Skip to main content

Posts

Showing posts from 2021

سعودی عرب میں کلچرل ایونٹ کا انعقاد

  سعودی عرب کے قومی دن کے موقع پر کلچرل ایونٹ کا انعقاد سارہ عمر  الریاض سعودی عرب.  آزاد قومیں ہمیشہ ہی اپنے قومی دن نہایت جوش و جذبے سے مناتی ہیں۔ہر سال 23 ستمبر کو سعودی عرب کا قومی دن "یوم الوطنی" جوش و خروش سے منایا جاتا ہے-اس روز نا صرف عام تعطیل ہوتی ہے بلکہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری عمارات پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے-تمام عمارات کو بالخصوص سبز رنگ کی روشنیوں اور برقی قمقموں سے منور کیا جاتا ہے-اشیائے خوردونوش سے لے کر ضرورت کی ہر چیز پر سیل لگائی جاتی ہے- بازاروں میں جابجا قومی پرچم، جھنڈیاں، سبز کپڑے، بیج اور یوم الوطنی کی مناسبت سے دیگر اشیاء نظر آتی ہیں- اس قومی تہوار کو ہر سال صرف سعودی ہی نہیں بلکہ خارجی اور غیر ملکی بھی نہایت جوش و جذبے سے مناتے ہیں-23 ستمبر 2021 کو سعودیہ عرب کا 91 یوم الوطنی منایا گیا-اس سال بھی ہر سال کی طرح اس قومی دن پر بے حد جوش و جذبہ دیکھائی دیا-کرونا وائرس کی وبا کے بعد جہاں چھوٹی عید کی گہما گہمی کرفیو کی نذر ہوئی وہیں یوم الوطنی کے موقع پر شہریوں کی بڑی تعداد اس تہوار کو منانے کے لیے سڑکوں، پارکوں، مالز اور بازاروں میں امڈ آئی-حک...

کیا میں بنت حوا ہوں؟

کیا میں بنت حوا ہوں؟ سارہ عمر، الریاض، سعودی عرب۔ چودہ اگست کے دن جب سارا ملک آزادی کی خوشیاں منانے میں مصروف ہے۔کہیں باجے کہیں پٹاخے،کہیں جھنڈیاں،کہیں رنگ و بو کا میلہ غرضیکہ ہر جانب رونق اور عید کا سماں ہے۔ہر شخص اس خوشی کو اپنے انداز میں منا رہا ہے۔ایسے میں بدنام زمانہ ایپ "ٹک ٹاک" پہ ایک دوشیزہ جلوہ افروز ہوتی ہے اور اپنے فالورز کو بتاتی ہے کہ میں مینار پاکستان آ رہی ہوں جس نے بھی مجھ سے ملنا ہے وہ وہاں آ جائے۔"ٹک ٹاک"آج کل کے زمانے کا سستا مجرا بن چکا ہے جہاں بغیر پیسوں کے آپ تماش بینوں میں شامل ہو کر فل شو کے مزے لوٹ سکتے ہیں۔فحاشی پھیلنے کے اس ذریعے کو کئی بار پاکستان میں بین کیا گیا ہے مگر پھر اس کی پابندی ہٹا دی جاتی ہے۔"ٹک ٹاک"ہماری عوام کی سب سے سستی تفریح کا ذریعہ بن چکی ہے۔اچھے گھرانوں کی لڑکیاں جو عام حالات میں اپنے بھائی کے دوستوں کے سامنے بھی نہ آئیں وہ بھی ویوز اور فالورز کے چکر میں ہر ایرے غیرے کو اپنی ادائیں دیکھا رہی ہوتی ہیں۔ چودہ اگست میں مینار پاکستان پہ ایک واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے اور پھر تین دن بعد سوشل میڈیا پہ شور اٹھنا شروع ہو ج...

وقت وقت کی بات ہے

  وقت وقت کی بات ہے از سارہ عمر  الریاض سعودی عرب  وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر  عادت اس کی بھی آدمی سی ہے  Time and tide waits for none "وقت وقت کی بات ہے" یہ کہاوت تو بہت سنی ہو گی مگر یہ کہاوت سنائی کسے جاتی ہے یہ معلوم نہیں ہو گا-یہ بات ہر اس شخص کو کہی جاتی ہے جو اپنے مقام سے کافی آگے جا چکا ہو یعنی ترقی کر کے کامیاب ہو چکا ہو یا پھر ناکام ہو چکا ہو-وقت ضائع کرنے والے ہمیشہ ہی نقصان اٹھاتے ہیں جبکہ وقت کا بھرپور استعمال کرنے والے دنیا میں کامیاب و کامران ہوتے ہیں- #waqatwaqtkibaat #timewaitsfornone #timemanagement #timewasters #sarahsblog #myviews #dailykashmir #newspapersirzameen #sarahsarticles #sarahsblog #sarahomerwrites #writersarahomer #writerandauthor ہر انسان کے پاس دن کے چوبیس گھنٹے ہی میسر ہیں پھر ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ایک انسان انتہائی کامیاب ہوتا ہے جبکہ دوسرا انتہائی ناکام-ایک شخص تمام کام مکمل کرنے کے بعد کئی دیگر سرگرمیوں میں بھی مصروف عمل ہوتا ہے جبکہ دوسری جانب ایک وقت ضائع کرنے والا انسان ایک ہی عذر پیش کرتا ہے کہ ابھی میرے پاس وقت نہیں-اگر کسی...

