Skip to main content

Posts

Showing posts from May, 2024

سرکس ہی سرکس

 سرکس ہی سرکس از سارہ عمر  الریاض، سعودی عرب۔ ایک زمانہ تھا کہ زندگی میں ٹی وی اور موبائل نام کی کوئی تفریح نہیں تھی سو دور دراز گاؤں اور شہروں میں کچھ کچھ عرصے کے لیے میلے اور سرکس کا انعقاد کیا جاتا۔کہیں بندر کا تماشا ہوتا تو کہیں بھالو کا،کہیں کوئی رسی پہ دونوں ہاتھ چھوڑے چل رہا ہوتا تو کہیں کوئی ٹانگیں لکڑی کے پٹے میں پھنسائے الٹا لٹک رہا ہوتا۔کہیں کوئی بازی گر منہ سے آگ نکال رہا ہے تو کہیں کوئی شعبدہ باز ٹوپی سے کبوتر نکال کر شائقین سے داد سمیٹ رہا ہے۔ان سب میں موت کا کنواں، سر کٹا آدمی اور سر الگ دھڑ الگ والی مخلوق کو دیکھنے کے لیے سب سے زیادہ رش ہوتا تھا۔ پھر زمانہ بدلہ،پہلے ٹی وی آیا پھر موبائل اور پھر انٹرنیٹ کی چکاچوند نے سب کو حیران کر دیا۔ اب تو کسی سرکس کو دیکھنے کے لیے نہ پیسے دینے کی ضرورت ہے،نہ مہینوں کا انتظار۔جس جانب منہ اٹھائیے ایک سرکس لگا ہوا ہے اور مقامی شائقین اپنا قیمتی وقت بھرپور طور سے اس کو دے رہے ہیں۔ سڑک پہ نکلیے تو ایک سے بڑھ کر ایک تماشا آپ کا منتظر ہے۔سڑک پہ جہاں گاڑیوں کا اژدھام ہے،وہاں بیچ میں کوئی دو چار موٹر سائیکل سوار زگ زیگ موٹر سائیکل گز...

انٹرویو عبد اللہ وسیم

 انٹرویو  مصنف و ناول نگار   عبداللہ وسیم  میزبان:سارہ عمر  دنیا کے عظیم رہنماؤں میں سکندر اعظم کا نام بے حد مقبول ہے۔سکندر اعظم نے نہایت کم عمری میں دنیا فتح کی اور اس کے نام کی بازگشت آج تک تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔کچھ ایسے ہی کم عمر،اعلی صلاحیتوں کے مالک افراد ہمارے اردگرد موجود ہیں جن سے ہم بے خبر رہتے ہیں۔ان باصلاحیت نوجوانوں کا کام ہی ان کے نام کا لوہا منواتا ہے۔آج ہماری نشست میں بھی ایک نامور شخصیت شامل ہیں جن کا کام اتنا منفرد ہے کہ ان کے نام کی بازگشت آپ کو جلد ہی ہر سو سنائی دے گی۔ عبداللہ وسیم نئے دور کے مصنف ہیں جن کی یکے بعد دیگرے کئی کتب نے قارئین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کے ناول منفرد اسلوب اور نئے یونرا کے باعث قارئین کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ہماری بھی عبداللہ سے حال ہی میں ملاقات ہوئی ہے سو چلیے آج آپ کو ان سے ملواتے ہیں اور ان کی شخصیت کے بہت سے پہلو جن سے ابھی ہم روشناس نہیں ہوئے،اس سے پردہ اٹھاتے ہیں۔ س:السلام علیکم عبداللہ!کیسے ہیں آپ؟ ج:وعلیکم اسلام! اللہ کا شکر ٹھیک۔ امید ہے آپ بھی خیریت سے ہیں۔(الحمدللہ) س:اپنا مختص...

امی کے نام خط

امی کے نام خط سارہ عمر   السلام علیکم! امید کرتی ہوں آپ جہاں ہوں گی یقینا خوش ہوں گی۔بہت بار سوچا کچھ لکھوں مگر پھر لکھتے لکھتے رک جاتی ہوں ہمت نہیں کر پاتی۔خوشی کو لکھنا آسان ہے غم لکھنا بہت مشکل۔دل پہ جبر کرنا پڑتا ہے۔آج بہت ہمت کر کے کچھ الفاظ لکھنے کی سعی کی ہے۔کاش یہ آپ تک پہنچ پائیں۔ کہنے کو تو آپ کی بیٹی ایک مصنفہ ہے،الفاظ کے موتی پرو کے رنگ برنگ مالائیں تخلیق کر لیتی ہے مگر ماں سے محبت کا اظہار کرنے میں بہت چور ہے۔سال 2021 کا آخری مہینہ بھی اپنے اختتام کو ہے سال پہ سال بیت رہے ہیں مگر میں تو ابھی تک اسی لمحے میں قید ہوں جب آپ کے اس دارفانی سے رخصت ہونے کی خبر ملی تھی۔سنا تھا مرنے والوں پہ صبر آ جاتا ہے مجھے تو لگتا ہے ماں کی موت پہ کبھی صبر آ ہی نہیں سکتا۔یہ تو ساری زندگی کا روگ ہے جسے سینے سے لگائے ہم زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔کہنے کو دنیا کے سامنے ہنستے ہیں مگر چھپ چھپ کے اپنے آنسو اپنے ہی اندر گرا لیتے ہیں۔ دکھ اس بات کا نہیں آپ مجھے چھوڑ گئیں دکھ تو فقط اپنے پچھتاوں کا ہے کہ آپ کی خدمت کا حق ادا نہ کر سکی۔بیماری میں ملنے آئی بھی تو پردیسی بیٹی ہسپتال کے کوریڈور میں م...