سبز ہلالی پرچم سارہ عمر الریاض سعودی عرب گہرے سبز ریشم کا کپڑا اس کی ہتھیلیوں میں آبشار کی مانند پھسلتا جا رہا تھا۔اس کپڑے کو سیتے سوئی کئی بار اس کے ہاتھوں میں چبھ کر ننھے منے خون کے باریک قطرے نکال گئی۔وہ ہاتھوں کے زخم کی پرواہ کیے بغیر اسے سیتی رہی۔متورم آنکھیں کئی گھنٹوں مستقل رونے کا پتہ دیتی تھی۔لرزتی پلکوں پہ اپنے آنسو ضبط کرتی وہ اب سفید دھاگے سے بھرائی مکمل کر رہی تھی۔وہ ایک ایسا ادھورا چھوڑا گیا کپڑا تھا جس کے پیچھے ایک دور کی مکمل داستان تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مارچ کا مہینہ تھا اور ملک کے طول و عرض میں عجیب بے چینی اور افراتفری کی فضا قائم تھی۔وہ سرگوشیاں جو فقط چند افراد تک محدود تھیں 23 مارچ کو کھل کر ”قرار داد پاکستان“کی صورت سامنے آ گئیں تھیں۔ ”بالاخر مسلم لیگ نے مسلمانوں کی اکثریت والے علاقوں کو جدا گانہ حیثیت دینے کی تجویز پیش کی ہی دی“ ابا جو ابھی قرار داد پاکستان کے جلسے کے متعلق سن کر واپس آئے تھے اپنی ٹوپی میز پہ رکھتے بتانے لگے اور نادیہ کا اشتیاق قابلِ دید تھا۔ ”اب کیا مسلمانوں کا الگ علاقہ ہو گا؟“ نو سالہ نادیہ حیرت سے آنکھیں ...
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings