Skip to main content

Posts

Showing posts from December, 2018

خالی ہاتھ حصہ دوئم

اگلے دن صبح دس بجے میں اسے جگہ پہنچ گیا. مجھے لے کے ماہ نور ایک پارک میں بیٹھ گئی.اس ماہ جبین کا نام ماہ نور تھا. اس کے والد کے انتقال کو تین سال گزر گئے تھے اور اس کی والدہ ڈائلیسس پہ تھیں. ایک چھوٹی بہن جو پانچویں جماعت میں پڑھتی تھی وہی اس کا واحد سہارا تھی. ایسے حالات میں تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے کا سوچا تو میٹرک پاس لڑکی کو کہیں پر بھی اچھی نوکری نہ مل سکی. اسکی کسی جاننے والی نے اسے اس ہوٹل کی نوکری کا بتایا تھا جہاں تماش بین روزانہ ہزاروں روپے لٹا دیتے ہیں. ہوٹل میں اس نے باقاعدہ رقص کی مہارت حاصل کر کے یہ کام شروع کر دیا تھا. اس کام میں اتنا پیسہ تھا کہ جتنا وہ چھ مہینے کی نوکری میں بھی نہ کما سکتی. اس کا ایک مخصوص رکشے والا ہر روز اسے مخصوص وقت پر اس کے گھر سے اٹھاتا اور رات کو گلی کنارے چھوڑ دیتا. اس کا گنجان آباد علاقے میں جلدی سو جانے والے لوگوں کو خبر بھی نہ تھی ان کے پڑوس میں رہنے والے اس گھر میں کفالت کون کر رہا ہے. وہ چاہتی تھی اگر اسے شادی کرکے سہارا دوں تو اس کی والدہ اور بہن کا خرچہ بھی میں اٹھاؤں. میں ان سب چیزوں کے لیے راضی تھا. مجھے ان باتوں پر کوئی اعتراض نہ ت...

موتی

یہ پچھلے سال کی بات ہے. میری بہن کی شادی تھی میں بہت مصروف تھی. انہی دنوں میں اپنے بیٹے کے ساتھ بازار گئی. گاڑی میں بیٹھے اسے ایک موتی ملا. وہ اسے دیکھ رہا تھا. میں نے بھی زیادہ دھیان نہیں دیا کہ پانچ سال کا بچہ ہے. میرا دھیان کسی دوسری طرف تھا جب اس نے وہ درمیانے سائز کا موتی لے کر اپنی ناک میں ڈال لیا. میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے. وہ موتی سانس لینے کی وجہ سے ناک کی ہڈی تک چلا گیا. مجھے اس نے بتایا تک نہیں کہ ڈانٹ پڑے گی. اگلے دن اس کی ناک سے خون سا نکلا. میں نے پونچھا اور اس کی ناک صاف کرنے لگی تو وہ چیخا. مجھے تب بھی سمجھ نہیں آئی کہ ہوا کیا ہے. صبح اسکول گیا واپس آ کر سویا تو مجھے لگا اس کی ناک میں کچھ سفید ہے لیکن جب ہاتھ لگوں تو وہ چیخے.. شام کو میں نے ہوم ورک کروانے کے لیے بیٹھایا. (میں جب بھی اسے ہوم ورک کرواؤں اور نہ کرے تو بہت غصہ آتا ہے.) اس دن بھی یہی ہوا وہ کام کر ہی نہیں رہا تھا. میں نے غصے میں آ کر ایک تھپڑ اس کے سر پہ رسید کیا کہ ایک دم ناک سے موتی نکل کر فرش پہ گر گیا. یہ دیکھ کر میری چیخیں نکل گئیں... میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنا بڑا بچہ...

خالی ہاتھ

ہال میں روشنیاں جگمگا رہیں تھیں. رقص و سرور کی محفل اپنے عروج پہ تھی. ہر کوئی مست تھا.صرف ایک وہی تھا جسے سوائے اس حسینہ کو دیکھنے کے کوئی اور کام ہی نہ تھا. وہ حسین تھی، خوبصورت تھی اور اس محفل کی جان تھی. اس کے دراز گیسو، لمبی غلافی آنکھیں، سرخ انگارہ سرخی سے سجے ہونٹ جہاں اسکو اپنی جانب کھینچ رہے تھے وہیں اس کے جسم کے نشیب و فراز، اس کے رقص کی رنگینی ہر ایک کے لیے ہی مرکز نگاہ بنی ہوئی تھی. بھلا کوئی اتنا خوبصورت بھی ہوتا ہے؟وہ حیران تھا.. .............................. کالج تک تو کبھی وہ کو ایجوکیشن میں بھی نہیں پڑھا تھا مگر یونیورسٹی میں نہ صرف کو ایجوکیشن تھی بلکہ اسے اپنے آبائی گاؤں کی حویلی چھوڑ کر شہر آنا پڑا تھا. جیسے ماں کی گود سے نکلا بچہ کھو جائے تو پریشان ہو جاتا ہے بالکل ایسا ہی حال منیر نواز ملک کا بھی تھا. جس کی حویلی میں بڑے بڑے زنان خانے اور مردان خانے تھے. وہ لڑکیوں کے ساتھ کلاس میں کیسے بیٹھتا؟ شہر کے لڑکے لڑکیوں کے ساتھ کرسیاں ڈھونڈتے تھے اور وہ کسی الگ تھلگ جگہ کی تلاش میں رہتا.. اوو شرمیلی بنو.. ذرا چوڑیاں پہنا دو.. لڑکوں نے بھی اب مذاق اڑانا شروع کر دیا تھا....