Skip to main content

Posts

Showing posts from June, 2024

ہائے گرمی۔(طنز و مزاح)

 ہائے۔۔گرمی سارہ عمر  الریاض، سعودی عرب۔ اگر ملک میں اس وقت چاہت فتح علی خان کے گانے ”آئے ہائے،اوئے ہوئے بدو بدی“ کے علاوہ کوئی بات موضوع گفتگو ہے تو وہ ہے بلا کی گرمی اور ہیٹ ویو۔جس کے باعث ہر کوئی گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہی گانا گنگناتے پہ مجبور ہے۔”آئے ہائے،اوئے ہوئے۔۔گرما گرمی۔۔گرما گرمی۔“ پہلے ہی ہمارے ملک میں ہر شخص جلا،بھنا اور تپا رہتا ہے جیسے سب کے سب جلتے توے پہ بیٹھے ہوئے ہیں باقی کسر ہیٹ ویو نے پوری کر دی ہے۔ذرا سا گھر سے باہر نکل کر دیکھو تو لگتا ہے کہ سورج سر پہ کھڑا آپ کے دروازے پر ہی دستک دے رہا ہے۔بلکہ سورج کا بس چلے تو وہ بھی گھر کے اندر آ کر کچھ دیر اے سی کی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے لے۔ نوکری پیشہ افراد اور مزدور طبقہ تو خاص طور سے گرمی میں جلی کٹی سنانے پہ مجبور ہوتے ہیں۔سبزی والے سے بات کرو تو وہ کڑوے کریلے جیسی باتیں کرتا دکھائی دے گا۔گاہک اگر پوچھ بیٹھے: ”بھائی یہ آلو کتنے روپے کلو ہیں؟شکل سے تو مریل سے لگ رہے ہیں۔“ آگے سے وہ صافے سے پسینہ پوچھتے جواب دے گا: ”نہیں آپ نے ان کو اے سی لگوا کر دیا ہوا ہے کہ ان کا منہ سیدھا ہو؟اتنی گرمی میں تو بندوں کا منہ ڈینگ...

انٹرویو ہمایوں ایوب

      انٹرویو  ناول نگار، تجزیہ نگار و پبلشر ہمایوں ایوب   میزبان: سارہ عمر    دنیا میں بے شمار گم نام ہیرے موجود ہیں۔بالکل اسی طرح ہمارے اردگردبھی ایسے کئی گم نام ہیرے موجود ہوتے ہیں جنہیں کھوجنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کی چمک دمک صرف مخصوص حلقے تک ہی محدود ہوتی ہےتبھی ان ہیروں کی چکا چوند سے اکثریت محروم رہ جاتی ہے۔ آج ہم آپ کو ایک ایسے ہیرے سے ملوانے جا رہے ہیں جنہوں نے بحیثیت تجزیہ نگار اپنے نام کا لوہا منوایا مگر وہ دیگر سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہیں۔ان کا نام انسٹاگرام کی دنیا میں بے حد مشہور و مقبول ہے ۔جہاں کتب تبصرے کا نام لیا جائے وہاں ہمایوں ایوب کا نام لازم و ملزوم ہے۔یہ نئے دور کے مصنف ہیں جن کی یکے بعد دیگرے کئی کتب نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کے ناول منفرد اسلوب کے باعث خاصے مقبول ہوئے۔اب تک پانچ ناول اور کئی افسانے لکھ چکے ہیں۔ چلیں اب مزید انتظار کروائے بغیر آپ کو ان سے ملواتے ہیں تاکہ ان کو مزید جاننے کا موقع مل سکے۔ س: السلام علیکم ہمایوں بھائی!کیسے ہیں آپ؟ جواب: وسلام ! الحمد اللہ ٹھیک ٹھاک۔ آپ لوگوں کی دعائیں ہیں۔ س:اپنا مختصر...

بڑھاپا ،سیاپا

 بڑھاپا،سیاپا از سارہ عمر  سیانے کہتے ہیں  ”بڑھاپا اور سیاپا کبھی بتا کر نہیں آتا۔“ درحقیقت تو بڑھاپا خود ایک بہت بڑا سیاپا ہے اور مرد حضرات کے لیے تو شاید اسے سیاپا سمجھا بھی نہ جاتا ہو مگر خواتین کے لیے تو اس سے بڑا کوئی سیاپا پیدا ہی نہیں ہوا۔بڑھاپا اتنا خطرناک اور ہیبت ناک نہیں ہوتا جتنا یہ انکشاف ہولناک ہوتا ہے کہ بڑھاپے نے اب ہماری دہلیز پر دستک دے دی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عورتوں کی عمر اور مرد کی تنخواہ کبھی نہیں پوچھنی چاہیے۔نہ عورت نے کبھی اپنی عمر صحیح بتانی ہے اور نہ کبھی مرد نے اپنی تنخواہ۔ بلکہ یوں کہیے کہ عورت کی عمر تو چلو پھر بھی چہرے مہرے،چال ڈھال یا بچوں کی عمر سے اندازہ لگائی جا سکتی ہے مگر مرد کی تنخواہ تو آپ مرتے دم تک نہیں اگلوا سکتے کیوں کہ وہ جتنا کماتے ہیں اس سے زیادہ اڑاتے ہیں۔پھر بھی مرد کی تنخواہ اتنا سنگین موضوع اب بھی نہیں جتنا رنگین و سنگین موضوع عورتوں کی عمر ہے۔ ڈاکٹر یونس بٹ صاحب کیا خوب منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ: ”عورتوں کی آدھی عمر تو اپنی عمر کم کرنے میں گزر جاتی ہے۔ ایک ملازمت کے انٹرویو کے دوران انٹرویو لینے والے نے پوچھا، ”محترمہ!...