تبصرہ محبت فاتح عالم ٹھہری

تبصرہ ناول محبت فاتح عالم ٹھہری   مصنف ہمایوں ایوب  تبصرہ نگار سارہ عمر  محبت فاتح عالم ٹھہری سوہنی ڈائجسٹ پہ شائع ہونے والا ایک بہترین ناول ہے جو کہ مصنف ہمایوں ایوب کی تحریر ہے۔اگر کہا جائے کہ مصنف ہمایوں ایوب انسٹاگرام کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ہیں تو کچھ غلط نہ ہو گا۔اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے مصنف نے اپنی تحریر کے ذریعے قارئین کے دل موہ لیے۔اس ناول میں بھی اسلام آباد کے پہاڑوں سے لے کر زمین پہ اترتے بادلوں تک اسلام آباد کی خوبصورتی کی ایسی بہترین منظر نگاری کی گئی ہے کہ لگتا ہے آپ کے سامنے اسلام آباد کی تصویر پینٹ کر دی گئی ہے۔انسٹاگرام کی دنیا میں اپنے دلچسپ اور فکاہیہ تبصروں سے جگہ بنانے والے ہمایوں بھائی نے اپنی تحریر میں خوبصورت رشتوں اور جذبوں کو ایسی ڈوری پرویا ہے کہ قارئین داد دئیے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔ بات کرتے ہیں محبت فاتح عالم ٹھہری کی جسے پڑھ کر میں بیک وقت حیران و پریشان رہ گئی۔بھئی واہ!افسوس ہے کہ ایسی تحریر پڑھنے میں بہت دیر کر دی۔اس کی تعریف کے لیے الفاظ نہیں کس کس منظر اور مکالمے کی تعریف کی جائے کہ ناول میں بہتے پانی جیسی روانی ہے۔ سوا تین سو صفحا...

نیا سال، نیا عہد

- نیا سال، نیا عہد از سارہ عمر 2021 کا سورج اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہا ہے-دن گزرتے ہیں اور سال بیتتے جاتے ہیں-ہر سال ایک نئے جوش و جذبے سے کچھ کرنے کا عزم سر اٹھاتا ہے مگر پھر یہ عزم کچھ ہی دنوں میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے-ہر نئے سال پہ نئے عہد، نئے وعدے، نئی تدبیریں کی جاتی ہیں مگر ان کو عملی جامہ پہنانے کا خواب خواب ہی رہ جاتا ہے-ایسا کیوں؟ نیا سال آ جاتا ہے مگر ہمارا حال پرانا ہی رہتا ہے-ہم انہی حالات میں اپنے مقرر کردہ دائرے کے اندر محدود رہتے ہیں کبھی اس دائرے سے باہر آ کر کام کرنے کی کوشش نہیں کرتے-یہ دائرہ آرام طلبی اور کاہلی کا دائرہ ہے جس کے اندر رہنے والے ہمیشہ خود کو ایک کے بعد ایک عذر دیتے نظر آتے ہیں- ان کے یہ عذر ان کے ساتھ ساری زندگی ایسے دوڑتے ہیں جیسے رگوں میں خون- "تم نے تو کہا تھا، اس سال بہت محنت کرو گے" جب ان سے سوال کیا جائے تو جواب کسی عذر کی صورت میں ہی ملتا ہے- "اس سال تو بیمار تھا نا، اس سال تو چچا کا انتقال ہو گیا، اس سال تو مجھے کتابیں ہی نہیں مل سکیں، اس سال تو اچھے استاد نہیں ملے، اگلے سال ضرور محنت کروں گا اور اول آؤں...

رائز کلب کے زیر اہتمام ورچوئل ایونٹ کا انعقاد

رائز کلب کے زیر اہتمام ورچوئل ایونٹ کا انعقاد.. رپورٹ سارہ عمر معاون لینا خان تصاویر سمیرا حامد (سعودی عرب ) سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری کبھی اپنی ثقافتی سرگرمیوں اور رسم و رواج کو بھول نہیں پائے-اس کی بڑی وجہ سعودی عرب میں ایسے افراد کی موجودگی ہے جو ہمیشہ کسی رنگا رنگ تقریب کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں-ان میں سمیرا حمید اور لینا خان بھی شامل ہیں جو گزشتہ کئی سال سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے مختلف تقریبات کا انعقاد کرتی ہیں-اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے منطقہ شرقیہ کے صنعتی شہر الجبیل میں واقع رائز کلب کے زیر اہتمام کرونا کی احتیاطی کی تدابیر کے پیشِ نظر آن لائن ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ رائز کلب کو ۲۰۱۷ میں سعودی عرب کے صنعتی شہر الجبیل میں بنایا گیا جس کا اولین مقصد یہاں بسنے والے لوگوں کو بامقصد معلوماتی تفریح فراہم کرنا ہے۔اس کے علاوہ باصلاحیت لوگ اپنے ہنر کو شرکاء کے سامنے پیش کر کے داد بھی وصول کرتے رہتے ہیں- رائز کلب نے بچوں کے معلوماتی اور تعلیمی ورکشاپس کے علاوہ خواتین کی کافی سرگرمیاں بھی منعقد کیں-اس کے علاوہ سال ...