Skip to main content

تبصرہ محبت فاتح عالم ٹھہری

تبصرہ ناول محبت فاتح عالم ٹھہری


 مصنف ہمایوں ایوب
 تبصرہ نگار سارہ عمر 

محبت فاتح عالم ٹھہری سوہنی ڈائجسٹ پہ شائع ہونے والا ایک بہترین ناول ہے جو کہ مصنف ہمایوں ایوب کی تحریر ہے۔اگر کہا جائے کہ مصنف ہمایوں ایوب انسٹاگرام کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں تو کچھ غلط نہ ہو گا۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے مصنف نے اپنی تحریر کے ذریعے قارئین کے دل موہ لیے۔اس ناول میں بھی اسلام آباد کے پہاڑوں سے لے کر زمین پہ اترتے بادلوں تک اسلام آباد کی خوبصورتی کی ایسی بہترین منظر نگاری کی گئی ہے کہ لگتا ہے آپ کے سامنے اسلام آباد کی تصویر پینٹ کر دی گئی ہے۔انسٹاگرام کی دنیا میں اپنے دلچسپ اور فکاہیہ تبصروں سے جگہ بنانے والے ہمایوں بھائی نے اپنی تحریر میں خوبصورت رشتوں اور جذبوں کو ایسی ڈوری پرویا ہے کہ قارئین داد دئیے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ بات کرتے ہیں محبت فاتح عالم ٹھہری کی جسے پڑھ کر میں بیک وقت حیران و پریشان رہ گئی۔بھئی واہ!افسوس ہے کہ ایسی تحریر پڑھنے میں بہت دیر کر دی۔اس کی تعریف کے لیے الفاظ نہیں کس کس منظر اور مکالمے کی تعریف کی جائے کہ ناول میں بہتے پانی جیسی روانی ہے۔
سوا تین سو صفحات پہ مشتمل ناول ایک ہی نشست میں ختم کرتے یہی احساس ہوا کہ لفظوں کے انتخاب سے لے کر کرداروں کی تکمیل تک ہر جز قابل تعریف تھا۔ منظر نگاری،مکالمے،کردار سازی،پلاٹ،کہانی،تجسس،پرت در پرت کہانی کا کھلنا ہر چیز میری نظر میں کمال تھی۔ جتنی محنت مجھے مکالموں پہ نظر آئی میں ماننے پہ مجبور ہوں کہ یہ ایک نہایت پختہ طرزِ تحریر ہے۔میرا دعویٰ ہے اسے پڑھتے وقت یقیناً اسے چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ناول کی اس کہانی کے چار مرکزی کردار ہیں،زینیا،نائل،اپل اور شیردل۔نائل اور زینیا میاں بیوی ہیں جبکہ ان کا ایک بیٹا احل بھی ہے۔یہ کپل ایک خوشگوار رندگی گزار رہا ہوتا ہے لیکن پھر ان کے بیچ ایک عورت آ جاتی ہے اور ان کی زندگی کو ہلا کر رکھ دیتی ہے۔
 زینیا کے کردار کی بات کروں تو شروع سے آخر تک مجھے اس کا کردار بہت پسند آیا۔زینیا اے سی کے عہدے پہ فائز ہے مگر آئے روز دل نہ چاہنے،طبیعت خراب ہونے اور شوہر کا موڈ خراب ہونے پہ جتنی چھٹیاں ہمایوں بھائی نے کروائی ہیں واللہ اتنی چھٹیاں اگر اصل اے سی کرے تو حقیقت میں سیٹ سے چھٹی مل جائے۔پھر اوپر سے ظلم یہ کہ میاں نائل صاحب پولیس آفیسر بھی ہیں مگر بے انتہا ظالم بھی ہیں۔زینیا بے چاری جاب کے ساتھ جس طرح میاں جی کے لیے گھر آ کر کھانا بناتی ہے ہمت ہی ہے ورنہ جاب کرنے والیاں اتنی اونچی ہیل پہن کر ہی تھک جاتی ہیں البتہ مصنف نے زینیا سے سارے جنم کے بدلے لیتے ہوئے اسے گھر اور باہر کا خوب کام کروایا اور انت کا صبر بھی کروایا۔اتنا صبر جو عورتیں کر لیں تو بھارت میں تو ان کو ستی ہی کر دیا جائے۔بہرحال جو اصل پیغام اس کہانی میں دیا گیا ہے کہ کسی بھی مشکل میں شوہر کو چھوڑا نہ جائے بلاشبہ وہ کمال ہے۔چاہے شوہر جو بھی کرے آپ کا صبر آپ کی محبت پہ غالب آ ہی جائے گا اور یہ محبت فاتح عالم ٹھہرے گی۔زینیا کے والد نے جس طرح زینیا کی رہنمائی کی ایسے والدین ہی نوجوان نسل کے اخلاق کی پاسداری میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کہانی کے ہیرو،نائل صاحب کی بات کی جائے تو ایک جانب بلا کے خوبصورت ہیں دوسری جانب پوری بلا ہی معلوم ہوتے ہیں کہ جیسے ہی ہیروئن کو ان کے گھر تشریف آوری کا پتہ چلتا ہے وہ ایف سولہ طیارے کی اسپیڈ سے گھر جا پہنچتی ہیں۔اتنی تفصیل کسی ہیروئن کے حلیے کی بیان نہیں کی جاتی جتنی فرصت سے ہمایوں بھائی نے نائل اور شیردل کی بیان کی ہے۔نائل کے ساتھ بچپن اور اس کے بعد جو مسائل رہے اس کا رویہ واقعی احساس دلاتا ہے کہ اولاد کی تربیت کس قدر ضروری ہے۔اولاد کو وقت دینا بہت ہی اہم کام ہے۔اولاد ہی والدین کی اولین ترجیح ہے۔ پورے ناول میں کہیں بھی نائل زینیا کے اس قدر کام کرنے کے حوالے سے تعریف کرتا نظر نہیں آتا بالکل ایک ٹپیکل شوہر کی طرح جو کہ خاص پسند تو نہیں آتا مگر اس کے حق میں دلائل کمال دئیے گئے۔ سب سے اچھی بات اس ناول کی یہ ہے کہ جو جو سوال ذہن میں ابھرے اس کا ناول میں ہی بروقت یا بتدریج جواب دیا گیا۔جیسے نائل کا رویہ،نائل کا خوف،اپل کی حقیقت کا کھلنا،پھر زینیا کا شیردل کو کہنا کہ اسے حقیقت سے آگاہ نہ کیا جائے بلکہ اسی گلٹ کے ساتھ جینے دیا جائے۔سارے ناول میں نائل نے جتنا تنگ کیا بیوی نے ایک ہی باری کسر نکال لی۔واہ جناب واہ۔ اب بات کریں اپل کی پہلے میں اسے ثانوی کردار سمجھی تھی،پھر پہلی بار سمجھ آیا کہ ہمایوں بھائی کا ناول ہے تو ولن بھی انوکھا ہو گا اور ولن کا تعلق صنف نازک سے ہے۔اپل پہ ہر جگہ ہی غصہ آیا،بے شک کہ کوشش بہت کی گئی اس کو بےچاری ثابت کرنے کی مگر ثابت ہو نہیں سکی۔ میں نے اپل کی کہانی کا اندازہ کچھ کچھ لگا لیا تھا کیونکہ کچھ سال پہلے عمیرہ احمد کا عکس پڑھا اور مجھے اسے پڑھ کر سمجھنے میں مشکل ہوئی مگر اپل کی کہانی بالکل مجھے عکس جیسی لگی،ساتھ ہی شیردل سے عکس کا ہیرو شیر دل یاد آ گیا۔یہ میری ذاتی رائے ہے۔ اب بات کریں شیر دل خان کی تو یہ بھی ایک پولیس آفسر ہے جس نے ایک لڑکی کی خاطر اپنے آپ کو یکسر بدل لیا لیکن جب تک اس مقام تک پہنچا وہ لڑکی اس کی دسترس سے ہی نکل چکی تھی۔شیر دل کا کردار پورے ناول کا سب سے پیارا،معصوم،اچھوتا،مخلص اور بہترین کردار ہے بھلا ایسے مرد ملتے کہاں ہیں جو ہر بار قربانی دیں اور دوسروں کو بھی قربانی دینے کی تلقین کریں جو اپنا آپ مار لیں اور اپنی ذات کی نفی کر لیں۔ مجھے اس کے سب ہی مکالمے بہت اچھے لگے۔برجستہ مکالموں سے لے کر معمول کی گفتگو تک ہر کہا گیا لفظ کردار کی بھرپور معاونت کرتا ہے۔ 



