امرتسر سے لاہور سارہ عمر اس داستان کا آغاز امرتسر کے ایک چھوٹے سے گاؤں سلطان پور سے ہوا تھا۔سہیل احمد نے جب سے آنکھ کھولی تھی برصغیر پاک و ہند میں ہندؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر دیکھا تھا۔کچھ علاقے تھے جہاں کچھ نہ کچھ فساد چلتے رہتے۔انگریزوں نے تو ہندؤں اور مسلمانوں کو اپنی طاقت سے زیر کر رکھا تھا۔جیسے جیسے وہ بڑا ہوتا گیا اسے اس ریاست کے حالات سمجھ آنے لگے تھے۔وہ مسلمان تھے، سو وہ دوہرے غلام تھے۔انگریزوں کے بھی اور ہندؤں کے بھی۔زمین، اناج پہ سارا قبصہ انگریزوں کا تھا۔حکومت ان کی تھی۔سو جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے قانون کے تحت جو سرکشی کی کوشش کرتا،وہ بری طرح آمریت کے قدموں تلے کچلا جاتا۔ہندو تو اپنی چالاکی، چاپلوسی اور اچھی تعلیم کے توسط سے کچھ بہتر عہدے حاصل کر پائے تھے تبھی مسلمان دھیرے دھیرے اس سیاست اور تحریک کو سمجھنے لگے۔ الگ مملکت اور ریاست کا قیام وہ خواب تھا جو اقبال نے دیکھا تھا لیکن اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا جان جوکھوں کا کام تھا۔وہ چھوٹا سا تھا جب اپنے والد اور دادا کو مسلم لیگ کے جلسوں میں شرکت کرتے دیکھتا۔وہ گھنٹوں مستقبل کے متعلق باتیں کرتے ...
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings