Skip to main content

سبز ہلالی پرچم


 سبز ہلالی پرچم 

 سارہ عمر 

الریاض  سعودی عرب





گہرے سبز ریشم کا کپڑا اس کی ہتھیلیوں میں آبشار کی مانند پھسلتا جا رہا تھا۔اس کپڑے کو سیتے سوئی کئی بار اس کے ہاتھوں میں چبھ کر ننھے منے خون کے باریک قطرے نکال گئی۔وہ ہاتھوں کے زخم کی پرواہ کیے بغیر اسے سیتی رہی۔متورم آنکھیں کئی گھنٹوں مستقل رونے کا پتہ دیتی تھی۔لرزتی پلکوں پہ اپنے آنسو ضبط کرتی وہ اب سفید دھاگے سے بھرائی مکمل کر رہی تھی۔وہ ایک ایسا ادھورا چھوڑا گیا کپڑا تھا جس کے پیچھے ایک دور کی مکمل داستان تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مارچ کا مہینہ تھا اور ملک کے طول و عرض میں عجیب بے چینی اور افراتفری کی فضا قائم تھی۔وہ سرگوشیاں جو فقط چند افراد تک محدود تھیں 23 مارچ کو کھل کر ”قرار داد پاکستان“کی صورت سامنے آ گئیں تھیں۔
”بالاخر مسلم لیگ نے مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں کو جدا گانہ حیثیت دینے کی تجویز پیش کی ہی دی“
ابا جو ابھی قرار داد پاکستان کے جلسے کے متعلق سن کر واپس آئے تھے اپنی ٹوپی میز پہ رکھتے بتانے لگے اور نادیہ کا اشتیاق قابلِ دید تھا۔
”اب کیا مسلمانوں کا الگ علاقہ ہو گا؟“
نو سالہ نادیہ حیرت سے آنکھیں پٹپٹانے لگی۔
”ہاں بٹیا!الگ علاقہ، الگ خطہ،الگ ملک ۔۔“
وہ سرد آہ بھر کر بولے تھے۔
”واہ یہ تو بہت اچھا ہے مگر۔۔“وہ کچھ لمحے کو رکی۔
”میری سہیلیوں کا کیا ہو گا؟پوجا،رشمی،یہ سب یہیں رہ جائیں گی“اسے اسی لمحے سکھیوں کی یاد نے گھیرا تھا۔
”بٹیا یہ الگ خطے،آزاد و خودمختار ریاستیں اتنی آسانی سے نہیں بنتیں قربانی دینی پڑتی ہے“
انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کر سمجھایا۔
“یعنی مجھے اپنی سہیلیوں کی قربانی دینی پڑے گی“
وہ اداسی سے بولی۔
”دوستوں کا غم نہ کریں بٹیا وہ تو آپ کی ادھر بھی بن جائیں گی“
ابا کی تسلی سے اسے کچھ اطمینان ہو تھا۔
کچھ سال بعد نادیہ کی زندگی میں ننھی پری کا اضافہ ہو گیا۔وہ اب گڑیوں کو چھوڑ کر چھوٹی بہن سعدیہ کے ساتھ کھیلتی رہتی۔ابا اب بھی اسے مسلم لیگ کے اجلاس کے متعلق اور روز بروز بدلتی صورتحال کے متعلق آگاہ کرتے رہتے۔مسلمان الگ ریاست بنانے کے لیے کوشاں تھے تو دوسری جانب کانگریس اور مسلم لیگ کے مابین مذاکرات چلتے رہتے۔ہندو بھی انگریزوں سے الگ اپنی ریاست کا قیام چاہتے تھے۔
اگست کے دن گرمی اور حبس سے بھرپور تھے۔فضا میں کچھ انہونی ہونے کی بازگشت تھی۔لوگ کبھی دروازوں کے باہر بھاری بوٹوں کی چاپ سنتے تو کبھی کان لگا کر ریڈیو سے نشر ہونے والی ہر خبر دھیان سے سنتے۔گیارہ اگست کو پہلی بار الگ ریاست کے لیے سبز پرچم متعارف کروایا گیا جس پہ سفید رنگ کا چاند ستارہ موجود تھا۔نادیہ نے جب سے ابا سے اس متعلق سنا وہ سبز ریشم کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی۔کبھی اس کی خوشبو محسوس کرتی تو کبھی نرم و ملائم کپڑے کو چھو کر اس کی نرماہٹ محسوس کرتی۔اس نے سفید کپڑے سے چاند بنا کر سبز کپڑے کے بیچوں بیچ رکھا اور اس کے کنارے سفید دھاگے سے بھرائی شروع کر دی تھی۔
”الگ ریاست مسلمانوں کی ہو گی۔
وہاں سب آزاد ہوں گے
سب اپنی مرضی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں گے۔“
ابا نے اسے اتنی بار یہ باتیں بتائیں تھیں کہ اس سبز کپڑے کو ہاتھوں میں تھامے وہ دن رات کئی خواب بننے لگی تھی۔
الگ خطہ،نیا ملک،نیا گھر،نئی دوستیں۔۔۔
نئی دوستوں کا سوچ کر اس کی آنکھیں چمک اٹھتیں۔
”آپی یہ تا ہے؟“
چار سال کی سعدیہ نے سبز ریشم کو دیکھ کر سوال کیا تھا جس پہ نادیہ نہایت تندہی سے سفید چاند ٹاکنے میں مشغول تھی۔
”یہ ہمارے نئے ملک کا پرچم ہے۔۔“
اس نے پیار سے کان میں سرگوشی کی کہ کہیں دیواریں بھی نا سن لیں۔
”پرچم؟وہ تا ہوتا ہے؟“
وہ معصومیت سے پوچھنے لگی۔
”پرچم کسی بھی ملک کا جھنڈا ہوتا ہے اس کی شناخت اور پہچان۔اس پرچم کی وجہ سے اس ملک کے لوگ ساری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں۔“
نادیہ نے آسان لفظوں میں اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
”اچھا۔۔۔تو جندا(جھنڈا) تو دندے(ڈنڈے) پہ لگائیں گے نا؟“
سعدیہ کو اب جھنڈے کو ڈنڈے پہ لگانی کی فکر تھی
”ہاں گڑیا ہم جھنڈا۔۔۔۔“
”نادیہ بٹیا چلو چلو جلدی کرو۔۔۔۔پاکستان بنے کا اعلان ہو گیا ہے۔۔۔ہمیں فورا یہاں سے نکل کر کسی محفوظ مقام پر پہنچنا ہو گا۔جگہ جگہ ہندو اور سکھ حملہ کر کے مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔۔“
”مگر ابا!“
وہ سبز پرچم تھامے گھبرا کر اٹھی۔
”وقت بہت تھوڑا ہے بٹیا!تمہاری ماں کچھ ضروری سامان سمیٹ رہی ہے تم بھی جلدی سے باہر آ جاؤ۔“
وہ الماری سے کچھ اہم دستاویزات اور جمع شدہ کچھ رقم ایک کالے چمڑے کے بیگ میں رکھتے تیز تیز بول رہے تھے۔
وہ سب جلد ہی گھر سے نکل کر رات کے اندھیرے میں کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں نکلے تھے۔ابا کے ایک قریبی دوست انہیں کسی محفوظ علاقے کے متعلق آگاہ کر رہے تھے۔
کچھ گلیوں سے گزر کر وہ آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ سامنے پوجا سنگھ کا گھر نظر آیا۔اس کی بچپن کی دوست پوجا جو دروازے کی چوکھٹ پہ کھڑی نجانے کس کا انتظار کر رہی تھی نادیہ کو دیکھ کر چونکی۔
دوست کی محبت نے عجب انگڑائی لی تھی۔
”ابا میں پوجا سے مل لوں؟“
