وائرل مینیا (Viral Mania) سارہ عمر۔ نئے زمانے میں اگر ہر نوجوان کو کوئی خبط پایا جاتا ہے تو وہ وائرل ہونے کا مینیا(جنون) ہے۔بس کچھ بھی ہو جائے ہم کسی طرح وائرل ہو جائیں۔اب اس کے لیے الٹے پلٹے ہاتھ پاؤں مارنے پڑیں یا درخت سے الٹا لٹکنا پڑے،پہاڑ کے کنارے کھڑے ہو کر سیلفی لینی پڑے یا مگر مچھ کے منہ پہ چمی،ہمیں کوئی غرض نہیں۔بس ہم کوئی بھی طریقہ کارگر ثابت ہو اور ہم وائرل ہو جائیں۔ پہلے زمانے میں ”وائرل“ اور ”وائرس“ یہ دونوں الفاظ بہن بھائیوں کی طرح بیماری کے لیے ہی استعمال ہوتے تھے۔ڈاکٹر اکثر کہتے نظر آتے۔ ”آج کل نیا وائرس آیا ہے،ہر طرف وائرل پھیل گیا ہے احتیاط کیجئے۔“ مگر اب زمانہ بدل گیا ہے تو وائرس اور وائرل کی تعریف بھی بدل گئی ہے۔پہلے جسم میں اور کمپیوٹر میں وائرس آتا تھا اب وہ ادھر سے نکل کر لوگوں کے دماغوں میں خناس کی صورت بھر گیا ہے۔اب اس نئے وائرس کا نام ہے ”ٹک ٹاک“، ”سنیپ چیٹ“، ”انسٹا“ اور انہی سے ملتے جلتے وائرس جو نز...
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings