Dont copy without my permission میرے درد کی تجھے کیا خبر از سارہ عمر قسط 3 دو ماہ بعد ہی کومل نے خوشخبری سنائی تھی- وہ امید سے تھی- نئی نئی شادی تھی سب کو ہی اس خبر کا انتظار تھا- رمشا کو بھی دل سے خوشی ہوئی- اسے پتہ تھا اس کا تو خیال نہیں رکھا گیا لیکن اب اس کی دیورانی بھی اس کی دوست اور بہنوں کی طرح ہے- جتنا ہو سکا اس کا خیال رکھوں -وہ کوشش کرتی کہ کومل زیادہ کھڑے ہونے والے کام نہ کرے- کومل خود بھی اپنا خیال رکھتی- میکہ بھی قریب تھا اور شوہر بھی جان چھڑکنے والا- اس لیے زیادہ مسئلہ نہ ہوا- البتہ ثوبیہ کو جب سے پتہ چلا تھا- اس نے کسی خوشی کا اظہار نہ کیا-اس کا رویہ کومل سے ذرا کچھا کچھا تھا-رمشہ نے نوٹ تو کیا لیکن یہ رویہ اس کی سمجھ سے باہر تھا-ناجانے اس نے کیوں منہ بنایا ہوا تھا-ظاہر ی سے بات ہے شادی کے بعد بچوں کا سلسلہ تو چل ہی نکلتا ہے- اس میں حیرت کی کیا بات تھی؟ رمشہ کو کچھ سمجھ نہ آئی- کومل اپنے ہی حال میں گم رہنے والی تھی تبھی وہ اس رویے کو محسوس نہ کر سکی- .................................. آخر دو ماہ بعد پتہ چل ہی گیا کہ ثوبیہ کا رویہ کومل سے کھنچا کھنچا کیوں تھا جب وہ ...
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings