوبندر
#بچوں_کی_دنیا
#جون
#سارہ_عمر
#بچوں_کی_کہانی
#ٹنکو
#tinkobander
#bachonkikahani
#kids
#kidsstoryurdu
#urdustory
#sarahomerwrites
Sarahomer

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...