اگلے دن صبح دس بجے میں اسے جگہ پہنچ گیا. مجھے لے کے ماہ نور ایک پارک میں بیٹھ گئی.اس ماہ جبین کا نام ماہ نور تھا. اس کے والد کے انتقال کو تین سال گزر گئے تھے اور اس کی والدہ ڈائلیسس پہ تھیں. ایک چھوٹی بہن جو پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی وہی اس کا واحد سہارا تھی. ایسے حالات میں تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے کا سوچا تو میٹرک پاس لڑکی کو کہیں پر بھی اچھی نوکری نہ مل سکی. اسکی کسی جاننے والی نے اسے اس ہوٹل کی نوکری کا بتایا تھا جہاں تماش بین روزانہ ہزاروں روپے لٹا دیتے ہیں. ہوٹل میں اس نے باقاعدہ رقص کی مہارت حاصل کر کے یہ کام شروع کر دیا تھا. اس کام میں اتنا پیسہ تھا کہ جتنا وہ چھ مہینے کی نوکری میں بھی نہ کما سکتی. اس کا ایک مخصوص رکشے والا ہر روز اسے مخصوص وقت پر اس کے گھر سے اٹھاتا اور رات کو گلی کنارے چھوڑ دیتا. اس کا گنجان آباد علاقے میں جلدی سو جانے والے لوگوں کو خبر بھی نہ تھی ان کے پڑوس میں رہنے والے اس گھر میں کفالت کون کر رہا ہے. وہ چاہتی تھی اگر اسے شادی کرکے سہارا دوں تو اس کی والدہ اور بہن کا خرچہ بھی میں اٹھاؤں. میں ان سب چیزوں کے لیے راضی تھا. مجھے ان باتوں پر کوئی اعتراض نہ ت...
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings