Skip to main content

رائز کلب کے زیر اہتمام ورچوئل ایونٹ کا انعقاد

رائز کلب کے زیر اہتمام ورچوئل ایونٹ کا انعقاد.. رپورٹ سارہ عمر معاون لینا خان تصاویر سمیرا حامد (سعودی عرب ) سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری کبھی اپنی ثقافتی سرگرمیوں اور رسم و رواج کو بھول نہیں پائے-اس کی بڑی وجہ سعودی عرب میں ایسے افراد کی موجودگی ہے جو ہمیشہ کسی رنگا رنگ تقریب کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں-ان میں سمیرا حمید اور لینا خان بھی شامل ہیں جو گزشتہ کئی سال سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کرتی ہیں-اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے منطقہ شرقیہ کے صنعتی شہر الجبیل میں واقع رائز کلب کے زیر اہتمام کرونا کی احتیاطی کی تدابیر کے پیشِ نظر آن لائن ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ رائز کلب کو ۲۰۱۷ میں سعودی عرب کے صنعتی شہر الجبیل میں بنایا گیا جس کا اولین مقصد یہاں بسنے والے لوگوں کو بامقصد معلوماتی تفریح فراہم کرنا ہے۔اس کے علاوہ باصلاحیت لوگ اپنے ہنر کو شرکاء کے سامنے پیش کر کے داد بھی وصول کرتے رہتے ہیں- رائز کلب نے بچوں کے معلوماتی اور تعلیمی ورکشاپس کے علاوہ خواتین کی کافی سرگرمیاں بھی منعقد کیں-اس کے علاوہ سال کے آخر میں موسم سرما کے دنوں میں بڑے پیمانے پر بڑی سطح پر فیملی ایونٹ کرانا بھی رائز کلب کی روایت رہی ہے جس میں ہر عمر کے خواتین و حضرات اور بچوں کی بڑی تعداد شرکت کرتی ہے رائزکلب کی روایت رہی ہے کہ ہر سال موسم سرما میں ایک جامع اور رنگوں سے بھر پور محفل سجائی جاتی ہے کیونکہ اس کلب کا مقصد عوام کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنا اور اُن کو دنیا میں متعارف کرانا ہے۔ اس تقریب کی سرگرمیاں تین روز تک جاری رہیں- اِس تقریب میں دنیا بھر سے لوگوں نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا-ہر روز پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت شاہیر احمد،شہزین احمد اور منیب مرتضی نے حاصلِ کی- میزبانی کے فرائض سعودی عرب سے سمیرا حامد جبکہ قطر سے قطر ریڈیو کی ارجے مہوش خان نے نبھائے-ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی رنگا رنگ تقریبات ہماری ثقافت کی عکاس ہیں-کرونا وائرس کی وبا کے دوران اس طرح کی سرگرمیوں خوش آئند ہیں- دوسرے روز پروگرام کی میزبانی کے فرائض دبئی کلب کی نمائندہ رابعہ میر نے انجام دیئے جبکہ ان کی معاون میزبان سمیرا حامد نے ان کا بھرپور ساتھ دیا- آخری روز لینا خان نے ساتھی میزبان ندا خان کے ساتھ میزبانی کے فرائض انجام دئیے-امریکہ سے خصوصی شرکت اتالیق ارم بنتِ صفیہ نے براہ راست کی جوکہ اسلامی اصولوں پر اولاد کی تربیت کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتی ہیں- تین روز تک جاری رہنے والی اس محفل میں پاکستان کی معروف اداکارہ ثانیہ سعید سمیت مشہور مصنفہ اور ڈرامہ نگار مدیحہ شاہد بھی شامل تھیں، جنہوں نے ڈائجسٹ رائٹر ،ایک تھی رانیہ ،زویا صالحہ جیسے مشہور ڈرامے لکھے- اس کے علاوہ پاکستانی کمیونٹی میں خاص شہرت کی حامل محترمہ ڈاکٹر رضوانہ اکبر کے ساتھ انٹر ویو کیا گیا۔ شہرت کے آسمان کو چھوتے کچھ باصلاحیت بچوں نے بھی اس تقریب کو رونق بخشی-جن میں سرفہرست نعت خواں ناوال خان تھے، جن کی خوبصورت نعتیں بہت پسند کی جا رہی ہیں-ان کے علاوہ نعت خواں دانیہ اوزیر جوکہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہیں اس بزم کا حصہ بنیں جبکہ آخری روز قاری حافظ اذان بابر کو مہمان بنایا گیا-بصارت سے محروم آذان بابر باکمال ذہانت رکھنے کے باعث ہر کسی تعریف کا محور رہے-یہ سہہ روزہ ان لائن تقریب جو جبیل صنعتی شہر کی تاریخ میں پہلی دفعہ منعقد ہوئی جس میں روزانہ تین مرتبہ مختلف موضوعات کے ساتھ قرعہ اندازی بھی حاضرین کی دلچسپی کا مرکز رہی- اس تقریب کو کامیاب بنانے میں سمیرا حامد ،سیدہ نسلیا نشرہ،فوزیہ فہد،ثنا رضوان،نایاب عقیل ،نائلہ افضل،شگفتہ یاسر،ثنیہ احمد،صدف خالق،محترمہ صبا، محترمہ سدرہ،اور سعدیہ مرغوب کا بھرپور تعاون رہا-اس کے علاوہ مدیحہ جنید ،رابیل توقیر نے خاص طور پر اس تقریب میں شرکت کر کے اس کی رونق میں اضافہ کیا- بچوں میں محمد زیان اور رابعہ توقیر نے براہ راست شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا- رائز کلب کی اس آن لائن تقریب کو کامیاب بنانے کا سہرا سمیرا حامد کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی تکنیکی مہارت سے پوری دنیا کے حاضرین کو ایک مقام پر اکٹھا کرنے میں رائز کلب جُبیل کا ساتھ دیا۔اس موقع پر کلب کے صدر محترم طاہر خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سب کو اس شاندار ایونٹ کی کامیابی پر مبارک دی اور پوری ٹیم کے کام کو سراہا-ان کا کہنا تھا کہ بغیر تمام افراد کی مدد و معاونت کے اس رنگا رنگ تقریب کا انعقاد ممکن نہ تھا-انہوں نے خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے لیڈیز ونگ کی صدر مدیحہ کاشف ،پروگرام کی منتظمہ لینا خان، میزبان رابعہ میر اور ندا خان کی کاوشوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اس طرح کی رنگا رنگ محفلوں کا انعقاد ہوتا رہے گا تاکہ پاکستان کمیونٹی وطن سے دور اپنے ہم وطنوں کی کمی محسوس نہ کر سکے-آخر میں اس دعا کے ساتھ تقریب کا اختتام ہوا کہ اللہ تعالیٰ جلد ہمیں اس وبا سے نجات عطا فرمائے آمین ثم آمین-
#sarahomerswork #vertualevent #riseclubriyadh #sarahomerofficial #riyadhgatherings #riyadhevent #onlineevent #riyadhtour #riyadhattractions #riyadhartist #sarahomer #artbyfatima #riseclubjubail