ایک نئی اصلاح جو اس کہانی کے ذریعے پڑھنے کو ملی وہ میریٹل ریپ تھی،ایسا کچھ بھی لکھنے کے لیے ہمت چاہیے اور یہ ہمت زیادہ لوگ کر نہیں پاتے اس لیے ان کے لیے داد تو بنتی ہے۔ ناول میں جس طرح تحقیق کر کے ایک ایک نقطے کو واضح کیا ہے،جیسے اپل جب ستاروں کے ناموں کی دیوتاؤں کے ناموں کے ساتھ مماثلت کے متعلق بتاتی ہے وہ بہت خوبصورت بیان کیا ہے۔جس طرح زینیا اور شیر دل نے مل کر اس جنگ کو لڑا ان کی کیمسٹری بہت ہی اچھی لگی۔مجھے تحریر پہ کہیں کہیں نمرہ احمد کی جھلک نظر آئی کیونکہ ان کا لکھا الگ سے پہچانا جاتا ہے اور یہ پہچان بھی نمرہ احمد کے قاری ہی کر سکتے۔ شروع سے آخر تک مصنف نے اسے مکمل لکھا ہے کہیں کوئی خلا،کوئی جھول،کوئی بدنظمی،کوئی بے ربطگی نہیں دکھائی دیتی۔ نئے لکھنے والے مصنف کے لیے بہت سی نیک تمنائیں کہ آگے بھی لکھتے رہیے کیونکہ قارئین آج بھی اچھا پڑھنے والوں کی قدر کرتے ہیں۔
#mohabatfatehalamtahri
#huymayunayubnovel
#sarahomerreads
#sarahomerreview
#sarahomerwriters
#sarahomerwriter
#sarahblog
#sarahsthought
#novelreview
#urdunovel
#sarahomerofficial

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...