یہ دل میرا، تنقیدی جائزہ
از
سارہ عمر الرياض سعودی عرب.
فرحت اشتیاق کا نام ادبی دنیا میں غیر معروف نہیں-وہ ایک بہت اچھی مصنفہ اور ناول نگار ہیں-ان کے لکھے گئے ڈرامے ہمیشہ سے ہی عوام میں خاصے مقبول ہوئے ہیں-ان کے مشہور ڈراموں میں ہمسفر، متاعِ جاں ہے تو، دیارِ دل،یقین کا سفر اور اڈاری شامل ہیں-حال ہی میں ان کا نیا ڈرامہ سیریل "یہ دل میرا" اختتام پذیر ہوا جسے عوام کی جانب سے خاصی پذیرائی ملی-
ڈرامہ "یہ دل میرا" کے مرکزی اداکاروں میں سجل علی، احد رضا میر اور عدنان صدیقی شامل ہیں-ان تینوں اداکاروں نے اپنے فن کے بھرپور جوہر دکھائے-سجل اور احد رضا میر چونکہ حقیقی زندگی میں بھی شریکِ حیات بن چکے ہیں لہذا ڈرامے میں ان کی جوڑی کو شرکاء کی جانب سے نہایت سراہا گیا-
ڈرامے کے آغاز سے ہی سجل اور احد یعنی نور جہان اور امان کو ایک نہایت مختلف کردار میں دکھایا گیا، دونوں ہی اپنے ماضی میں گزرے واقعات کے باعث شدید دباؤ کے زیر اثر ہوتے ہیں-ڈرامے کے آغاز سے اختتام تک کہانی میں تجسس کا عنصر نمایاں رہا جس کے باعث آخری قسط تک دلچسپی برقرار رہی-ڈرامے کی کاسٹ، پلاٹ، مکالمے، سب ہی کافی جاندار تھے مگر کہیں کہیں کچھ کمی بھی دیکھنے میں آئی-
#sarahomerblog
جہاں ساری اقساط کو بہت دلچسپی سے دیکھا گیا وہیں آخری قسط اپنا رنگ جمانے میں خاصی ناکام نظر آئی-کسی بھی ڈرامے میں آخری قسط یا اختتام ڈرامے کی کامیابی یا ناکامی پر خاصا اثر انداز ہوتا ہے-پچھلے دنوں "میرے پاس تم ہو" کی آخری قسط کو نشر کرنے کے لیے سینما ہال تک میں بکنگ کی گئیں اور عوام نے نہایت جوش و خروش کا اظہار کیا-"یہ دل میرا" کی ساری کہانی ہی آخری قسط سے پہلے ہی کھل کر سامنے آ گئی تھی-اب شائقین کو انتظار صرف دو باتوں کا تھا پہلا کیا آغا جان کو سزا ملے گی؟ دوسرا کیا نور اور امان مل جائیں گے؟
ان دونوں کا جواب میرے نظریے کے مطابق بالکل تسلی بخش نہیں تھا-آغا جان جنہوں نے امان کے والدین اور بہن کا قتل کیا، اپنے کولیگ اور دونوں بیویوں کو مروایا اتنی آسانی سے علی بخش سے گولی کھا کر مر گئے-ایسے شخص کے لیے تو لمبی اور کڑی سزا رکھی جاتی، کسی معذوری کی سزا، مفلسی یا بیماری کی سزا کہ تڑپٹے موت مانگتے مگر نہ ملتی-وہ نور سے ملنے کو تڑپتے مگر نور نہ ملتی بلکہ نفرت کرتی-علی بخش جو کہ ہر برے کام میں اپنے مالک کا ساتھی رہا سکون سے خودکشی کر کے مر گیا-تیس قسطوں میں جو فتنہ پھیلاتا ہے اس کا قصہ تین سیکنڈ میں ختم کر دینے سے بھلا کیسے اس عوام کے دل کو تسلی ہو گی-دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ آغا جان اور علی بخش کو پاکستانی عوام کے حوالے کر دیا جاتا جو ان دونوں کا مار مار کر قیمہ ہی بنا دیتے-
آخری دو قسطوں میں امان یعنی احد رضا میر کی اداکاری خاصی بیٹھی ہوئی نظر آئی-آخری قسط میں سارا وقت چہرے کے تاثرات میں کوئی فرق نظر نہیں آیا ایسا لگتا تھا کہ بس سپاٹ چہرہ لیے ان آخری دو قسطوں کو نبٹایا جا رہا ہے-نیلوفر کی قبر کے پاس، کمرے کے اندر نور کے پاس کھڑے ہوئے، نور سے دریا باغ میں ملتے ہوئے ہر جگہ سپاٹ چہرے نے نہایت بےزار کیا مگر سجل کی اداکاری آغاز سے انجام تک بہترین رہی-
ایک اور غلطی جو ڈرامے میں محسوس ہوئی وہ یہ تھی کہ ڈرامہ ختم ہو گیا مگر نور جہاں کو پتہ نہ چل سکا کہ اس کے باپ نے دوسری شادی کی تھی-ساحرہ کی شادی سے لے کر اس کی موت تک جو کہ نہایت سفاکی سے کی گئی کوئی بھی خبر نور کو ملی ہی نہیں-نور کو اپنے ظالم باپ سے نفرت تو ہوئی ہی نہیں جو کہ امان کا اصل مقصد تھا کہ نور سب جان جائے تو اپنے باپ سے نفرت کرے-جس وقت نور کو سب پتہ چلتا ہے اور وہ واپس کمرے میں آتی ہے بس اس وقت وہ صدمے کی کیفیت میں ہوتی ہے-شاید یہ صدمے کا ہی اثر ہوتا ہے کہ گولی کی آواز پہ بھی وہ نہیں اٹھتی اور وہ جانتی بھی ہے کہ گولی باہر سے چلی ہے اور شاید یہ آغا جان نے چلائی ہو مگر پھر بھی اٹھ کر کھڑکی تک بھی نہیں آتی-اگر وہ اپنے باپ سے محبت کرتی تھی تو اسے اٹھ کر باہر جانا چاہیے تھا یا کھڑکی سے ہی لاش دیکھ کر بےہوش ہو جاتی-یہاں امان کو چاہیے تھا کہ وہ بھی بھاگ کر باہر جاتا اور لاشوں کو اٹھاتا مگر وہ سکون سے کھڑا عینا یعنی نور جہان کو دیکھتا رہا-نور ہوش میں آنے کے بعد بھی اپنے باپ کے لیے ہی رو رہی ہوتی ہے-یہاں پر اگر آغا جان اور علی بخش کے جنازوں کے ساتھ عینا کا کوئی ایموشنل سین دکھایا جاتا تو یقیناً جذباتیت سے بھری عوام کے سینوں میں کچھ ٹھنڈ پڑ جاتی مگر اس کا بھی اہتمام نہیں کیا گیا اس لیے عوام تشنہ ہی رہ گئے-
آغا جان کے مرنے کے بعد ان کے کرتوتوں کا پول کھول کر عینا کا دل امان کی طرف سے صاف کر دیا جاتا تو خاصا بہتر ہوتا-نور امان کے ساتھ مل کر دریا باغ میں ہسپتال کھولتی اور اس کے یتیم خانے میں اس کی معاون بنتی تو اختتام پراثر رہتا-ساری عوام امان اور نور کو اکٹھا دیکھنے کے لیے آخری سین تک انتظار کرتی رہی مگر دونوں اپنے اپنے گھوڑوں کا منہ مشرق اور مغرب کی سمت کر کے چل پڑے اب بے شک انہیں دوبارہ ملتے سالوں لگ جائیں عوام اتنا انتظار نہیں کر سکتی-پاکستانی عوام کافی رحم دل اور دوسروں لفظوں میں رشتے کرانے والی خالہ جیسی ہے جس کا اولین فرض کم از کم ڈراموں میں ہیرو ہیروئین کو ساتھ دیکھ کر تالیاں بجانا ہے-پہلے ہی یہ عوام ابھی تک دانش کی موت کا غم لے کر بیٹھی ہے کتنے لوگ پچھلی بار سیٹیاں بجانے کو تیار بیٹھے تھے مگر دانش کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا، اس بار بھی عوام تالیاں بجانے اور سیٹیاں بجانے تیار بیٹھے تھے مگر افسوس سے امان کو پہاڑ پہ اکیلے پیانو بجاتا ہی دیکھتے رہ گئے-
بہرحال کہانی کے علاوہ دیکھا جائے تو ڈرامے کی منظر نگاری نے شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کی-دریا باغ کا نام ایک فرضی نام ہے اس ڈرامے کی اصل شوٹنگ کاغان اور شوگراں میں کی گئی ہے-آخری قسط کے مناظر میں خوبصورت برف پوش پہاڑوں اور سبزہ زاروں نے پاکستان کی حقیقی خوبصورتی کو اجاگر کیا-ڈرامے کی شوٹنگ آرکیڈین ریور سائڈ ہوٹل کاغان arcadian riverside hotel میں کی گئی جسے ڈرامے میں ثمر ہاؤس کے نام سے پکارا گیا-دریائے کنہار کے کنارے واقع یہ ہوٹل اپنی خوبصورتی اور دیدہ زیب نظاروں کے باعث شائقین کی توجہ کا مرکز بنا رہا-پاکستانی خواتین نے جہاں آخری قسط میں امان اور نور کے دوبارہ اکھٹے نہ ہونے پہ ناگواری کا اظہار کیا ہے وہیں لگے ہاتھوں اپنے شوہروں کو اس ڈرامے کے توسط سے کاغان اور شوگراں میں قیام کے لیے راضی بھی کر لیا ہے-خواتین کا موقف ہے کہ کرونا کی وبا ختم ہوتے ہی وہ دریائے کنہار کے کنارے اسی ہوٹل میں قیام پذیر ہوں گی تاکہ عینا کے کمرے میں ٹھہر سکیں اور آغا جان اور نیلوفر کی قبر کے دیدار کے علاوہ جی بھر کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہو سکیں-یہ اور بات کہ شوہر حضرات دل ہی دل میں کرونا کے نہ جانے کی دعا کر رہے ہیں لیکن آپ یہ دعا نہ کیجیے گا-اللہ تعالیٰ اس وبا کا خاتمہ کر دے تاکہ پاکستان سمیت تمام ممالک میں پھر سے سیاحت کا آغاز ہو سکے-آمین..
#yedilmera
#farhatishtiaq
#sarahomerblog
#pakistaniblogger
#reviewwriter
#sarahsblog
#lastepisode
#arcadianriversidehotel
#kaghan
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings

بہترین تبصرہ 👌❣️
ReplyDeleteبہترین تبصرہ 👌❣️😊
ReplyDelete