Comments

Popular posts from this blog

انٹرویو مصنفہ سارہ عمر

 

انڈین کلچرل ویک، الریاض

انڈین کلچر ویک الریاض  رپورٹ سارہ عمر  گزشتہ کئی سالوں سے سعودی حکومت کی جانب سے موسم الریاض کا انعقاد کیا جاتا ہے جس کے ذریعے نہ صرف مختلف ممالک کی تہذیب و ثقافت کو اجاگر کیا جاتا ہے بلکہ دنیا بھر سے فنون لطیفہ سے وابستہ اداکار و فنکار اپنے فن کا مظاہرہ بھی کرتے ہیں۔سال 2024 میں موسم الریاض کا آغاز 13 اکتوبر سے ہوا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی الریاض سیزن کے تعاون سے حدیقة السعودی میں کلچرل ویک کا انعقاد کیا گیا ہے۔جس میں پاکستان ، بھارت، مصر،یمن،انڈونیشیا،بنگلہ دیش، سوڈان،فلپین کے ممالک شامل ہیں۔ اس سال کلچرل ویک میں ان ممالک کی تہذیب و ثقافت کو 49 دن تک فروغ دیا جائے گا۔اس سلسلے میں کلچرل پریڈ، میوزیکل کانسرٹ ،بچوں کے لیے خصوصی پلے ایریا، برڈ ایریا، ثقافتی رقص، کھانوں اور روایتی ملبوسات کے اسٹالز کا اہتمام کیا گیا۔ یہ ایونٹ الریاض سیزن،وزارة الاعلام( منسٹری آف میڈیا) اور امانة منطقة الرياض( الریاض ریجن منسپلٹی) کے تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔اس سلسلے کی پہلی کڑی انڈین کلچرل ویک تھا جس میں بڑی تعداد میں انڈین فنکاروں نے شرکت کی اور اپنے فن کے جوہر دکھائے۔انڈیا سے آئے فنکاروں میں ہ...

انٹرویو کالم نگار و صحافی حسنین جمال صاحب

 انٹرویو معروف کالم نگار و صحافی حسنین جمال             میزبان سارہ  عمر  ادب اور ادیب کا تعلق تو ہمیشہ سے ہی بہت گہرا ہے اور ان دونوں کے بیچ اس رشتے کو قائم رکھنے والی شے ”کتاب“ہے۔اردو ادب پہ بے شمار کتب لکھی گئیں مگر اس ادبی دنیا بہت کم نام ایسے ہیں، جنہوں نے آتے ہی اپنے قدم اس مضبوطی سے جما لیے کہ ان کے نام کی گونج چار سو سنائی دینے لگی۔ آج جس شخصیت سے آپ کی ملاقات ادب اور ادیب کی محفل میں کروائی جا رہی ہے،وہ کسی تعارف کی محتاج نہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ان کا نام ہی کافی ہے۔شاید ہی نوجوان نسل کا کوئی قاری ایسا ہو جو ”داڑھی والا“ سے ناواقف ہو۔ ہماری آج کی مہمان شخصیت ہیں معروف کالم نگار،بلاگر، وی لاگر،تجزیہ و تبصرہ نگار حسنین جمال صاحب۔حسین جمال صاحب پشاور میں پیدا ہوئے اور پڑھائی کے مراحل ملتان میں طے کیے۔ ان کا نام دادا اور نانا ن مل کر رکھا، دادا حسن رکھنا چاہتے تھے، نانا کی خواہش تھی کہ حسین ہو، تو دونوں کو ملا کر حسنین رکھ دیا گیا۔ ان کے کالم ملک کے مشہور و معروف اخبارات و جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ انڈیپنڈنٹ اردو کے...