Skip to main content

Basant kite flying festival بسنت کائٹ فلائنگ فیسٹیول 2020

ار کیو پروڈکشن اور ای ایم ٹی گلوبل کے زیر اہتمام ایک شاندار بسنت کائٹ فلائنگ فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا-اس فیسٹیول کو "ایشین فیسٹیول 2020"کا نام دیا گیا کیونکہ اس میں چھ ممالک کے باشندوں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ پرفارم بھی کیا- 28 فروری 2020 بروز جمعہ ساحل واٹر تھیم پارک میں وسیع پیمانے پر ایشین فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا-
اس فیسٹیول میں مختلف انواع کے ایونٹس کو شامل کیا گیا جس میں بسنت میلہ، فیس پینٹنگ، کلرنگ کانٹسٹ، مہندی لگانے کا مقابلہ، لکی ڈرا، ٹیلنٹ شوز، کوئز وغیرہ شامل ہیں-فیسٹیول میں کھانے پینے کے مختلف اسٹالز لگائے گئے تاکہ شرکاء پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ مزیدار کھانوں سے بھی لطف اندوز ہو سکیں-فوڈ پیلس ریسٹورنٹ کی جانب سے مزیدار کھانوں اور بار بی کیو کا اہتمام کیا گیا جبکہ پاکستانی، انڈین کھانے کے علاوہ مختلف ممالک کے کھانوں اور مٹھائیوں کے بھی اسٹال لگائے گئے-صفا مکہ پولی کلینک کی جانب سے فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا- تقریب میں ننھے بچوں کی خوشی کا بھرپور خیال رکھا گیا-ننھے منھے بچوں میں کیک اور غبارے تقسیم کیے گئے-شرکاء میں بھی "شائی کرک" کی جانب سے فری چائے اور جوس تقسیم کیے گئے- "ایلورہ" کمپنی کی جانب سے لکی ڈرا کے لیے کوپن تقسیم کیے گئے جس میں جیتنے والوں کو ایلورہ کی جانب سے تحائف دئیے گئے- شرکاء نے زور و شور سے بسنت کائٹ فلائنگ فیسٹیول میں شرکت کی اور پیچے لڑا کر ایک دوسرے سے سبقت لیجانے کی کوشش کرتے رہے-آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے سج گیا اور فضا میں "بو کاٹا" کے نعرے گونجتے رہے-بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد میں بسنت میلے میں شرکت کر کے ثابت کر دیا کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں- بچوں کی دلچسپی کے لیے الیکٹرانک جھولوں کے علاوہ، 12 ڈی سینما، ڈاجنگ کار،سلائڈز،بوٹنگ، دباب وغیرہ بھی موجود تھے جس سے بچے بہت لطف اندوز ہوئے-
ایشین فیسٹیول میں اسٹیج پہ خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں چھ ممالک جن میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال، چین، فلپائن شامل ہیں، کے باشندوں نے پرفارم کیا-موسیقی، کلچرل ڈانس، ٹیلنٹ شوز کے علاوہ جمناسٹک شو بھی پرفارم کیا گیا جسے شرکاء نے بہت سراہا-فلپائن سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ جینی نے اپنی خوبصورت آواز کا جادو جگایا تو سارے شرکاء نے جوش و خروش سے ان کا ساتھ دیا-فلپینی بینڈ نے نہایت شاندار رقص کا مظاہرہ کیا جسے بہہت پسند کیا گیا-کلرنگ کمپیٹیشن میں پوزیشن لینے والے بچوں اور مہندی کمپیٹیشن میں پوزیشن حاصل کرنے والی خواتین کو تحائف پیش کیے گئے-تقریب میں پاکستان، انڈیا، نیپال کے فنکاروں اور گلوکاروں نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا-تقریب میں فیسٹیول میں فعال کردار ادا کرنے والے منتظمین میں ایوارڈ اور شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں-
ار کیو پروڈکشن کے بانی راحیل قریشی کا کہنا تھا کہ اس طرح کے فیسٹیول ایشائی ممالک کے دوستانہ تعلقات کے فروغ کے لیے نہایت اہم ہیں-انہیں نے تقریب کے شرکاء، منتظمین اور اسپانسرز کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے یہ کامیاب ایونٹ وقع پذیر ہوا-انہوں نے سعودی حکومت اور کلچرل سوسائٹی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے دیگر ممالک کے باشندوں کو اپنی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کیا-مستقبل میں بھی اس طرح کے فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ اپنے کلچر کو فروغ دے کر عرب ممالک میں ایک مثبت ثاثر کو اجاگر کیا جا سکے-
رپورٹ سارہ عمر الریاض سعودی عرب. #sarahomer #sarahschannel #asianfestival #rqproductions #emtglobal #reportwriting #basantfestival #riyadhtour #riyadhattractions #riyadhparks #riyadh

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

خواب امیراں دے۔(طنز و مزاح)

 خواب امیراں دے تے کم فقیراں دے سارہ عمر  آج کل کے دور میں سب سے آسان کام خواب دیکھنا ہے۔یہ وہ کام ہے جو مہنگائی کے اس دور میں بھی مفت ہے اور مفت کا لفظ جہاں کہیں نظر آ جائے وہ ہماری قوم پہ کرنا فرض ہو جاتا ہے۔ کہتے ہیں خوابوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔کچھ بھی سوچ لو کونسا کوئی بل آ رہا ہے۔خواب دیکھنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ سویا جائے کیونکہ خواب ہمیشہ نیند میں ہی آتے ہیں۔اسی باعث ہمارے نوجوان اکثر سوتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ سارے عظیم خواب تو نیند میں ہی دکھائی دیتے ہیں۔کچھ ایسا ہی حال رشید سوالی کا بھی تھا۔نام تو اس کا رشید جمالی تھا مگر بچپن سے ہی اسے سوال پوچھنے کا اتنا شوق تھا کہ تنگ آ کر اس کا نام جمالی سے سوالی ہی ہو گیا۔رشید سوالی کا پسندیدہ کام سونا ہی تھا۔سو سو کر جب وہ زیادہ تھک جاتا تو تھوڑا اور سو کر اپنی تھکن اتار لیتا۔ نجانے نیند بھی کیوں اس پہ محبوبہ کی طرح عاشق تھی کہ تھوڑی سی خواہش پہ ڈھیروں نیند آنکھوں میں اتر آتی۔آنکھیں بند ہوتے ہی اس کے تخیلات کی دنیا جاگ اٹھتی۔کبھی وہ فائر جٹ طیارہ اڑاتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو زیر کر رہا ہوتا تو کہیں بلند و بالا پہاڑوں پر اس...