Skip to main content

قرنطینہ بکرا از سارہ عمر

قرنطینہ بکرا از سارہ عمر




   #covid19 #quartine #quarantinebakra #kidsstory #bachonkaislam #sarahomer "لو جی ایک اور نئی خبر سنو" چچا جی نے چائے پیتے چچی کو مخاطب کیا- صبح صبح چچا منصور کا پہلا کام ناشتے کے ساتھ اخبار پڑھنے کا ہوتا تھا-وہ ناشتہ کرتے نئی نئی خبریں پڑھ کر چچی کو سناتے جاتے-چچا منصور محلے بھر کے چچا تھے-ان کے دو بیٹے اپنی فیملی کے ساتھ ملک سے باہر مقیم تھے جبکہ چچا چچی ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ مگن رہتے یا پھر محلے کے بچے پڑھنے آ جاتے- "کیوں جی اب کیا ہو گیا؟" چچی نے نوالا توڑتے کہا مگر ایک دم انہیں کچھ یاد آیا تبھی بولیں" اب یہ مت کہیے گا کہ اس بار پیسے نہیں ہیں" "نہیں نہیں بیگم اس بار پیسے تو ہیں مگر بکرا نہیں ہے-" چچا نے سر کھجاتے الجھن بیان کی- "ہیں.. اب ایسا کیا ہو گیا جو بکرے ہی اس زمین سے غائب ہو گئے؟" چچی نے حیرت سے آنکھیں دکھائیں- "ارے نہیں یہ اخبار میں خبر آئی ہے کہ بکروں کو بھی کرونا ہونے کا خدشہ ہے-اس لیے قربانی نہ کی جائے یا کرتے ہوئے احتیاط برتی جائے" "ارے! ایسے کیسے ہو گیا بکروں کو موا کرونا، اب کیا کریں گے؟ چچی کو تو پریشانی نے گھیر لیا- "اری نیک بخت! کل جاؤں گا منڈی تو دیکھتے ہیں کیا بنتا ہے، کوئی نہ کوئی اچھا مناسب بکرا تو مل ہی جائے گا" چچا کی بات پہ چچی نے اثبات میں سر ہلایا- ...................... چچا جی بکرا خریدنے بکرا منڈی گئے تو دیکھا تمام افراد ایک ہی بکرے کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے ہیں-طرح طرح کی بولیاں بلند ہو رہی ہیں-چچا جی اتنا مجمع دیکھ کر حیران و پریشان تھے-عید میں کچھ ہی دن رہتے تھے تبھی اتنا مجمع کوئی حیران کن بات نہ تھی مگر ایک ہی بکرے کو گرد اتنا مجمع لگانا سمجھ نہ آیا- چچا نے قریب جا کر دیکھا تو ایک بورڈ آویزاں تھا جسے پڑھتے ہی چچا جی کو دو سو واٹ کا کرنٹ لگا تھا-اس پہ لکھا تھا "کترینہ بکرا" "کیا کترینہ کیف کے بکرے بھی اب بازار میں دستیاب ہیں، واہ کیا ترقی کر لی ہے زمانے نے-" چچا جی بڑبڑائے- چشمہ صاف کر کے دوبارہ آنکھوں پہ جمایا تو بورڈ پہ عبارت کچھ مختلف دکھائی دی- اس پہ لکھا تھا "خاص اسپیشل قرنطینہ بکرا وہ خاص بکرا جو چودہ روز قرنطینہ میں گزار چکا ہے، سب بکروں سے الگ اور سب سے جدا، کرونا وائرس سے بالکل پاک، سو فیصد تصدیق شدہ کرونا وائرس ٹیسٹ کے منفی ہونے کی رپورٹ گلے میں نتھی" چچا نے چشمہ درست کیا اور معاملے سمجھتے مجمعے میں جا گھسے مگر یہ کیا مالک تو بات سننے کو تیار نہ تھا- ساتھ کھڑے ایک شخص نے بتایا کہ اس بکرے کا ریٹ اب تک تین لاکھ تک پہنچ چکا ہے- "کیا! " چچا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا "اتنے میں تو اصلی کترینہ کیف آ جائے" چچا نے برا سا منہ بنایا اور باقی بکروں کے ریٹ لیتے گھر کے راستے پہ چل پڑے- "کل آ کر کوئی نہ کوئی بکرا فائنل کر لوں گا" چچا نے خود کلامی کرتے دل کو تسلی دی مگر یہ ان کی خام خیالی تھی-اگلے روز منڈی کے منظر نے تو ان کے چودہ طبق روشن کر دئیے تھے- "ارے یہ کیا؟" چچا نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں- آج تو ہر طرف ہی قرنطینہ بکرا قرنطینہ بکرا کے بورڈ لگے تھے-اب اس میں سے اصلی قرنطینہ بکرا کونسا ہے اس کی پہچان کیسے ممکن ہوتی؟ کچھ بکروں نے تو منہ پہ نہ صرف ماسک لگائے ہوئے تھے بلکہ چاروں پاؤں میں گلوز بھی پہنے ہوئے تھے-ان کے ساتھ کھڑے ان کے مالک بار بار ہاتھ سینٹائز کر کر کے گاہکوں کو بکروں کے برش کیے ہوئے دانت دکھا رہے تھے- کبھی کوئی بکرا چھینک دیتا تو فوری طور پہ اس کے آگے ثنا مکی کے پتے رکھ دئیے جاتے اور پانی کی جگہ بکرے کو کلونجی کا قہوہ دیا جاتا- اس صورتحال میں چچا کو اپنا آپ ہی بکرا لگنے لگا تھا- اب اتنے قرنطینہ بکروں میں چچا کے لیے فیصلہ کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا- چچا سر جھکائے مایوسی سے منڈی سے باہر نکلنے ہی والے تھے کہ الگ تھلگ کھڑا ایک چھوٹا سا، مناسب ریٹ کا آسولیٹڈ بکرا چچا کے دل کو بھا گیا- اس کا سب سے الگ تھلگ سوشل ڈسٹنس پہ کھڑا ہونا، کھلی فضا میں سانس لینا اور منڈی کے رش سے قدرے دور بے فکری سے پتے کھانا چچا جی کو یقین دلا گیا تھا کہ یہی وہ کرونا فری بکرا ہے جس کی انہیں تلاش تھی-اس کرونا فری بکرے کا مالک ابھی کچھ ہی دیر پہلے گاؤں سے آیا تھا تبھی ابھی تک بکرے کو ماسک، گلوز اور سینٹائزر کے استعمال نہیں کروایا گیا تھا- چچا نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ انہیں ایک اصلی قرنطینہ بکرا میسر آ گیا جو باقی کترینہ بکروں سے یکسر مختلف ہے-چچا نے خوشی خوشی اس کی رسی تھامی اور گھر کو چل پڑے-

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...