- نیا سال، نیا عہد از سارہ عمر 2021 کا سورج اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہا ہے-دن گزرتے ہیں اور سال بیتتے جاتے ہیں-ہر سال ایک نئے جوش و جذبے سے کچھ کرنے کا عزم سر اٹھاتا ہے مگر پھر یہ عزم کچھ ہی دنوں میں راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جاتا ہے-ہر نئے سال پہ نئے عہد، نئے وعدے، نئی تدبیریں کی جاتی ہیں مگر ان کو عملی جامہ پہنانے کا خواب خواب ہی رہ جاتا ہے-ایسا کیوں؟ نیا سال آ جاتا ہے مگر ہمارا حال پرانا ہی رہتا ہے-ہم انہی حالات میں اپنے مقرر کردہ دائرے کے اندر محدود رہتے ہیں کبھی اس دائرے سے باہر آ کر کام کرنے کی کوشش نہیں کرتے-یہ دائرہ آرام طلبی اور کاہلی کا دائرہ ہے جس کے اندر رہنے والے ہمیشہ خود کو ایک کے بعد ایک عذر دیتے نظر آتے ہیں- ان کے یہ عذر ان کے ساتھ ساری زندگی ایسے دوڑتے ہیں جیسے رگوں میں خون- "تم نے تو کہا تھا، اس سال بہت محنت کرو گے" جب ان سے سوال کیا جائے تو جواب کسی عذر کی صورت میں ہی ملتا ہے- "اس سال تو بیمار تھا نا، اس سال تو چچا کا انتقال ہو گیا، اس سال تو مجھے کتابیں ہی نہیں مل سکیں، اس سال تو اچھے استاد نہیں ملے، اگلے سال ضرور محنت کروں گا اور اول آؤں...
This is the blog of SARAH OMER A new writer from Riyadh KSA. Writing for her passion to write. Writing to make this world a peaceful place to live. Hope you will enjoy her writings