Skip to main content

بجیاز کوکنگ کی حقیقت bajias cooking's reality

بجیاز کوکنگ کی حقیقت از سارہ عمر الرياض سعودی عرب Bajias cooking
کچھ دن پہلے سوشل میڈیا پہ ایک بہت مشہور جانی مانی یوٹیوبر کے متعلق انکشاف پڑھا-یہ مشہورِ زمانہ شخصیت بجیاز ہیں جو کہ بجیاز کوکنگ کے نام سے گزشتہ گیارہ سالوں سے یوٹیوب پہ کھانے پکانے کا چینل چلا رہی ہیں-ان کے فالورز کی تعداد تین لاکھ اسی ہزار کے قریب ہے-بجیاز کا تعلق آسٹریلیا سے ہے اور وہ ہمیشہ اپنی شناخت، چہرہ اور اصل نام چھپائے رکھتیں- دو روز قبل مجھے ذاتی طور پر اس انکشاف سے شدید دھچکا پہنچا کہ یہ خاتون قادیانی ہیں-اس انکشاف نے جہاں مجھے حیران کیا وہیں ان کے چاہنے والے لوگ بے اختیار چینل ان سبسکرائب کرنے اور ان کے خلاف آواز اٹھانے پہ مجبور ہو گئے- دو روز قبل سوشل میڈیا پہ مختلف پوسٹ میں بجیاز یعنی عمرانہ نصیر کی سازش بے نقاب کی گئی-یہ خاتون لوگوں سے زکوٰۃ خیرات کے نام پہ چندہ لے کر لوگوں کو یہ دکھا رہی ہے کہ وہ ان پیسوں سے لوگوں کو راشن اور دیگر اشیا مہیا کر رہی ہے مگر درحقیقت اس کا مقصد قادیانیت کی تبلیغ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ قادیانیت اختیار کر سکیں-غریب اور معصوم لوگوں کو مدد کے نام پہ دھوکہ دیا جا رہا ہے اور اپنے مذہب کی تبلیغ کی جا رہی ہے- عمرانہ نصیر کی ویڈیوز قادیانیوں کے چینل ایم ٹی وی پہ بھی موجود ہیں اور ان کا خاندان احمدی کمیونٹی میں بہت زیادہ فعال ہے-عمرانہ کی بیٹی حبا دین ایک یہودی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہے جبکہ بیٹے کی شادی بھی جویریہ نامی لڑکی جو کہ قادیانی ہے اس سے کی گئی ہے- عمرانہ کے شوہر ایک ڈاکٹر ہیں اور اپنی کمیونٹی کے لوگوں میں بہت فعال ہیں- عمرانہ عرف بجیاز اپنی ویڈیوز میں کھانا بنانے کے علاوہ اپنے نہایت خوبصورت اور بڑے گھر کی تشہیر بھی کرتی نظر آتی ہیں-ان کا گھر نہایت وسیع اور عریض رقبے پہ پھیلا ہوا ہے جس میں ناصرف سوئمنگ پول موجود ہے بلکہ کئی طرح کے پھل سبزیوں اور پھلوں کے باغات بھی ہیں-ان کے اس امیرانہ ٹھاٹ باٹ کو دیکھ کر پاکستان اور دیگر ممالک کے لوگ انتہائی حیرت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کیونکہ ڈاکٹر یا انجینئر کے عہدے پہ کام کرتے ہوئے کوئی بھی شخص اتنی کمائی نہیں کر سکتا کہ آسٹریلیا جیسے ملک میں اتنے بڑے بنگلے اور باغات کا مالک بن جائے- گزشتہ دنوں اس انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پہ فالورز کے مابین ایک جنگ چھڑ گئی-کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کھانا پکانے سے قادیانی ہونے کا کوئی تعلق نہیں-کچھ لوگوں نے تصدیق کے لیے بجیاز کے پیج اور چینل پہ کمنٹ بھی کیے جن کو فوری طور پر ڈیلیٹ کر کے بلاک کر دیا گیا-پاکستان اور کچھ دیگر ممالک میں اس چینل کو بند کر دیا گیا ہے تاکہ لوگ اس کو رپورٹ نہ کر سکیں- وہ تمام افراد جو اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ ان کے چینل کو ان سبسکرائب کر کے کیا فائدہ یا پھر ہمیں ان سے نفرت کر کے کیا ملے گا ان کے لیے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اتنا فرمان کافی ہے، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ. تمام اعمال سے افضل ﷲ تعالیٰ کے لئے محبت کرنا اور ﷲ کے لئے دشمنی رکھنا ہے۔ أبو داود، السنن، كتاب السنة، باب مجانبة أهل الأهواء وبغضهم، 4: 198، رقم: 4599، دارالفكر یعنی اگر محبت کی جائے تو اللہ کے لیے کی جائے اور نفرت کی جائے تو اللہ کے لیے کی جائے-ہمیں ذاتی طور پر عمرانہ نصیر عرف بجیاز سے دشمنی نہیں بلکہ ہم اس کے چینل اور پیج کو ان فالو صرف اللہ کی رضا اور اس کی محبت میں کر رہے ہیں-ہمیں اس سے صرف یہی بغض ہے کہ وہ قادیانی ہو کر ہم سب مسلمانوں کو بےوقوف بنا رہی ہے دھوکہ دے رہی ہے-ہمارے ہی پیسوں کو ہمارے ہی بھائیوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے-ہماری امداد سے مسلمان بھائیوں کے ایمان کا سودا کیا جا رہا ہے-قادیانیت کے خلاف پاکستان میں آئین موجود ہے کہ اس مذہب سے تعلق رکھنے والے کافر ہیں - خدارا اپنی آنکھیں کھولیے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جو کہ آخری نبی ہیں ان کے امتی ہونے کے ناتے ان جھوٹے نبیوں اور کذابوں کا بائیکاٹ کیجیے تاکہ قیامت کے روز ہم اپنے اعمال پہ شرمندہ نہ ہو سکیں- اسلام زندہ باد ختم نبوت پائندہ باد #Bajiascooking #bajiasreality #bycotbajiascooking #bycotimrananaseer #bycotbajiasclothing #sarahomerwrites #sarahomerblog #pakistaniblogger #khatmenaboyyat#zindabad #reportthepage

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...