نادیہ نے ابا کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا تھا کیونکہ پوجا اب بھی خاموش نظروں سے کھڑی اسی کو تاک رہی تھی۔
”بٹیا یہ خطرے سے خالی نہیں“
وہ ایک دم گھبرائے تھے۔
”مگر ابا میں اس سے مل کر جانا چاہتی ہوں پھر ہم کبھی نہیں مل پائیں گے“
اس کی التجا پہ ان کا دل پسیج گیا اور وہ سر اثبات میں ہلا کر رہ گئے۔
”پوجا ہم جا رہے ہیں شاید اب کبھی نہ مل سکیں۔“
وہ اس کے گلے لگتے بولی مگر پوجا خاموش کھڑی خالی آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔
”مگر ابھی ایک قرض باقی ہے“
”کیسا قرض؟“
نادیہ حیرت سے بولی
”یہ قرض!“
پوجا اس کے سامنے سے ہٹی اور پوجا کے پیچھے کھڑے اس کے بھائی نے ایک تیز دھار نیزہ نادیہ کے سینے میں اتار دیا تھا۔
”آہ۔۔۔۔“
ایک دلخراش چیخ اس کے حلق سے برآمد ہوئی۔بلونت سنگھ نے نیزہ نکال کر پھر سے اس کے پیٹ میں گھونپا تھا۔ابا تیزی سے دوڑتے اسے بچانے آئے جبکہ سبز ان سلا پرچم تھامے سعدیہ آپی کو خون میں نہایا دیکھ کر لرز گئی تھی۔چیخنے کو منہ کھولا تھا کہ ماں نے اسے گود میں اٹھاتے اس کے منہ پہ زبردستی ہاتھ رکھ کر چیخ دبائی کیونکہ بلونت اب اسی نیزے کو ابا کے سینے میں اتار چکا تھا۔
”پگلی غیر مذہب کے لوگ دشمن تو بن سکتے ہیں مگر کبھی دوست نہیں بن سکتے۔“
یہ آخری الفاظ تھے جو سعدیہ کی سماعت میں سنائی دئیے تھے۔کب وہ لوگ وہاں سے نکلے،کیسے ہجرت کی؟کس نے مدد کی؟اسے کچھ معلوم نہ تھا۔بس سبز ریشمی پرچم ہمیشہ ادھورا اس کے بکسے میں بند ہی رہا تھا آپی کی یاد کی طرح۔
”دادی اماں میرا پرچم سل گیا؟“
مجتبی دوڑتا ہوا دادی کے سرہانے آ کھڑا ہوا تھا تو
اسی سالہ سعدیہ کی نگاہوں کے سامنے چلتے ماضی کے مناظر کچھ لمحوں کو اوجھل ہو گئے۔انہوں نے جھنڈا مجتبی کے سامنے پھیلایا
”یہ لو اپنا سبز ہلالی پرچم اور اپنے فنکشن میں بہت حفاظت سے اس پرچم کو لے کر جانا کیونکہ یہ بہت قیمتی ہے۔اسے پانے کے لیے بہت قربانیاں دی گئی ہیں“
وہ نم آنکھوں سے بولی۔
مجتبی نے چمکتی آنکھوں سے چاند ستارے والے پرچم کو دیکھا اور بے اختیار اپنی آنکھوں سے لگایا تھا۔
”جی دادی اماں!میں اس پرچم اور اپنے ملک کی ہمشہ حفاظت کروں گا اور کبھی اس کے لیے دی گئی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دوں گا“اس نے جوش سے کہا تو دادی نے مسکراتے ہوئے اس کا ماتھا چوم لیا۔

مجتبی بھی جانتا تھا کہ اس آزاد مملکت کے حصول میں نادیہ جیسی ہزاروں قیمتی جانوں کی قربانی شامل ہے۔

#سبز_ہلالی_پرچم

#سنڈےمیگزین

#مشرق_سنڈے میگزین

#سارہ_عمر

#افسانہ#sarahomerwrites #sabz_hilaliparcham #green_flag #pakistan #23march #afsana

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...