ہائے۔۔گرمی سارہ عمر الریاض، سعودی عرب۔ اگر ملک میں اس وقت چاہت فتح علی خان کے گانے ”آئے ہائے،اوئے ہوئے بدو بدی“ کے علاوہ کوئی بات موضوع گفتگو ہے تو وہ ہے بلا کی گرمی اور ہیٹ ویو۔جس کے باعث ہر کوئی گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہی گانا گنگناتے پہ مجبور ہے۔”آئے ہائے،اوئے ہوئے۔۔گرما گرمی۔۔گرما گرمی۔“ پہلے ہی ہمارے ملک میں ہر شخص جلا،بھنا اور تپا رہتا ہے جیسے سب کے سب جلتے توے پہ بیٹھے ہوئے ہیں باقی کسر ہیٹ ویو نے پوری کر دی ہے۔ذرا سا گھر سے باہر نکل کر دیکھو تو لگتا ہے کہ سورج سر پہ کھڑا آپ کے دروازے پر ہی دستک دے رہا ہے۔بلکہ سورج کا بس چلے تو وہ بھی گھر کے اندر آ کر کچھ دیر اے سی کی ٹھنڈی ہوا کا مزہ لے لے۔ نوکری پیشہ افراد اور مزدور طبقہ تو خاص طور سے گرمی میں جلی کٹی سنانے پہ مجبور ہوتے ہیں۔سبزی والے سے بات کرو تو وہ کڑوے کریلے جیسی باتیں کرتا دکھائی دے گا۔گاہک اگر پوچھ بیٹھے: ”بھائی یہ آلو کتنے روپے کلو ہیں؟شکل سے تو مریل سے لگ رہے ہیں۔“ آگے سے وہ صافے سے پسینہ پوچھتے جواب دے گا: ”نہیں آپ نے ان کو اے سی لگوا کر دیا ہوا ہے کہ ان کا منہ سیدھا ہو؟اتنی گرمی میں تو بندوں کا منہ ڈینگ...
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings