Skip to main content

پریس کانفرنس الریاض سعودی عرب

پریس کانفرنس الریاض سعودی عرب..
رپورٹ سارہ عمر الرياض سعودی عرب) ڈائریکٹر ایشین فیسٹیول 2020 اور ای ایم ٹی گلوبل کے زیر اہتمام فوڈ پیلس ریسٹورنٹ الرياض میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا-پریس کانفرنس میں سوشل اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں،ادیبوں، رپورٹرز اور صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی-پریس کانفرنس کا مقصد الریاض میں ہونے والے ایک بہت بڑے ایونٹ کے متعلق معلومات فراہم کرنا تھا-پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایشین فیسٹیول راحیل قریشی کا کہنا تھا کہ یہ الریاض میں ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا اور منفرد کلچرل ایونٹ ہے-اس میں چھ ممالک کے باشندے نہ صرف پرفارم کریں گے بلکہ ان کے کلچر، تہذیب و ثقافت کو فروغ بھی دیا جائے گا-ان چھ ممالک میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور فلپائن شامل ہیں-ایشن فیسٹیول کا انعقاد 28 فروری بروز جمعہ ساحل تھیم پارک میں کیا جائے گا-اس فیسٹیول میں کلچرل شوز، بسنت، فوڈ اسٹالز، مہندی لگانے کا مقابلہ، بچوں کے لیے رنگ بھرنے کا مقابلہ، فیس پینٹنگ کا مقابلہ، ٹیلنٹ شوز اور آرٹس ایکسپو کا بھی اہتمام کیا جائے گا-شرکاء میں انعامات بھی تقسیم کیے جائیں گے-ای ایم ٹی گلوبل کے عبید ایڈوانہ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے تفریحی ایونٹس دیگر ممالک کے افراد کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے فروغ کے قیام کے لیے نہایت اہم ہیں-ماضی میں بھی اس طرح کے ایونٹس کا انعقاد ہو چکا ہے جنہیں بہت سراہا گیا-فوڈ پیلس ریسٹورنٹ کی جانب سے سجاد علی چوہدری نے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی-انہوں نے گزارش کی اس تقریب میں شرکت کر کے اس فیسٹیول کو کامیاب بنایا جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مزید فیسٹیول کا انعقاد کیا جا سکے-تقریب میں راحیل قریشی، شیخ سلیم، حمزہ شیخ کے علاوہ بنگلہ دیش، انڈیا اور سری لنکا کے نمائندوں نے بھی شرکت کی-اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے ویسٹرن یونین، لولو مارکٹ، نیسٹو، فرینڈی، بیسٹ کارگو، المرائی، سٹی فلاور کے علاوہ دیگر برنڈز نے بھی تعاون کیا ہے-ایشین فیسٹیول 2020 میں صفا مکہ کلینک کی جانب سے فری میڈیکل کیمپ بھی لگایا جائے گا-راسل واٹر اور المرائی کی جانب سے فری پانی اور جوس بھی شرکاء میں تقسیم کیا جائے گا-اس ایونٹ میں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کے پانچ ہزار سے زائد شرکاء کی آمد متوقع ہے-ایونٹ کا ٹکٹ صرف 35 ریال ہے اس کے علاوہ کوئی اضافی چارجز نہیں- تمام معزز حضرات کی جانب سے صحافی برادری کا شکریہ ادا کیا گیا جو اپنا قیمتی وقت نکال کر تشریف لائے-کانفرنس کے بعد ایک پرتکلف عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا-
#sarahomer #sarahschannel #urdublogs #riyadhblogger #reportwriting #asianfestival #rqproductions #emtglobal #pressconfrence #pressmeet #foodpalacehotel #riyadh

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...